کیا روس پرعائد پابندیاں چینی معیشت کو نقصان پہنچارہی ہیں؟



خام تیل کا سب سے بڑا خریدار چین یوکرین پر روس کے حملے کے بعد روس پر عائد اقتصادی پابندیوں سے سخت متاثر ہوا ہے۔ یہاں تک کے چینی حکومت کے عہدیداروں نے بھی معاشی مشکلات کی پیش گوئی کرنا شروع کردی ہے۔

چین کے وزیر تجارت وانگ وینٹاؤ نے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ” اس سال غیر ملکی تجارت پر بہت زیادہ دباوٗ ہوگا اور صورتحال بہت سنگین ہوگی۔

موجودہ پابندیوں کی وجہ سے حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کردیاہے۔ اس کے نتیجےمیں چین پر بھاری مالی بوجھ پڑے گا، جو تیل درآمد کرنےوالا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اقتصادی پابندیوں سے چین اور روس کے درمیان 147 ارب ڈالر کی سالانہ تجارت متاثر ہوسکتی ہے۔ روسی اداروں کو فنڈ کی منتقلی اب امریکی ڈالر میں نہیں ہوسکتی جس میں دنیا کا چھیاسی فیصد لین دین ہوتا ہے۔

برلن میں قائم گنٹر انسٹی ٹیوٹ فار چائنا اسٹڈیز کے تجزیہ کار جیکب گنٹر نے وی او اے کو بتایا کہ چینی کمپنیاں ایک مشکل صورت حال میں پھنس گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر چین کارپوریشنز روس کے ساتھ کاروباری روابط برقرار رکھتی ہیں تو امریکہ اور یورپی یونین میں کام کرنے والی ان کی کمپنیاں پابندی کے ثانوی اثرات کا شکار ہوسکتی ہیں۔

روس سے چین کی خریداریوں کا دو تہائی حصہ توانائی درآمدات پر مشتمل ہے۔ اب تک تو روس کو سوئفٹ کے نظام سے منقطع کرنے کا اثر توانائی کی خرید و فروخت کے لیے ہونے والی ادائیگیوں پر نہیں پڑا۔یہ تحفظ بنیادی طور پر ان یورپی ممالک کےلیے ہے جو روسی گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں،لیکن ساتھ ہی یہ چین کے توانائی سے متعلق لین دین کوبھی تحفظ فراہم کرے گا۔

سوئفٹ، یعنی سوسائٹی فار ورلڈ وائڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکشن ، بین الاقوامی سطح پر بینکوں کے درمیان رقم کی منتقلی کا نظام ہے۔ مالی معاملات میں مشاورت دینے والی کمپنی کیپیٹل اکنامکس کے چیف ایشیا اکانومنسٹ مارک ولیمز کہتے ہیں کہ روسی حملے کے بعد سے بہت سی درآمدی اشیاٗ کی قیمتو ں میں اضافہ ہوا ہے۔

بقول مارک ولیمز ،ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا بیجنگ گیس کی وسیع خریداری سمیت روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارت کے لیے اپنے حالیہ معاہدے پر قائم رہےگا؟ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے چار فروری کو سرمائی اولمپکس کے افتتاح کے موقع پر بیجنگ کے دورےمیں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

چین برسوں سے امریکی ڈالر پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کرتا آ رہا ہے اور اس نے روس سمیت متعدد تجارتی شراکت داروں سے کرنسی کے تبادلے کے معاہدے کیے ہیں۔دو ہزار پندرہ میں بیجنگ نے سوئفٹ کے متبادل کے طور پر کراس بارڈر انٹر بینک ادائیگی سی آئی پی ایس کا نظام متعارف کرایا تھا جو کہ یوان میں ادائیگی اور کلیئرنگ کا بین الااقوامی نظام ہے۔

کارنیل یونیورسٹی میں ایمرجنگ مارکٹس انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر لورڈیس کاسانوا نے وی او اے کو بتایا کہ ” یہ دیکھنا باقی ہےکہ سی آئی پی ایس کیسے کام کرے گا اور کیا یہ سوئفٹ کے ممکنہ مقابل کے طور پر کام کرسکتا ہے؟”

کیپٹل اکنامکس کے مارک ولیمز نے کہا کہ اگر چین روس کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ لین دین کے لیے اس نظام کو استعمال کرتا ہے تو بھی سی آئی پی ایس سسٹم امریکی مداخلت سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ۔ ا س وقت سترہ روسی بینک سی آئی پی ایس سسٹم سے منسلک ہیں۔

انھوں نے کہا کہ روسی بینکوں کا لین دین بھی مغربی پابندیوں کے تابع ہے، جبکہ سی آئی پی ایس ادائیگیوں کا نظام امریکی بینکنگ نظام سے منسلک نہیں ہے، لیکن اس کے ذریعے کی جانےوالی ادائیگیاں جو کہ امریکی پابندیوں کو نظرانداز کررہی ہوں ، ان میں ملوث افراد پر پابندی عائد ہوسکتی ہے ۔ اور یوں روس اور چین کے درمیان دو طرفہ لین دین کے لیے سی آئی پی ایس بھی ایک کم موثر نظام ہو جاتا ہے۔



Source link