کیا چین نے اپنے ’بہترین دوست‘ روس سے منہ موڑ لیا ہے؟



چین نے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں روس کے خلاف امریکہ کی قرار داد کو ماسکو کے ساتھ مل کر ویٹو کرنے سے انکار کیا ہے۔

چین نے اگرچہ اس قرارداد پر اپنا ووٹ نہیں دیا البتہ بیجنگ نے حالیہ دنوں میں ایسے بیانات دیے ہیں جو روس کے لیے انتہائی مایوس کن ہو سکتے ہیں۔

چین کے اقوامِ متحدہ میں سفیر زہانگ جون نے ایک بیان میں یوکرین کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام کی بات کی ہے جیسے اس پر روس کی جانب سے مداخلت کی گئی ہو۔

زہانگ نے اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین کو دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان تنازع کا محاذ ہونے کے بجائے مغرب اور مشرق کے درمیان ایک پل ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے اگرچہ اس بات پر بھی زور دیا کہ نیٹو کے اپنے دائرہ اختیار میں اضافے اور یوکرین کو رکنیت دینے کے بارے میں روس کے خدشات کو بھی سمجھنا چاہیے۔

چین علاقائی سالمیت اور سلامتی کے مؤقف کو بار بار متنازع موضوعات کے سلسلے میں استعمال کرتا رہا ہے جن میں تبت، سنکیانگ اور ہانگ کانگ کا معاملہ شامل ہے۔

چین نے امریکی افواج کے افغانستان میں موجودگی کے بارے میں بھی یہی مؤقف اپنایا تھا۔

ایک سابق امریکی انٹیلی جنس افسر جان کلور نےسوشل میڈیا کہا کہ روس کا یوکرین کے کچھ حصے پر قبضہ چین کے اس مؤقف کے خلاف ہے کہ ملکی سالمیت مقدس ہے۔

چین کے یوکرین کے معاملے میں غیر جانب دار مؤقف اپنانے سے مبصرین کے مطابق کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں کہ کیا بیجنگ کو آخری لمحے میں اس بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں یا روس اپنی فوجی جارحیت میں اس حد تک آگے بڑھ گیا ہے جس کی بیجنگ کو امید نہیں تھی؟

چین کے سرکاری میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے ایک صحافی نے وائس آف امریکہ کے سائبل داس گپتا سے گفتگو کرتے ہوئے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ مغربی ممالک کی جانب سے روس کے خلاف اتحاد اور سخت مؤقف حیران کن ہے۔ چین کو بھی حالات کو درست طور پر دیکھنا ہوگا اور احتیاط سے قدم اٹھانے ہوں گے۔

چند روز قبل ہی چین کے ماہرین کا خیال تھا کہ یورپ امریکہ کی جانب سے سخت پابندیوں کے مؤقف کو قبول نہیں کرے گا کیوں کہ یورپ روس کی گیس پر بہت حد تک انحصار کرتا ہے۔

چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے چائنہ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں یورپین اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر چوئی ہانگجیان نے کہا کہ یورپ کے روس کے حوالے سے سخت مؤقف کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ امریکہ کے پاس روس کی گیس کا متبادل دینے کی کتنی صلاحیت ہے۔

اب جب کہ یورپ نے تمام رکاوٹیں پار کر کے روس کی جانب سے مزید کسی جارحیت کی مخالفت کی ہے تو چین کو روس پر لگنے والی معاشی پابندیوں پر تشویش ہو گی۔

ان پابندیوں میں روس کے مرکزی بینک کو بین الاقوامی آپریشنز سے نکالنا اور دنیا بھر میں سرمائے کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے سوئفٹ انٹرنیشنل فنڈ ٹرانسفر کے نظام سے بھی روس کو باہر کرنا شامل ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ تجارت کرنے والے ملک کے طور پر چین کو اس بات پر شدید تشویش ہو گی کہ اس کا نام روس کے ساتھ لیا جائے۔

چین کی کئی کمپنیوں کا روسی فنانشل کمپنیوں کے ساتھ لین دین ہے۔ چین کی کمپنیوں کے لیے یہ اس لیے بھی مشکل ہے کہ 254 چینی کمپنیاں امریکی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہیں۔

خام تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندہ کے طور پر روس کی یوکرین پر جارحیت کی قیمت سب سے زیادہ چین کو ادا کرنی ہو گی۔ خام تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے ۔

سعودی عرب کے بعد چین روس سے سب سے زیادہ تیل خریدتا ہے۔

بین الاقوامی ادائیگی کے نظام سے روس کو نکالنے کے بعد چین کو روس کو ادائیگیاں کرنے میں شدید مشکلات ہوں گی۔ دونوں ممالک اگرچہ ادائیگی کے ایسے باہمی نظام پر کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انہیں سوئفٹ یا کسی اور عالمی نظام کو استعمال کرنے کی ضرورت نہ ہو۔

چین میں بھی اس بات کی توقع نہیں کی جا رہی تھی کہ چینی حکام ایسے موقع پر سہم جائیں گےالبتہ اس بات کے اشارے ہیں کہ چین کے صدر شی جن پنگ کو پوٹن کے مکمل منصوبے کی خبر نہیں تھی۔

امریکہ کے اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ جب امریکی انٹیلی جنس اداروں نے چینی حکام کو روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کی تیاری کی تفصیلات فراہم کیں تو چینی حکام نے اس امکان کو مسترد کر دیا تھا۔

امریکی حکام کا خیال تھا کہ روس کی یوکرین کے ساتھ چوں کہ جنگ میں چین کو زیادہ نقصان ہو سکتا ہے اس لیے بیجنگ ماسکو پر اپنا دباؤ استعمال کر کے اسے اس اقدام سے باز رکھنے کی کوشش کرے گا۔



Source link