ہیٹی کے صدر کے قتل کے ایک دن بعد چار مبینہ حملہ آور پولیس مقابلے میں ہلاک

ہیٹی کی پولیس کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک روز قبل قتل ہونے والے ملک کے صدر جووینل موئس پر حملے میں ملوث چار ملزمان کو مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے سربراہ لیون چارلس کا پورٹ او پرنس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ دو دیگر مشتبہ ملزمان جنہیں کرائے کا قاتل قرار دیا جا رہا ہے کو پولیس نے مقابلے میں حراست میں لیا ہے۔ جب کہ پولیس کے ان تین افسران کو بھی بازیاب کرا لیا گیا ہے جن کو ملزمان نے یرغمال بنا لیا تھا۔

لیون چارلس نے اس کے علاوہ ہلاک ہونے والے مبینہ ملزمان یا حراست میں لیے گئے افراد کے حوالے سے مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب پورٹ او پرنس کے پوش علاقے میں صدر جووینل موئس کی ذاتی رہائش گاہ میں قتل کے فوری بعد سیکیورٹی اداروں نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی تھی۔

ہیٹی میں امریکہ کے سفیر بوچیٹ ایڈمنڈ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ صدر کے قتل کے بعد پڑوسی ملک ڈومینیکن ری پبلک کے ساتھ ہیٹی کے سرحدیں بند کر دی گئی ہیں۔ جب کہ ملک بھر کے ہوائی اڈوں سے فضائی سفر معطل ہے۔

وائس آف امریکہ کے اس سوال پر کہ کیا حملہ آوروں کی شناخت یا قومیت سے متعلق معلوم ہو سکا ہے؟ امریکہ کے سفیر کا کہنا تھا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے۔

قائم مقام وزیرِ اعظم کلاڈ جوزف نے ملک میں ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ اور اس کو ’محاصرے کی حالت‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کلاڈ جوزف نے کہا ہے کہ اب وہ ملک کی انتظامیہ کے سربراہ ہیں۔

ہیٹی کے مقتول صدر کی اہلیہ اور خاتونِ اول مارٹن موئس بھی جووینل موئس پر ہونے والے حملے میں زخمی ہوئی تھیں۔ ان کے حوالے سے امریکہ کے سفیر نے کہا ہے کہ وہ اب پہلے سے بہتر ہیں البتہ ان کی حالت اب بھی تشویش ناک ہے۔

ہیٹی کی خاتونِ اول کو امریکہ کے شہر میامی میں علاج کے لیے منتقل کیا گیا ہے۔

صدر جووینل موئس پر حملے کے وقت ان کا ایک بچہ بھی اس وقت گھر میں تھا جس کو حملے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا وائٹ ہاؤس سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے ہیٹی کے صدر جووینل موئس کے قتل کی مذمت کی ہے۔

بیان میں جو بائیڈن نے ہیٹی کی صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہیٹی میں امن کے لیے ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار ہے۔

’آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس‘ کی مستقل کونسل نے صدر جووینل موئس کے قتل کے بعد بدھ کو آن لائن ہنگامی اجلاس منقعد کیا ہے۔ کونسل کے رکن ممالک نے ہیٹی کے صدر کے قتل کی مذمت کی جب کہ ملک کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے صدر اور فرانسیسی سفیر نکولس ڈی ریویر کا کہنا تھا کہ کونسل کو اس قتل پر شدید تشویش ہے۔

واضح رہے کہ ہیٹی میں اقوامِ متحدہ کے عملے کے 1200 سے زائد افراد موجود ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے صدر جووینل موئس کی قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور اس کو ہیٹی میں انسانی حقوق کے بحران اور شدید سیاسی انتشار کی جانب نشان دہی قرار دیا ہے جو کہ کئی برس سے ملک میں جاری ہے۔

حالیہ برسوں میں ہیٹی میں سیاسی انتشار اور تقسیم سامنے آئی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف گروہوں میں تصادم کے واقعات بھی رونما ہوتے رہے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل ایک گروہ کے سربراہ جمی چیریزیر نے قتل ہونے والے صدر جووینل موئس کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ جمی چیریزیز کو ’باربی کیو‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ ان کے حامیوں نے پورٹ او پرنس کی گلیوں میں مظاہرے کیے تھے۔

جمی چیریزیر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ صدر جووینل موئس کو اب جانا ہو گا کیوں کہ لوگوں کے ایک نئے گروہ کو ملک کی قیادت کرنے کی ضرورت ہے۔



Source link

Leave a Reply