یوکرین تنازعہ سنگین ہوتے ہی تیل کی مارکیٹ میں تیزی



یوکرین کی جنگ کے دوران تیل کی سپلائی متاثر ہونے اور قلت کے باعث عالمی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہوا، دوسری جانب اسٹاک مارکٹوں میں مندے کا رجحان ہے، کیونکہ سرمایہ کار افراط زر اور سست اقتصادی ترقی کے خدشات کا شکار ہیں۔

خام تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ پانچ فیصد کے قریب ہوا اور نرخ 114ڈالر فی بیرل پر رکنے سے پہلے 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچے تھے۔

یہ قیمت گزشتہ جمعرات کے مقابلے میں 20 فیصد زائد ہے، جبکہ کوئلے سے لے کر قدرتی گیس اور ایلومونئیم تک ہرچیز کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، کیونکہ مغربی ممالک یوکرین پر حملے کے بعد روس پر پابندیاں سخت کرتے جارہے ہیں،جبکہ روس اپنی کارروائی کو ” خصوصی آپریشن ” قرار دیتا ہے۔

فنڈ منیجر اے ایم پی میں انوسٹمنٹ اسٹرٹیجک کے سربراہ شین اولیور نے کہا ہے کہ روس یورپ کی گیس اور تیل کی تقریباً تیس فیصد ضروریات پوری کرتا ہے اور تیل کی عالمی پیدوارمیں اس کا حصہ گیارہ فیصد ہے۔

امریکن فنانشنل کمپنی، ایم ایس سی آئی نے روس پرعالمی منڈیوں کےدروازے بند کرکے اس کی مالی تنہائی میں اضافہ کردیا ہے، جبکہ ایف ٹی ایس ای رسل نے بھی کہا ہے کہ روس کو اس کے تمام انڈکس سے باہرنکال دیا جائے گا۔

دوسری جانب فچ نے یہ کہتے ہوئے کہ “یہ غیر یقیی صورت حال ہے کہ آیا یہ ملک اپنا قرض ادا کرسکے گا، ” روس کی کریڈیٹ ریٹنگ کو چھ پوائنٹ گرا کرنچلی ترین سطح پر لے آیا ہےاور اس کے فوری بعد موڈیز نے بھی اسی اقدام کی پیروی کی۔

فیڈرل ریزرو کے سربراہ، جیروم پاول کی جانب سے یہ کہنے کے بعد کہ مرکزی بینک اس ماہ شرح سود میں اعشاریہ دو پانچ فیصد اضافہ کردے گا جو کہ کچھ سرمایہ کاروں کی توقع سے کم تھا ، یورپی اسٹاک ایکسچنج کھلتے ہی مندی کا شکار ہوگئی ۔

تمام سرمایہ کار افراط زر بلند ہونے سےپریشان نہیں ہیں۔ یو بی ایس گلوبل ویلتھ منجمنٹ کے چیف انویسمنٹ افسر مارک ہیفیل کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اگلے ایک یا دو ماہ میں قیمتیں عروج پر ہوں گی۔اس وقت فیڈرل ریزرو شرح سود میں اضافہ کرسکےگا۔لیکن معاشی بحالی متاثر نہیں ہوگی۔

دنیا بھر کی دوسری بڑی سٹاک مارکٹس میں اتارچڑھاو دیکھنے میں آرہا ہے اور منڈی کی صورت حال خاصی غیر یقینی ہے۔

(خبر کا مواد رائٹرز سے لیا گیا ہے)



Source link