یوکرین تنازع پر بائیڈن پوٹن ملاقات کی تجویز امریکی صدر نے قبول کر لی



فرانس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کے تنازع پر مشروط ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں کے دفتر سے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق امریکہ اور روس کے صدور اس صورت میں ملاقات کریں گے جب ماسکو کی جانب سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ وہ یوکرین پر حملہ نہیں کرے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر نے دونوں عالمی رہنماؤں کو یورپ میں استحکام اور سیکیورٹی کے لیے سمٹ کی تجویز پیش کی تھی جس پر دونوں جانب سے اتفاق کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر بائیڈن نے اصولی طور پر ملاقات کی دعوت قبول کی ہے لیکن یہ ملاقات اس وقت ہو گی جب روس یہ یقین دہانی کرادے کہ یوکرین پر حملہ نہیں ہو گا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ “ہم ہمیشہ سفارت کاری کے لیے تیار رہتے ہیں اور اگر روس نے جنگ کے راستے کا انتخاب کیا تو ہم جواباً پابندیاں لگانے کے لیے بھی تیار ہیں۔”

‘رائٹرز ‘کے مطابق روس کے صدارتی دفتر اور یوکرین کے صدر ولادومیر زیلنسکی کی جانب سے فرانسیسی صدر کی تجویز پر فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

فرانسیسی صدر اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بائیڈن پوٹن ملاقات کے دوران کن امور پر تبادلہ خیال ہو گا؟ اس حوالے سے 24 فروری کو امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لارؤف کی طے شدہ ملاقات کے دوران بات چیت ہو گی۔

یاد رہے کہ فرانس کی جانب سے بائیڈن اور پوٹن کی ملاقات کی تجویز ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب روس یوکرین کی سرحد کے ساتھ اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے اور مغربی ملکوں کی جانب سے مسلسل ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔

تاہم ماسکو مسلسل ان خبروں کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بائیڈن پوٹن ملاقات میں یوکرین کا کیا کردار ہو گا؟

یوکرین تنازع پر صدر بائیڈن اور صدر پوٹن کے درمیان مجوزہ ملاقات میں یوکرین کا کیا کردار ہو گا اور اگر یوکرین کا اس حوالے سے کوئی کردار ہے بھی تو یہ واضح نہیں ہے۔

بائیڈن انتظامیہ نے ایک میل میں کہا ہے کہ روسی صدر کے ساتھ ملاقات اس وقت تک مکمل خیالی ہے جب تک اس حوالے سے وقت اور اس کا طریقہ کار طے نہیں ہو جاتا۔

امریکہ کے روس کے لیے سابق سفارت کار مائیکل مک فال کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ صدر بائیڈن اور پوٹن کے درمیان ملاقات ہو سکے گی۔

انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اگر بائیڈن اور پوٹن کے درمیان ملاقات ہوتی ہے کہ انہیں یوکرین کے صدر ولادومیر زیلنسکی کو بھی مدعو کرنا چاہیے۔

یوکرین کی سرحد پر روسی افواج کی تعداد میں اضافہ

سیٹیلائٹ سے تصاویر لینے والی امریکی کمپنی ‘میکسر ‘کے مطابق یوکرین کی سرحد کے قریب تقریباً 15 کلو میٹر کے فاصلے میں روس نے اپنی فوج کی تعداد میں مزید اضافہ کیا ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے اتوار کو ایک بیان میں روس کی افواج کی یوکرین کی سرحد پر اضافی نفری کی تعیناتی پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ سے بات کرتے ہوئے اینٹنی بلنکن نے کہا کہ “ٹینک مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں اور طیارے اڑ رہے ہیں لیکن ہم ہر لمحے اور ہر منٹ کا استعمال کریں گے اور یہ دیکھیں گے کہ آیا سفارت کاری اب بھی صدر پوٹن کو آگے بڑھنے سے روک سکتی ہے۔”

اس خبر کے لیے معلومات خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے لی گئی ہیں۔



Source link