یوکرین سے انخلا کے دوران بھی نسلی تعصب برتنے کی شکایات



روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ملک سے اب تک 10 لاکھ سے زائد مہاجرین ہمسایہ ممالک میں منتقل ہو چکے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ اب بھی ملک میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں وہ غیر ملکی طلبہ بھی ہیں جن کی حکومتیں انہیں خصوصی طیاروں، رقوم یا دوسرے ذرائع سے امداد فراہم نہیں کر سکتیں۔ ایسے میں نسل پرستی بھی ان طلبہ اور غیر سفید فام افراد کے لیے مشکل پیدا کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے’ رائٹرز ‘ کے مطابق سوشل میڈیا پر افریقی، ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کے مسافر ویڈیوز شئیر کر رہے ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرحد پر موجود گارڈ ان افراد کو سرحد پار کرنے سے روک رہے ہیں۔ کہیں مار پیٹ کے واقعات بھی رپورٹ ہو رہے ہیں جب کہ سفید فام افراد کو آگے جانے دیا جا رہا ہے۔

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے گھانا سے تعلق رکھنے والی ایک طالب علم ایتھل انسائی اوٹو نے کہا کہ ’’وہ سب سے پہلے سفید فام لوگوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘‘ ایتھل یکم مارچ کو یوکرین سے رومانیہ منتقل ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اپنی ہجرت کی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے سفید فام لوگوں (کو داخل ہونے دیا جا رہا ہے) پھر ہندوستانی لوگوں کو، پھر عرب اور اس کے بعد سیاہ فام۔ اگر آپ سفید فام نہیں ہیں تو کوئی آپ کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

وائس آف امریکہ کے جیمی ڈیٹمر نے گھانا سے تعلق رکھنے والے چھ طلبہ سے جمعے کے روز انٹرویو کیا جو بحفاظت بوڈاپسٹ، ہنگری پہنچ گئے تھے۔ اس علاقے کے چھ مزید افریقی طلبہ سے بات کی گئی جن کا تعلق گھانا اور نائیجیریا سے تھا، جو یوکرین کے شہروں، لویو اور اوزہوروڈ میں موجود ہیں۔

جیمی ڈیٹمر کے مطابق چار طلبہ نے کہا کہ خارکیف، سومی یا کیف سے سرحد پار کرتے ہوئے انہیں کسی قسم کی تفریق کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

دوسرے طلبہ نےبتایا کہ نسل پرستی کی وجہ سے ان کی ہجرت پر اثر پڑا اور ان کی جان کو خطرات بھی لاحق ہوئے۔ ان تمام طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین کو اپنا دوسرا گھر مانتے ہیں اور انہوں نے لوگوں کی جانب سے رحم دلی کے کئی واقعات بھی بتائے۔

خبر رساں ادارے’ ایسوسی ایٹڈ پریس’کے مطابق گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ وہ ان رپورٹس پر تشویش میں مبتلا ہیں کہ یوکرین چھوڑنے والے کئی مہاجرین کو نسل پرستی، ہراسانی اور تفریق کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے تمام حکومتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ نسل پرستی اور غیر ملکی باشندوں سے حقارت کے ہر قسم کے اظہار کو نامناسب قرار دیں۔انہوں نے کہا ’’یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ہر ایک کے لیے یقینی بنائیں کہ بلا کسی نسلی، مذہبی یا ثقافتی تفریق کےانہیں ایک ہی جیسا رویہ اور تحفظ فراہم ہو۔‘‘

گزشتہ ہفتے ان رپورٹس کے بعد کہ غیر سفید فام افراد کو ٹرینوں، بسوں پر چڑھنے سے روکا جا رہا ہے ،یوکرین کی حکومت نے افریقی اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے ایک خصوصی ہاٹ لائن بنانے کا اعلان کیا۔ افریقی ممالک کے نمائندوں نے، جن میں گبون، گھانا، کینیا اورنائیجیریا بھی شامل ہیں، کہا ہے کہ جن طلبہ کی انہوں نے یوکرین سے نکلنے میں مدد کی ہے، وہ ان کی رودادیں سن کر تشویش میں مبتلا ہیں۔

یوکرین کے وزیر خارجہ دمتریو کلیبا نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ہر کسی کے ساتھ چاہے وہ کسی بھی جگہ سے تعلق رکھتا ہو، مناسب رویہ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یوکرین کے شہری اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے شہری،بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ان کے بقول افریقی شہری، جو ملک سے باہر نکلنا چاہتے ہیں وہ بھی ہمارے دوست ہیں اور انہیں اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے برابر کا موقع ملنا چاہیے۔ یوکرین کی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔‘‘

ان کی وزارت تمام سرکاری ایجنسیوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ غیر ملکیوں کی مدد کرے اور اس بات پر زور دے رہی ہے کہ افریقی باشندوں کے خلاف سرحد پر کوئی تفریق روا نہیں ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی وہ روس کی جانب سے رنگ کی بنیاد پر تفریق کی رپورٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا بھی الزام عائد کرتےہیں۔

یوکرین کی حکومت کی کوششوں کے باوجود وائس آف امریکہ نے گھانا کے جن طلبہ سے انٹرویو کیا انہوں نے کہا کہ انہیں ہراسانی اور جارحانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑا ، جس کی وجہ سے ایسے میں جب وہ شیلنگ اور دھماکوں سے بچ کر نکل رہے تھےان کی پریشانی اور خوف میں اضافہ ہوا۔

گھانا سے تعلق رکھنے والی پی ایچ ڈی کی طالبہ جینٹ نے اپنی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ ’’یوکرین میرا دوسرا گھر ہے۔ میں ایک ٹین ایجر کے طور پر یہاں آئی تھی اور یہ بہت افسوس ناک ہے۔ مجھے یہ خیال بالکل نہیں تھا کہ یہ (جلد کا رنگ) میرے لیے اپنی زندگی بچاتے ہوئے پریشانی کا موجب بنے گا۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ ایک موقع پر انہیں پیٹرول پمپ پر روک لیا گیا، جب کہ ان کے مطابق، سب سے برا تجربہ لاویف کے ریلوےا سٹیشن پر سامنے آیا جب انہیں الگ تھلگ کر دیا گیا اور پولیس بھی جب آئی تب بھی یہی رویہ جاری رہا۔

لاویف اور خارکیف کے ریلوے اسٹیشنوں پر میڈیکل ڈگری کی طالبہ نانا کا بھی یہی تجربہ رہا۔ جب بمباری شروع ہوئی تو انہوں نے ایک قریبی سب وے اسٹیشن میں پناہ ڈھونڈی جہاں وہ تین روز تک رہیں اور لوگ ان سے اپنی خوراک اور پانی بانٹتے رہے۔ جیسے ہی دھماکے اور بمباری میں اضافہ ہوا تو انہیں اور گھانا سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالب علم کو خیال آیا کہ انہیں یہاں سے نکلنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’’سب ٹرین میں چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے اور ہم باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے۔ جب ہم انتظار کر رہے تھے تو بمباری اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ لیکن کہیں چھپنے کی جگہ نہیں تھی، کیونکہ اگر ایسے میں ٹرین آتی ہے تو وہ آپ کے بغیر چلی جاتی۔ اس لیے اگرچہ میں بہت ڈری ہوئی تھی، میں وہیں کھڑی رہی اور میں نے دوسروں کے ساتھ مل کر ٹرین پر چڑھنے کی کوشش کی۔‘‘

انتیس سالہ طالب علم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ نہ صرف خود رو رہی تھیں بلکہ ارد گرد خواتین اور بچے بھی، جو ٹرین میں چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے رو اور چلا رہے تھے۔ ان کے مطابق پہلی ترجیح یوکرینی خواتین اور ان کے بچوں کو دی جا رہی تھی۔ انہوں نے چلا کر کہا کہ وہ بھی ایک خاتون ہیں۔ انہوں نے اور دوسرے افریقی طلبہ نے گروہ کی صورت میں جب ٹرین میں چڑھنے کی کوشش کی تو ایک یوکرینی مرد شاٹ گن کے ساتھ سامنے کھڑا ہوگیا اور اس نے افریقی مردوں کو حکم دیا کہ وہ لائن میں سب سے پیچھے چلے جائیں۔ نانا کے بقول ’’اس(شخص) نے سب کو ڈرا دیا پھر چار پولیس اہلکار آئے اور انہوں نے اسے زمین پر گرایا اور اپنے ساتھ لے گئے۔‘‘

یوکرین کی وازارت تعلیم کے مطابق ملک میں 16 ہزار افریقی طلبہ زیر تعلیم تھے جن میں سے نو سو کے قریب گھانا کے طلبہ تھے۔

ایسے میں جہاں افریقی باشندوں کو ہجرت کے دوران کئی جگہوں پرمبینہ تفریق کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے افراد، جو یوکرین سے نکلنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، ہزاروں ایسے دوسرے افراد کی امداد کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت نیٹ ورک بنا رہے ہیں۔

25 برس کے نائیجیرین طالب علم، الیگزینڈر سوموٹو اوراہ نے’ اے پی’ کو بتایا کہ انہیں بھی پولینڈ کی سرحد پر پہنچ کر غیر ملکیوں سے حقارت اور تشدد کی دھمکیوں جیسے رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے بقول یوکرین کے بارڈر گارڈز نے ’’افریقیوں اور بھارتیوں کو باقیوں سے علیحدہ کیا اور ہمیں رومانیہ کی سرحد کی طرف بھیج دیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’انہوں نے ہمیں کہا کہ اگر ہم نے زبردستی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی تو وہ ہمیں گولی مار دیں گے۔‘‘ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس واقعے کی ویڈیو ایجنسی کو دکھائی گئی تھی۔

اوراہ نے بتایا کہ ‘‘جب شدید سرد موسم میں خوف اور غصے کے مارے کئی روز بیت گئے تو تمام غیر ملکیوں نے مل کر ہاتھ اٹھائے اور احتجاج شروع کر دیا کہ وہ صرف طالب علم ہیں اور اپنے گھر جانا چاہتے ہیں۔س کے بعد بہرحال انہیں سرحد پار جانے دیا گیا۔”

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا پہنچنے کے بعد اوراہ کئی بار سرحد جا چکے ہیں، تاکہ وہ اپنے تجربے کے تحت مزید غیرملکی طلبہ کو سرحد پار کرنے میں مدد دے سکیں۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین نے جمعے کے روز کہا ہے کہ 138 ممالک کے 80 ہزار افراد یوکرین سے ہجرت کر چکے ہیں۔

‘ اے پی ‘کے مطابق پریشان طلبہ نے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر ایسے گروپ بنا لیے ہیں جو افریقی، برازیلی اور دوسرے ممالک کے افراد کی امداد کر رہے ہیں۔ کچھ پلیٹ فارم مالی امداد دے رہے ہیں تو کئی ذہنی صحت کی امداد۔

ایک طالب علم فیتھ چیماری نے ‘اے پی’ کو بتایا کہ وہ اب تک 50 سے زائد زمبابوے کے طلبہ کی مدد کر چکی ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے پولینڈ آنے کے لیے بسوں کی معلومات فراہم کی ہیں۔ان کے مطابق وہ لڑکوں کو پہلے گروپ میں رکھتی ہیں جو آگے پہنچ کر بتاتے ہیں کہ فلاں راستہ محفوظ ہے یا نہیں۔

(اس رپورٹ کے لیے رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس سے کچھ مواد لیا گیا)



Source link