یوکرین پرحملہ، مذمتی قرار داد منظور: چین سمیت پاکستان،بھارت اور بنگلہ دیش  نے ووٹ نہیں دیا



اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی جس میں روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کی گئی اور ماسکو سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر یوکرین سے اپنی تمام فوج واپس بلالے۔ مبصرین کے مطابق، اس اقدام کا مقصد روس کو سیاسی طور پرتنہا کرنا ہے۔

193 ارکان پر مشتمل ادارے میں سے قرارداد کو 141 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش نے اس قرار دار پر ووٹ دینے سے گریز کیا جس میں روس کی مذمت کی گئی اور فوری طور پر یوکرین سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔

قرار داد کی منظوری کے ساتھ ہی مندوبین نے کرسیوں سے اٹھ کر تالیاں بجائیں۔

جنرل اسمبلی کے اس ہنگامی اجلاس میں، جوسلامتی کونسل کے ایما پر بلایا گیا تھا، قرارداد پر ووٹنگ تین دن جاری رہنے والے مباحثے کے آخری روز بدھ کی شام ہوئی۔ اس سے قبل، بدھ ہی کے روز روس کی افواج نے یوکرین کے متعدد شہروں پر فضائی حملے کیے اور بم حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے، جب کہ ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔

قرارداد کے متن میں یوکرین پر روسی جارحیت پہ افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، گزشتہ بار سلامتی کونسل کی جانب سے جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس تقریبا چالیس سال قبل 1982ء میں طلب کیا گیا تھا۔

بدھ کو ووٹنگ کے دوران بیلاروس نے روس کا ساتھ دیا، جہاں سے اس جارحیت کے لیے روس نے اپنی افواج کو یوکرین روانہ کیا۔ اریٹیریا، شمالی کوریا اور شام نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔

پینتیس ملکوں نے جن میں چین کے علاوہ، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش شامل ہیں، ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

یوکرین کی صورت حال کے بارے میں، پاکستان کے مستقل مندوب، منیر اکرم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”یہ سفارت کاری کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے”۔ صورت حال جس نہج پر پہنچی ہے، اس پر، بقول ان کے، پاکستان کو شدید تشویش لاحق ہے۔

جنرل اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد لازم نہیں ہوتا، لیکن یہ سیاسی لحاظ سے اہم اقدام کا درجہ رکھتی ہے۔ اس طرح، بدھ کو منظور ہونے والی یہ قرارداد یوکرین کی علامتی حمایت کا کھلا اعلان ہے، جب کہ اس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر روس تنہا ہوچکا ہے۔ یہاں تک کہ روس کے روایتی دوست، سربیا نے بھی اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

اقوام متحدہ میں امریکی مستقل مندوب، لِنڈا تھامس گرین فیلڈ نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ روس اپنے مظالم میں شدت پیدا کرنے پر تلا ہوا ہے، اور عالمی ادارے کے رکن ممالک پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی پاداش میں احتساب کے لیے روس کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ روسی فوج نے یوکرین پر ‘کلسٹر میونیشن’ اور ‘ویکیوم بم’ استعمال کیے ہیں، جن کی بین الاقوامی قانون میں ممانعت ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے ایلچی ویزلی نبنزیا نے اس بات کی تردید کی کہ روس شہری آبادی کو ہدف بنا رہا ہے؛ اور مغربی ملکوں پر الزام لگایا کہ وہ اسمبلی ارکان پر دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کرکے قرارداد منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی منظوری کے بعد، بقول ان کے، تشدد مزید بھڑک اٹھے گا۔

چین کے ایلچی ، زانگ جون نے ووٹ کا حق استعمال نہ کرنے کی تو ضیح کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد پیش کرنے سے قبل اس کے متن پر اسمبلی کے رکن ملکوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔

یوکرین کے مستقبل مندوب ، سرگئی کستسا نے قرارداد کو منظور کرنے کے حق میں اپنے کلمات میں کہا کہ ”شیطانی حرکات کبھی بند نہیں ہوا کرتیں۔ انہیں مزید جگہ کی ضرورت رہتی ہے”۔ انھوں نے کہا کہ قرارداد کی صورت میں کوشش یہ کی گئی ہے کہ روسی جارحیت کو ختم کرنے کا طریقہ نکالا جائے۔



Source link