یوکرین کا رعایتیں دینے کا عندیہ، روس بھی سفارت کاری جاری رکھنے پر تیار



روس نےپیر کے روز کہا ہے کہ وہ یوکرین کے معاملے پر مغرب سے بات چیت پر تیار ہے تاکہ سیکیورٹی کے بحران پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی لائی جاسکے۔ یوکرین کے ایک اہل کار نے کہا ہے کہ کیف ماسکو کو رعایتیں دینے پر تیار ہے۔ یہ تناؤ اس بنا پر اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ روس نے یوکرین کی سرحدوں کے قریب ایک لاکھ سے زائد فوج تعینات کر رکھی ہے۔

صدر ولادیمیر پوتن نے تبادلہ خیال کرتے ہوئےاپنے وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے پوچھا آیا سلامتی سے متعلق روس کی تشویش کے معاملے پر کیا کسی سمجھوتے کا امکان ہے یا پھر اسے محض تکلیف دہ مذاکرات میں ٹھونسا جا رہا ہے۔

لاروف نے جواب دیا کہ ”ہم پہلے ہی کئی بار خبردار کر چکے ہیں کہ ہم ایسے کسی سوال پر لامتناہی بات چیت کی اجازت نہیں دے سکتے جس میں یہ مطالبہ کیا جائے کہ مسئلے کا حل آج ہی نکالا جائے”۔

لیکن، انھوں نے مزید کہا کہ ”مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہماری کاوشوں کے نتائج اب بھی نکل سکتے ہیں؛ اس مرحلے پر میں یہ تجویز دوں گا کہ بات چیت جاری رکھی جائے اور اسے بامقصد بنایا جائے”۔

امریکہ نے کہا ہے کہ روس ”کسی بھی دن” یوکرین پر حملہ کردے گا؛ جب کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے پیر کے روز کہا کہ صورت حال” انتہائی، انتہائی خطرناک ہے”۔

روس نے یوکرین کی سرحدوں کے قریب ایک لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں لیکن وہ اس امکان کو مسترد کرتا ہے کہ وہ حملے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کہ وہ مغرب پر الزام لگاتا ہے کہ وہ معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر ر ہے ہی۔

اس سے قبل، پیر ہی کے دن مغرب کے سات بڑے صنعتی ملکوں، جی 7 نے متنبہ کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملے کی جسارت کی تو اسے شدید معاشی خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور ساتھ ہی کیف کی فوری حمایت کے عزم کا بھی کیا۔

ادھر برطانیہ میں تعینات یوکرین کے سفیر نے اس بیان پر زور نہیں دیا کہ یوکرین نیٹو میں شمولیت کے معاملے کو پھر سے زیر غور لائے گا، جو روس کی بنیادی تشویش کا معاملہ ہے؛ لیکن یہ کہا کہ پیش کش میں دیگر رعایتیں شامل ہوسکتی ہیں۔

ایک وضاحتی بیان میں انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ”اس وقت ہم نیٹو کے رکن نہیں ہیں، اور لڑائی سے بچنے کےیے ہم متعدد رعایتیں دینے پرتیار ہیں اور یہ کہ یہی کچھ ہم گفتگو کے دوران روسیوں سے کہہ رہے ہیں”۔

بقول ان کے”اس کا نیٹو سے کوئی لینادینا نہیں ، جب کہ (رکنیت کی درخواست درج کرانا) اس کے آئین میں شامل ہے”۔

کریملن نے کہا ہے کہ اگر یوکرین مغربی عسکری اتحاد میں شمولیت کی خواہش سے دستبردار ہوجائے، تو اس سے روس کی تشویش بہت حد تک ختم ہو جائے گی۔

ماسکو نے واضح کر دیا ہے کہ وہ سابق سویت جمہوریہ کی جانب سے مغرب کے ساتھ قریبی تعلقات، خاص طو پر نیٹو کی رکنیت حاصل کرنےکے معاملے کو، اپنے لیے خطرہ گردانتا ہے۔

آٹھ سال قبل جب کیف کے ‘میدان چوک’ میں مغرب کے ساتھ قریبی یکجہتی کے سوال پر بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، تب روس کے حامی صدر وکٹر ینوکووچ کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

اس کے بعد روس نے یوکرین کے کرائمیا کے جزیرے پر حملہ کرکے اسے ضم کر لیا تھا، جہاں روس کا بحر اسود کا اہم سمندری اڈا واقع ہے۔ اُس وقت روس نے حامی باغیوں کی کھل کر مدد کی تھی جنھوں نے یوکرین کے صنعتی علاقے پر قبضہ جما لیا تھا، جس میں 14ہزارسے زائد افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔

دوسری جانب، جرمن چانسلر اولاف شلز نے کیف میں صدر ولودومیر زیلنسکی سے مذاکرات کیے ہیں، جب کہ منگل کے روز وہ ماسکو جائیں گے جہاں ان کی صدر پوٹن سے ملاقات طے ہے۔

شلز نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ کوئی جائز سبب موجود نہیں ہے کہ روس کے لیے یوکرین کی سرحد پر عسکری کارروائیاں ضروری ہوں؛ اور یہ کہ روس کو یورپی سیکیورٹی پر گفتگو کی پیش کش قبول کرنی چاہیے۔ انھوں نے یوکرین کو 15 کروڑ یورو (17 کروڑ ڈالر) کا قرضہ دینے کا اعلان کیا۔

زیلنسکی نے اس بات کی تصدیق کی کہ یوکرین اب بھی نیٹو میں شمولت کا خواہاں ہے، شلز نے کہا کہ عجب بات ہے کہ روس نے اس وقت اس معاملے کر اٹھایا ہے، جب کہ یہ معاملہ ”ایجنڈا کا حصہ تک نہیں ہے”۔

(یہ خبر رائٹرز خبر کی رپورٹ پر مبنی ہے)



Source link