یوکرین کی محصور شہری آبادی کے انخلا کے لیے روس کی جانب سے نئی جنگ بندی کا اعلان



روس نے بدھ کو جنگ بندی کے نئے شیڈول کا اعلان کیا ہے تاکہ جو لوگ یوکرین کے ان علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن پر روسی فوج کا قبضہ ہے، وہ وہاں سے باہر نکل سکیں۔ ایک روز قبل ہزاروں شہری یوکرین کے شمال مشرق میں واقع شہروں سے نقل مکانی کرگئے تھے، جب کہ یوکرین کے حکام نے الزام لگایا ہے کہ روس نے ملک کے جنوبی حصے میں انخلا کےاعلان کردہ راستے میں گولہ باری کی۔

یوکرین کے معاون وزیر اعظم، ارینا ورشوک نے کہا ہے کہ روس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انخلا کے نئے راستے دارالحکومت کیف کے متعدد قریبی قصبہ جات سے سومی، ماریپول، انرہدار، وولنوویخا، ازوم کی جانب جاتے ہیں۔ورشوک نے کہا کہ منگل کے روز سومی سے پانچ ہزار کے قریب شہری باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

ماریپول جہاں روس کے قبضے کے بعد بندرگاہ والے اس شہر میں بجلی ، خوراک اور پانی کی سپلائی بند ہے، جس کے باعث پریشان حال شہری باہر جانے پر مجبور ہیں۔ ورشوک نے کہا کہ روسی افواج نے سامان لے جانے والےایک قافلے پر گولیاں چلائیں۔

ریڈ کراس کے ترجمان، ایوان واٹسن نے کہا ہے کہ ماریپول کی صورت حال ”ناقابل بیان ”ہے۔

وائس آف امریکہ نے جب ان سے انخلا کی گزرگاہوں سے سفر کرنے والوں پر روس کی گولہ باری کے بارے میں سوال کیا تو ایک اعلیٰ دفاعی اہل کار نے منگل کے روز بتایا کہ یہ محض ایک چالاکی ہے کہ انخلا کی گزرگاہ کا رُخ باہر جانے کے بجائے بیلاروس اور روس کی جانب تھا۔

عہدے دار نے بتا یا کہ ہم اور باقی بین الاقوامی برادری روس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یوکرین کے لوگوں کو اپنے ہی ملک کے دیگر حصوں کی جانب جانے کی اجازت دی جائے۔ انھوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ امریکہ یوکرین کی لڑائی میں عسکری انداز سے ملوث ہونے میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

بدھ کے روز یورپی یونین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کا جواب روس کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کر کے دیا جائے گا، جس میں روس کے اعلیٰ اہل کار اور اشرافیہ کے خلاف اقدام بھی شامل ہوگا۔ ان میں آبی وسائل کے شعبے اور بیلاروس کے متعدد بینکوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہے۔

ادھر چین کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ چین کی ریڈ کراس تقریباً آٹھ لاکھ ڈالر مالیت کی انسانی ہمدردی کی امداد یوکرین بھیج رہی ہے، ساتھ ہی اُس نے روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے اقدام کی مخالفت کی۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بدھ کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ امریکہ” روس کے خلاف اقتصادی جنگ لڑ رہا ہے”۔

یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کے جواب میں امریکی صدر جوبائیڈن نے منگل کو روس سے تیل اورتوانائی کی دیگر درآمدات پر بندش عائد کرنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم پوٹن کی لڑائی میں حصے دار نہیں بن سکتے۔ انھوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ اس اقدام کے نتیجے میں امریکی شہریوں پر بھی اخراجات کا بوجھ پڑے گا۔

منگل کو ایک ٹوئٹ میں امریکہ کی جانب سے روسی ایندھن کی درآمد بند کرنے کے اقدام کے بارے میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بائیڈن کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ”پوٹن کی لڑائی کے منبع کو نشانہ بنایا ہے”۔

منگل ہی کے روز برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ 2022ء کے اواخر تک روسی تیل اور تیل کی مصنوعات کی درآمد مرحلہ وار بند کردے گا۔

ادھر روس نے پولینڈ کی اس پیش کش پر تنقید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ جرمنی کے ایک ایئربیس کی جانب مگ 29 جہاز روانہ کر رہا ہے، تاکہ انھیں یوکرین بھیجا جاسکے۔ پیسکوف نے اسے ”انتہائی خطرناک اقدام” قرار دیا۔

منگل کے روز پولینڈ نے اعلان کیا تھا کہ اس کی فضائیہ فوری طور پر اور کوئی رقم لیے بغیر، اپنے تمام مگ 29 جیٹ طیارے رمسٹائن ایئربیس روانہ کرنے پر تیا ر ہے، جنھیں، بقول ان کے،حکومت امریکہ کے حوالے کیا جائے گا۔ یوکرین کے لڑاکا پائلٹ مگ 29 اڑاتے ہیں، اور یوکرین کے حکام نے یہ تقاضا کیا تھا کہ مگ 29 طیارے استعمال کرنے والے ملک یہ جیٹ طیارے یوکرین کو دے سکتے ہیں۔

پولینڈ کی جانب سے ایسے بیان پر بائیڈن انتظامیہ نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔ محکمہ خارجہ کی سیاسی امور کی معاون وزیر، وکٹوریا نولینڈ نے قانون سازوں کو بتایا کہ ”پولینڈ کا یہ اقدام حیران کن ہے”۔

پینٹاگان کے پریس سیکریٹری، جان ایف کربی نے منگل کی شام گئے کہا ہے کہ پینٹاگان ”یہ نہیں سمجھتا کہ پولینڈ کی یہ تجویز قابل عمل ہے”۔

(اس خبر کا کچھ مواد ایسو سی ایٹڈ پریس، ایجنسی فرانس پریس اور رائٹرز سے لیا گیا ہے)



Source link