یوکرین کے جوہری پلانٹ پر روس کا حملہ کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے؟

روس نے جمعے کی صبح یورپ کے سب سے بڑے جوہری توانائی کے پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں پلانٹ کے احاطے میں آگ بھی بھڑک اٹھی جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ خطہ ایک بار پھر 1986 میں چرنوبیل جیسے سانحے سے دوچار ہو سکتا ہے۔

اس حملے سے متعلق خدشات اس وقت ختم ہوگئے تھے جب یوکرین کے حکام نے اعلان کیا کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور اگرچہ وہ حصہ جہاں ری ایکٹرز موجود ہیں متاثر ہوا ہے تاہم جوہری یونٹ کو کوئی زد نہیں پہنچی ہے۔

واضح رہے کہ چرنوبیل کے جوہری بجلی گھر میں 26 اپریل 1986 کی شب ہونے والے ابتدائی دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دھماکے کے باعث بجلی گھر سے نکلنے والی تابکاری سے آنے والے دنوں میں مزید 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یوکرین اس وقت سوویت یونین کا حصہ تھا اور اس وقت کے سوویت حکام نے چرنوبیل میں ہونے والے دھماکے کی خبر دنیا سے تین روز تک چھپائے رکھی تھی۔

بعد ازاں سوئیڈن کے ایک تجزیاتی مرکز کی جانب سے تابکاری کی شدت میں اچانک ہونے والا انتہائی اضافہ ریکارڈ کیے جانے کی خبر کے بعد سوویت حکام نے عالمی برادری کو چرنوبیل حادثے کے متعلق آگاہ کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق چرنوبیل بجلی گھر سے خارج ہونے والی تابکاری 1945ء میں ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم کی تابکاری سے 400 گنا زیادہ تھی اور اس تابکاری کے اجزا پر مشتمل بادلوں نے روس، بیلا روس اور یورپ کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔عالمی ادارۂ صحت کے ایک محتاط اندازے کے مطابق چرنوبیل کی تابکاری سے 4000 افراد ہلاک ہو سکتے تھے۔

اگرچہ زپورزیا نیوکلیئر پلانٹ کا ڈیزائن چرنوبیل سے مختلف ہے اور اسے آتشزدگی سے محفوظ بنانے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ لیکن نیوکلیئر سیفٹی کے ماہرین اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے خبردار کیا ہے کہ جوہری تنصیبات کے آس پاس جھڑپوں سے سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اس سلسلے میں جوہری تنصیبات کی نگرانی کرنے والے یوکرین کے حکومتی ادارے نے ایک بڑے خدشے کا اظہار کیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر ان جھڑپوں کی وجہ سے جوہری پلانٹ کو بجلی کی فراہمی معطل ہوئی تو اس کے نتیجے میں مجبوراً کولنگ سسٹم کو چلانے کے لیے ڈیزل جنریٹرز کا استعمال کرنا پڑے گا جو اس مقصد کے لیے توانائی کازیادہ قابلِ اعتبار ذریعہ نہیں ہے۔

زپورزیا میں واقع پلانٹ کی 2008 میں لی گئی ایک تصویر۔ فائل فوٹو۔

زپورزیا میں واقع پلانٹ کی 2008 میں لی گئی ایک تصویر۔ فائل فوٹو۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر ری ایکٹرز کی کولنگ متاثر ہوئی تو 2011 میں جاپان کے فوکوشیما پلانٹ جیسی صورتِ حال بھی پیش آ سکتی ہے۔ کیوں کہ اس سانحے میں بھی سونامی اور زلزلے کی وجہ سے کولنگ سسٹم تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں ری ایکٹرز کی تباہی کا آغاز ہوا تھا۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اگر ایسی صورتِ حال پیش آئی تو اس کے اثرات سنگین اور بڑے پیمانے پر ہو سکتے ہیں۔

جمعرات کی شب انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اگر جوہری پلانٹ میں کوئی دھماکہ ہوا تو اس سے ہر کوئی ختم ہو جائے گا۔ یہ یورپ کا خاتمہ ہوگا۔ یورپ خالی ہوجائے گا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں دنیا پر پلانٹ کے نواح میں لڑائی ختم کرانے کے لیے کردار ادا پر بھی زور دیا تھا۔

حملہ کیسے ہوا؟

روس نے اسٹریٹجک اعتبار سے اہم ساحلی شہر خرسن کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد زپورزیا کی جانب پیش قدمی شروع کی اور اینرہوڈر شہر پر حملے شروع کیے۔

ابتدائی طور پر یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ جوہری پلانٹ کو کس طرح نشانہ بنایا گیا۔ البتہ اینرہوڈر کے میئر دمترو اورلو نے کہا تھا کہ روسی فوج کا دستہ جوہری تنصیبات کی جانب جاتا ہوا دیکھا گیا اور اس کے بعد دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

جمعے کی صبح پلانٹ کے ترجمان نے یوکرین کے ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ گولے براہِ راست تنصیبات میں آ کر گرے اور چھ میں سے ایک ری ایکٹر آتشزدگی سے متاثر ہوا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مسلسل فائرنگ کی وجہ سے آتشزدگی پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بین الاقوامی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے جمعے کو یوکرینی حکام سے بات چیت کے بعد تصدیق کی تھی کہ ری ایکٹرز سے متصل عمارت گولہ باری کی زد میں آئی تھی اور جوہری ری ایکٹر اس سے براہ راست متاثر نہیں ہوئے تھے۔

انہوں ںے تصدیق کی تھی کہ تمام کے تمام چھ ری ایکٹرز کے تحفظ کے نظام محفوظ ہیں اور نہ ہی تابکار مواد کے اخراج کے کوئی شواہد ملے ہیں۔ رواں ہفتے کے آغاز ہی میں آئی اے ای اے نے جوہری تنصیبات کے نزدیک روس کی فوجی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

یوکرین کا شہر اینر ہوڈر جہاں جوہری پلانٹ واقع ہے۔

یوکرین کا شہر اینر ہوڈر جہاں جوہری پلانٹ واقع ہے۔

کیا ہوسکتا تھا؟

روس کی کارروائی میں جس ری ایکٹر کو نشانہ بنایا گیا وہ اگرچہ بند تھا لیکن اس میں انتہائی تابکار جوہری ایندھن موجود تھا۔ پلانٹ میں موجود چھ میں سے چار ری ایکٹرز کو پہلے ہی بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد صرف ایک ری ایکٹر ہی فعال تھا۔

صدر اوباما کے دور میں نیشنل سیکیورٹی کونسل میں ہتھیاروں پر کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کےسینئر ڈائریکٹر رہنے والے جون ولفزتھل کا کہنا ہے کہ پلانٹ میں موجود ری ایکٹرز کو کنکریٹ سے بنائے گئے مضبوط گنبدوں کے نیچے رکھا گیا ہے جو انہیں ٹینکوں اور توپ خانے سے ہونے والی گولہ باری سے محفوظ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ البتہ جوہری پاور پلانٹ کے احاطے میں آتشزدگی کبھی خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔

جوہری تنصیبات میں ایک اور خطرناک مقام وہ تالاب ہوتے ہیں جہاں استعمال شدہ جوہری ایندھن کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جمع کیا جاتا ہے۔ گولہ باری کی صورت میں یہ تالاب آسانی سے نشانہ بن سکتے ہیں اور ان سے تابکار مواد کا اخراج ہو سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلی فورنیا میں انجینئرنگ کے پروفیسر نجم دین مشکاتی کے مطابق شاید ایسی صورت حال میں پلانٹ کو بجلی کی فراہمی میں معطلی سب سے بڑا مسئلہ ہوسکتی ہے۔

نجم دین مشکاتی اس سے قبل چرنوبیل اور فوکوشیما میں ہونے والی جوہری تباہی کے اسباب کا مطالعہ بھی کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی وجہ سے جوہری پلانٹ کو بجلی کی فراہمی معطل ہوتی ہے، ہنگامی طور پر ڈیزل سے چلنے والے آلات کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ اس لیے قابل انحصار نہیں ہوتے کہ کسی خرابی یا ایندھن ختم ہونے سے یہ رک سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں جوہری ایندھن کے تالاب کے درجۂ حرارت کو قابو میں رکھنے کے لیے پانی کی گردش رک سکتی ہے۔ ان کے نزدیک یہی سب سے بڑا خطرہ ہوسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی سے تعلق رکھنے والے اسکول آف کیمیکل اینڈ بائیومولیکیولر انجینئرنگ کے پروفیسر ڈیوڈ فلیچر کا کہنا ہے کہ اگر کولنگ سسٹم متاثر ہوجائے تو ری ایکٹرز کو بند کر دینا مسئلے کا حل نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ خطرہ صرف اسی صورت میں نہیں ہوتا جب چرنوبیل کی طرح کوئی دھماکہ ہو بلکہ کولنگ سسٹم اس وقت بھی ناگزیر ہوتا ہے جب ری ایکٹرز بند ہی کیوں نہ ہوں۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کولنگ سسٹم میں خرابی یا خلل کی وجہ سے فوکوشیما جیسے حادثات ہوسکتے ہیں۔

اب بھی خطرہ ہے؟

یوکرین جوہری توانائی پر انحصار کرنے والا ملک ہے۔ چار اسٹیشنز میں اس کے 15 ری ایکٹر ہیں جو ملک کی 50 فی صد بجلی کی طلب پوری کرتے ہیں۔

زپورزیا کے جوہری پلانٹ پر روس کے حملے کے بعد امریکہ کے صدر جو بائیڈن، برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن اور دیگر عالمی رہنماؤں نے فوری طور پر جوہری پلانٹ کے قریب لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

یوکرین کے نائب وزیرِ عظم دینیز شمیال نے مغربی ممالک سے جوہری پلانٹ کے اوپر کی فضائی حدود بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ یوکرین میں چرنوبیل کا سابق جوہری پلانٹ بھی موجود ہے جہاں سے اب بھی تابکاری کا رساؤ جاری ہے۔ روس نے یوکرین کے نیشنل گارڈز سے شدید جھڑپ کے بعد اس علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

یوکرینی حکام نے رواں ہفتے کے آغاز میں آئی اے ای اے سے مدد کی اپیل میں کہا تھا کہ روس نے چرنوبیل میں عملے کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور مسلسل کام کی وجہ سے عملہ بری طرح تھک چکا ہے۔

رواں ہفتے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل گروسی نے بھی روس سے چرنوبیل کے عملے کو اپنا کام ’تحفظ کے ساتھ اور مؤثر انداز‘ میں کرنے کی اجازت دینے کی اپیل کی تھی۔

رواں ہفتے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور خارکیف میں جوہری فضلے کو ٹھکانے لگانے والی تنصیبات روس کی گولہ باری کی زد میں آ چکی ہیں۔

ان دونوں تنصیبات میں طبی استعمال سے پیدا ہونے والے کم تابکاری کے حامل مواد کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے، تاہم آئی اے ای اے نے ان واقعات کے بعد خبردار کیا تھا کہ ایسے حادثات سنگین شکل بھی اختیار کرسکتے ہیں۔

جوہری تنصیبات کے تحفظ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں محفوظ بنانے کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ ان کے گردو نواح میں ہونے والے جھڑپیں اور حملے فوری روکے جائیں۔

کرائسس منیجمنٹ کے ماہر اور ٹوکیو کی نیہون یونیورسٹی کے پروفیسر متسورو فکودا کا کہنا ہے کہ زپورزیا پلانٹ پر روس کے حملے نے ایک بڑے سوال کو جنم دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ کسی باوقار ملک سے ایسے غیر دانش مندانہ اقدام کی توقع نہیں رکھتے۔ اب صدر پوٹن نے یہ اقدام کیا ہے۔ اب نہ صرف یوکرین بلکہ جاپان سمیت پوری دنیا کو جنگ کے دوران جوہری پلانٹس کو نشانہ بنائے جانے کے خطرے کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔

اس تحریر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے لی گئی ہیں۔



Source link