یوکرین کے دارالحکومت کیف سے نکلنا کتنا مشکل تھا



لاویف، یوکرین: تھکے ہوئے چہرے، بے خواب نگاہیں، اور پریشان بچے جنہیں دیکھ کر لب مسکرا ہی دیتے ہیں۔

یوکرین کے دارالحکومت کیف میں لاتعداد خاندان جنگ کے دوران دھماکوں سے بچنے کے لیے شہر کے میٹرو سٹیشن اور زیر زمین تعمیر شدہ پارکنگ گیراجوں میں گزارہ کر رہے ہیں۔ اس دوران یا تو رفع حاجت یا خوراک کے حصول کے لیے ہی کسی کا باہر نکلنا ہوتا ہے۔

ملک چھوڑنے کے لیے سفر کرنے والے خاندان بھی سڑک کنارے گاڑیوں کے باہر سستاتے ہوئے دکھ جاتے ہیں۔ یہ خاندان گھنٹوں، یا بعض اوقات کچھ دنوں سے ہمسایہ ممالک کی سرحدوں کے پار جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔کبھی ان سرحدوں کے پار جانا بالکل مشکل نہیں تھا مگر آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ افق کے پار ہیں اور روز بروز ان کا فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

کہیں نم آنکھوں کے ساتھ نوجوان اپنے والدین یا بزرگوں کو الوداع کر رہے ہیں کیونکہ وہ یا تو سفر کے لیے بہت ضعیف ہیں یا اپنے گھر چھوڑنا نہیں چاہتے۔ وہ ایسا کریں بھی کیوں؟ وہ ان ہنگامہ خیز حالات میں اپنی زمین سے جڑے رہنا چاہتے ہیں۔

ملک کے دارالحکومت کیف سے نکلنے کی تگ و دو کے دوران ہم نے جنگ کے اصل حالات دیکھے۔ کہیں الارم بج رہے ہیں تو کہیں دور سے دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ ہمیں بار بار اپنا روٹ بدلنا پڑتا ہے، کیونکہ کہیں توسڑکیں بند تھیں تو کہیں آگے فوجی ایکشن کی غلط یا صحیح اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔

ملک کے مغرب کی جانب ہمارا سفر سڑکوں کے بند ہونے کی وجہ سے مشکل تر ہوتا گیا۔ یہ سڑکیں یوکرین کی فوج نے کئی جگہوں سے بند کر رکھی ہیں۔ تاہم اب فوجی حکام چاہتے ہیں کہ ان بندشوں کو جلد از جلد ختم کیا جائے تاکہ یوکرین کے حلیفوں کی جانب سے موصول ہونے والا اسلحہ فوری طور پر محاذ جنگ تک بھیجا جا سکے اور کیف کا دفاع مضبوط کیا جاسکے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی افواج کو یہ شہر سر کرنے میں ڈیڑھ مہینہ لگا تھا۔

ملک کے مرکزی حصے میں واقعہ شہر ونیشیا پہنچنے تک ہمارے لیے راستوں کا تعین کرنا مزید مشکل ہو چکا تھا کیونکہ فوج کو خدشہ تھا کہ روسی ٹینک ملک کے جنوب کی جانب سفر کر سکتے ہیں، اس لیے مزید سڑکیں بند کر دی گئی تھیں۔

کیف سے لاویف تک کے بیس گھنٹے کے سفر کے دوران ہمیں صرف ایک دفعہ سستانے کا موقع ملا جب ایک درمیانی عمر کی شفیق خاتون، اوکسانا نے مجھے، میرے فکسر اور تین یوکرینی دوستوں کو اپنے گھر میں کچھ دیر آرام کرنے کی دعوت دی۔ اگلی صبح انہوں نے لذیذ ناشتے، کافی اور پھلوں سے ہماری دعوت کی۔ اوکسانا نے، جو اپنے ضعیف والد کی ان کے چھوٹے سے فلیٹ میں دیکھ بھال کرتی ہیں، ہم سے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔ ہم نے بھی پیسے دیے بغیر رخصت ہونے سے انکار کر دیا۔

مرکزی یوکرین میں لاویف کی طرف جاتے ہوئے اونچے پہاڑوں سے ہم نے ایک ایسا مصروف ملک دیکھا جو مستقل سفر میں تھا۔ البتہ یہ سفر نہایت تکلیف دہ اور کم رفتار ہے۔

یوں محسوس ہوا جیسے لوگ بھاگ نہیں رہے بلکہ بمشکل رینگ پا رہے ہیں۔

اس سفر کے دوران ہم نے شاہراہوں پر لوگوں کو ایندھن، کھانے اور پانی کی تلاش کرتے دیکھا۔ ہم نے ان سڑکوں کو جان بچانے کے لیے ہجرت کرنے والے شہریوں سے بھرا ہوا پایا۔ اور اس سب کے دوران پس منظر میں توپوں کی دھمک بھی سنائی دیتی تھی۔ ان لوگوں کی گاڑیاں اس سامان کے وزن سے جھکی ہوئی تھیں جو وہ جلدی میں ساتھ لے کر چل سکے۔ اس سامان میں کہیں بچوں کے کھلونے بکھرے ہوئے ہیں تو کہیں یادگاری اشیا گری پڑی ہیں۔ گھبرائے ہوئے خاندانوں کے پالتو جانور کونے کھدروں میں دبکے پڑے ہیں یا چونکہ گاڑیوں میں جگہ کی کمی ہے تو کسی کے نحیف بازوؤں نے انہیں سنبھالا ہوا ہے۔

لاکھوں یوکرینی شہری جنگ شروع ہونے کے بعد سے پولینڈ، مالدووا، رومانیا اور سلوواکیا کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے پیچھے بندوقوں اور میزائلوں کی تکلیف دہ گرج چھوڑے جا رہے ہیں، تاکہ اپنے پریشان حال بچوں کا مستقبل محفوظ بنا سکیں۔ وہی بچے جو انجان لوگوں کو دیکھ کر بھی مسکرا اٹھتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اتوار کے روز رپورٹ کیا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک 3 لاکھ 70 ہزار شہری ملک کی مغربی سرحدیں پار کر چکے ہیں۔ ان میں سے 1 لاکھ 87 ہزار افراد پولینڈ گئے ہیں۔ کچھ امدادی کارکنان کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو چالیس لاکھ سے ز یادہ افراد ملک سے ہجرت کر سکتے ہیں۔ یہ انتہائی تشویش ناک امر ہے اور 90 کی دہائی میں بلقان کے تنازع کے دوران ہونے والی ہجرت کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے جب13 لاکھ کے قریب افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

ملک میں چھوٹے سے چھوٹا سفر بھی اب چار سے پانچ گھنٹے طویل ہو چکا ہے جب کہ بذریعہ کار کیف سے لاویف پہنچنے کے لیے دو سے تین روز لگ رہے ہیں۔ اس دوران لوگ خود سے، ایک دوسرے سے، اور ہم سے یہی سوال پوچھتے ہیں کہ وہ منزل تک کب پہنچیں گے؟ منزل آخر ہے کہاں؟ یہ جنگ کب ختم ہوگی؟ کیا مغربی ممالک اپنی افواج، ہتھیار اور جنگی جہاز ان کی مدد کے لیے بھیجیں گے؟ اور کیا وہ اپنے گھر بار، اپنے والدین اور بزرگوں کو دوبارہ کبھی دیکھ سکیں گے؟

اور جہاں ہم پہنچ پائے، کیا وہاں لوگ ہم سے ہمدردی سے پیش آئیں گے؟



Source link