’چین امریکہ کے ساتھ تعمیری مذاکرات کرنے پر تیار ہے

’چین امریکہ کے ساتھ تعمیری مذاکرات کرنے پر تیار ہے‘

’چین امریکہ کے ساتھ تعمیری مذاکرات کرنے پر تیار ہے‘

چین نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک دنیا کو درپیش مختلف مسائل پر مل کر کام کر سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ’اگر چین اور امریکہ اپنے خراب تعلقات کو ٹھیک کر لیں تو کورونا وائرس اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل پر مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔‘

وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا ہے کہ ’چین امریکہ کے ساتھ تعمیری مذاکرات کرنے پر تیار ہے۔‘
چینی وزیر خارجہ نے امریکہ سے چین کی مصنوعات پر سے ٹیرف ہٹانے اور بالخصوص ٹیکنالوجی کے شعبے پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی ترک کرنے کا کہا ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ان اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی فضا پیدا ہوگی۔‘

وزیر خارجہ وان یی نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ ’وہ چین کے بنیادی مفادات کی عزت کرے، کمیونسٹ پارٹی پر تنقید اور داخلی معاملات میں مداخلت بند کرے اور تائیوان کی آزادی کے لیے مخالف قوتوں سے تعاون نہ کرے۔‘

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ چند برسوں سے امریکہ نے ہر معاملے پر چین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات پر مذاکرات کا سلسلہ بند کیا ہوا ہے۔‘
امریکہ جنوبی چینی سمندر پر چین کے دعوے کو مسترد کرتا ہے

انہوں نے کہا کہ ’چین امریکہ کے ساتھ بے تکلف بات چیت کرنے پر تیار ہے اور مسائل حل کرنے کے مقصد سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔‘

وان یی نے چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی ہم منصب جو بائیڈن کے درمیان ہونے والی حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کو مثبت اقدام قرار دیا۔

امریکہ اور چین کے درمیان مختلف معاملات تنازعے کا باعث بن چکے ہیں۔ سنکیانگ کے مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی، جنوبی چینی سمندر پر چین کا دعویٰ اور تجارت سے متعلق مختلف معاملات پر دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کر چکے ہیں۔

صدر جو بائیڈن بھی چین کی ’غیر منصفانہ اور جابرانہ‘ تجارتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ جو بائیڈن نے سنکیانگ میں چینی مداخلت پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف اپنایا ہے کہ چینی حکومت سنکیانگ کے مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کر رہی ہے۔
تاہم صدر جو بائیڈن چین کی جانب کثیرالجہتی پالیسی اپنانے اور مختلف معاملات پر تعاون کرنے کا کہہ چکے ہیں۔

Leave a Reply