مغربی ممالک کی افواج کی میزبانی کرنے والی ایئر بیس پر 10 راکٹ فائر

امریکہ کی سربراہی میں اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عراقی فوج کے زیرِ استعمال ایک بیس کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا ہے جہاں غیر ملکی فوجی بھی موجود تھے۔

ترجمان کرنل وین مروٹو نے بتایا کہ بدھ کو عین الاسد ایئربیس پر 10 راکٹ فائر کیے گئے۔ تاہم حملے میں فوری طور پر ہلاکتوں یا نقصان کے بارے میں پتا نہیں چل سکا۔

یہ وہی ایئر بیس جسے گزشتہ برس ایران نے امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردِعمل میں نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی حملے کے وقت مذکورہ ایئربیس پر امریکی فوجی اہلکار موجود تھے۔

یہ حملہ گزشتہ ہفتے امریکہ کی جانب سے عراق اور شام کی سرحد پر ایک ملیشیا کے اہداف پر فضائی حملے کے بعد کیا گیا ہے۔ امریکی حملے میں ایک عسکریت پسند ہلاک ہو گیا تھا۔ اس حملے کو جوابی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران عراق اور شام میں اتحادی افواج اور ایران نواز گروہوں کے درمیان راکٹوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

دو ہفتے قبل ہی شمالی عراق میں ایک بیس پر راکٹ داغے گئے تھے جس کے نتیجے میں امریکی فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک سویلین کنٹریکٹر زخمی ہو گیا تھا۔

اس حملے کے جواب میں امریکی فوج نے ڈرون طیاروں کی مدد سے شام کی سرحد کے قریب ایران نواز ملیشیا ‘کتائب حزب اللہ’ کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے جوابی کارروائی میں ایرانی نواز ملیشیا کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

گزشتہ سال عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔



Source link

Leave a Reply