پہلی خاتون مجرمہ کو پھانسی دینے کی تیاری/فوٹو ہم نیوز

بھارت: پہلی خاتون مجرمہ کو پھانسی دینے کی تیاری

پہلی خاتون مجرمہ کو پھانسی دینے کی تیاری

نئی دہلی: بھارت میں آزادی کے بعد قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ خاتون مجرمہ کو پھانسی کی سزا دینے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

اتر پردیش کی رہائشی شبنم پر اپنے خاندان کے افراد کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔ اس نے یہ جرم اپنے آشنا کے ساتھ مل کر انجام دیا تھا۔

2008 میں وقوع پذیر ہونے والے اس ہولناک واقعہ کے متعلق مجرمہ شبنم کے قریبی عزیر ستار علی کا کہنا ہے کہ شبنم کو ہر قیمت پر پھانسی کی سزا ہونی چاہیے کیونکہ اس نے نہایت درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی خاندان کے سات افراد کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا تھا۔

بھارتی اخبار کے مطابق شبنم کی جانب سے گورنر اور صدر کو دی جانے والی رحم کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

شبنم اس وقت رامپور ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہے جب کہ اس کے ساتھ مل کر بہیمانہ قتل جیسا گھناؤنا فعل انجام دینے والا سلیم آگرہ جیل میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہا ہے۔

رامپور ڈسٹرکٹ جیل کے جیلر راکیش کمار ورما نے اس حوالےسے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے پھانسی دیے جانے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

راکیش کمار ورما کے مطابق ہم نے امروہہ انتظامیہ سے درخواست کی ہے وہ مجرمہ کا ڈیتھ وارنٹ حاصل کریں اور جیسے ہی وہ مل جائے گا تو ہم اسے متھورا ڈسٹرکٹ جیل منتقل کردیں گے کیونکہ خاتون کو پھانسی دینے کا اختیارانھی کے پاس ہے اور پھانسی جیسی سزا پر عمل درآمد بھی وہیں ممکن ہے۔

ایڈووکیٹ ارشد انصاری نے اس حوالے سے کہا کہ ملک میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جس میں خاتون پر جرم ثابت ہوا لیکن عدالت نے انہیں پھانسی کی سزا دینے کے بجائے ان کی سزا کوعمر قید میں تبدیل کردیا۔

Leave a Reply