How long can a corona virus live on a mask?

کورونا وائرس ماسک پر کتنے دن تک زندہ رہ سکتا ہے اور اسے تلف کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

کورونا وائرس ماسک پر کتنے دن تک زندہ رہ سکتا ہے اور اسے تلف کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

آج کل سڑکوں پر جہاں پہلے ہی کچرے کا ڈھیر جگہ جگہ موجود ہوتا تھا وہاں ایک نئی چیز کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور وہ ہے استعمال شدہ “ماسک“۔ عالمی وباء میں لوگوں کو ہر وقت اور ہر جگہ ماسک اور گلوز استعمال کرنے کی ہدایات دی جارہی ہیں تاکہ کورونا وائرس سے زیادہ سے زیادہ بچا جاسکے لیکن جا بجا پھینکے گئے فیس ماسک اور گلوز وائرس کو پھیلانے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔

ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 61,762,860 فیس ماسک استعمال کیے جارہے ہیں جن کو مناسب طرح ٹھکانے لگانے یا ریسائیکل کا انتظام نہ ہونے کے سبب یہ ماسک مذید وائرس کے پھیلاؤ اور دیگر بڑی ماحولیاتی خرابیوں کی وجہ بن رہے ہیں۔

کورونا وائرس ماسک پر کتنے دن تک زندہ رہ سکتا ہے؟
ہانک کانگ یونیورسٹی کی ریسرچ کے مطابق موذی کورونا وائرس اگر کسی فیس ماسک میں موجود ہو تو ایک ہفتے تک خود کو زندہ رکھ سکتا ہے۔ وائرس کی مختلف سطحوں پر خود کو زندہ رکھنے کی صلاحیت کے موضوع پر تحقیق کرنے والے پیریس کہتے ہیں کہ

“سات دن کے بعد بھی ماسک کی اوپری سطح پر کورونا وائرس کی واضح سطح موجود تھی، یہی وجہ ہے کہ اگر آپ ماسک کا استعمال کرتے ہیں تو اس کو ہاتھ لگانے سے اور چہرہ چھونے سے منع کیا جاتا ہے“

یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ وائرس زدہ ماسک جس پر وائرس ایک ہفتے تک زندہ رہ سکتا ہے، سڑک پر پھینکے جانے سے کتنے لوگوں میں انفیکشن پھیلا سکتا ہے۔

ماحول کے لئے بڑا خطرہ
سی این این میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ماحولیات کے شعبے سے منسلک تمام ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ پھینکے گئے ،استعمال شدہ ماسک اور گلوز ماحول اور سمندری جانوروں کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ جہاں پہلے ہی پلاسٹک کا کچرا سمندر میں آلودگی کی بڑی وجہ ہے وہیں فیس ماسک اور گلوز جوبنیادی طور پر مائیکروپلاسٹک سے ہی بنی ہوئی اشیاء ہیں، ماحول کو مذید آلودہ کررہے ہیں۔ نیز ماسک کے گرد ڈوری سمندی جانور اور پرندوں کے گلےاور پیروں میں پھنس جاتی ہے جس سے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ماسک اور گلوز کو کس طرح ٹھکانے لگایا جائے
ریسائیکلنگ کرنا یا بڑے پیمانے پر صحیح جگہ کچرے کو ٹھکانے لگانا تو حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن عوام کو چاہیے کہ استعمال کے بعد ماسک کو سڑک پر کسی صورت نہ پھینکے بلکہ کوشش کریں کہ ڈوریاں کاٹ کر ماسک کو تھیلے میں باندھ کر کچرے کے ڈبے میں ڈالیں تاکہ ہر ممکن حد تک وائرس کے مذید پھیلاؤ سے بچاجاسکے۔

Leave a Reply