اگر حاملہ خواتین کو کووڈ ہوجائے تو

اگر حاملہ خواتین کو کووڈ ہوجائے تو؟ وہ احتیاطی تدابیر جو ہر ماں کو ضرور اختیار کرنی چاہئیں

اگر حاملہ خواتین کو کووڈ ہوجائے تو؟ وہ احتیاطی تدابیر جو ہر ماں کو ضرور اختیار کرنی چاہئیں

ایک عام خیال ہے کہ اگر حاملہ خاتون کووڈ 19 کا شکار ہوگئی ہیں تو لازمی ان کا بچہ بھی پیدائشی طور پر اس وائرس کا شکار ہوگا۔ جبکہ مختلق ریسرچز کی روشنی میں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ابھی تک حاملہ خاتون سے بچے میں وائرس منتقل ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ۔ ڈاکٹر شائستہ لودھی میڈیکل سینٹر کی ماہرِ زچہ وبچہ ڈاکٹر عروج ناز اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر خاتون حمل کے شروع میں کووڈ کا شکار ہوئی ہیں تو بچے کے متاثر ہونے کے نقصانات بہت کم ہیں۔ نہ ہی بچے کی نشونما پر کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی اس کی صحت متاثر ہوگی اور اگر حمل کے آخری مہینوں میں یا پھر بچے کی پیدائش کے بعد کورونا وائرس سے متاثر ہوئی ہیں تو پھر ماں کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عروج کی بتائی ہوئ تمام احتیاط درجِ ذیل ہیں۔

وہ احتیاطی تدابیر جو کووڈ سے بچنے کے لئے تمام حاملہ خواتین کو اختیار کرنا بہت ضروری ہیں
بار بار ہاتھ صابن سے ہاتھ دھوئیں

لوگوں سے فاصلہ اختیار کریں

متوازن خوراک لیں

ڈاکٹر کے مشورے سے فولک ایسڈ، وٹامن ڈی اور ملٹی وٹامن دوائیں لیں

الٹراساؤنڈ اور پاہانہ ٹیسٹ لازمی کروائیں لیکن ساتھ ہی ایس او پیز یعنی احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں۔

سینیٹائزر اور ماسک کا استعمال کریں

بلا ضرورت باہر نہ جائیں

بخار اور نزلے کھانس کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اور نظر انداز مت کریں

ڈاکٹر جو بھی ٹیسٹ تجویز کرے وہ فوراً کروالیں

دورانِ حمل کووڈ کا شکار ہونے والی خواتین یہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں
اپنے آپ کو لوگوں سے علیحدہ کرلیں اور ملنے جلنے سے گریز کریں

پانی زیادہ سے زیادہ پئیں

بخار کی صورت میں اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے پیراسیٹامول کھا سکتی ہیں۔

خود سے کوئی بھی دوا مت کھائیں

آرام کا خیال رکھیں اور محنت والی سرگرمیں سے اجتناب کریں

عام روٹین چیک اپ کے لئے ضرور جائیں البتہ آپ کے معالج کے پاس وڈیو کال پر رابطے کی سہولت موجود ہے تو یہی طریقہ اختیار کریں۔

اگر کووڈ کے اثرات زیادہ ہوں تو فوراً اسپتال جائیں

ماں کو کووڈ کے دوران بچے کی پیدائش کے بعد کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

احتیاطی تدابیر اور ڈاکٹر کے مشورے سے ماں بچے کو دودھ پلاسکتی ہے

بچے کو چھونے سے پہلے اچھی طرح ہاتھ دھو کر سینیٹائز کرنا ضروری ہے

دودھ پلانے کے دوران ماں فیس ماسک ضرور پہنے

دودھ پلانے کے فوراً بعد بچے کو خود سے فاصلے پر لٹائیں

بچے کو فیس ماسک نہ پہنائیں کیوںکہ بہت زیادہ چھوٹا ہونے کے سبب وہ گھٹن کا شکار ہوسکتا ہے۔

نوٹ
کوڈ 19 ایک وباء ہے جس کا شکار کبھی بھی کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ اگر آپ دورانِ حمل اس وائر سے متاثر ہوئی ہیں تو پریشان ہونے کے بجائے خود کو الگ کرلیں ، احتیاطی تدابیر جاری رکھیں۔ اور اپنے معالج سے رابطے میں رہیں۔ 

Leave a Reply