’خفیہ‘ کیمروں اور مسترد ووٹوں پر تنازعے کے شور میں حکومتی فتح

’خفیہ‘ کیمروں اور مسترد ووٹوں پر تنازعے کے شور میں حکومتی فتح

’خفیہ‘ کیمروں اور مسترد ووٹوں پر تنازعے کے شور میں حکومتی فتح

جمعے کی صبح اسلام آباد میں دھند تو نہیں تھی بلکہ بادل چھائے ہوئے تھے، جب ارکان سینیٹ حلف اٹھانے اور چیئرمین و ڈپٹی چئیرمین کا انتخاب کرنے رواں دواں تھے تو پارلیمنٹ کے اوپر لہراتا پاکستانی پرچم قدرے تیز ہوا سے پھڑپھڑاتا ہوا نظر آ رہا تھا اور ہوا میں خنکی موجود تھی۔
سینیٹ کے خصوصی اجلاس سے قبل چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر بھی بادل اس وقت منڈلانے لگے جب اپوزیشن کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر اور مصدق ملک نے ایوان بالا میں کیمرے نصب کرنے کا الزام عائد کر دیا۔
اپوزیشن صرف الزام لگانے تک ہی نہیں رہی بلکہ پولنگ بوتھ کے اوپر، اندر اور ارد گرد سے چار سے چھ کیمرے برآمد کرتے ہوئے ان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں۔
اپوزیشن کی درخواست کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر نے اس سارے معاملے کی تحقیقات کے لیے سینیٹ کی چھ رکنی کمیٹی بنا کر معاملہ سنبھالا۔
کمیٹی اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کرے گی کہ یہ کیمرے تھے بھی یا نہیں؟ چل رہے تھے یا نہیں؟ کس نے لگوائے اور کس نے لگائے؟
تاہم جب یہ سارا معاملہ چل رہا تھا اسی وقت پارلیمانی راہداریوں میں موجود میڈیا نمائندگان کو سینیٹ کے حکام کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن واٹس ایپ پر موصول ہوا، جس کے ذریعے گزشتہ روز یعنی 11 مارچ کو وجاہت افضل نامی ایک شخص کو بغیر کسی تشہیر کے ایڈیشنل سارجنٹ ایٹ آرمز تعینات کیا گیا ہے۔
اپوزیشن کیمروں کی تنصیب اور اس تعیناتی کو بھی باہم جوڑتی ہوئی نظر آئی۔
کمیٹی اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کرے گی کہ یہ کیمرے تھے بھی یا نہیں؟ (فوٹو: مصدق ملک، مصطفیٰ نواز کھوکھر)

عموماً سینیٹ کا پہلا اجلاس بہت ہی اچھے ماحول میں ہوتا ہے لیکن جونہی نومنتخب سینیٹرز نے حلف اٹھایا تو باہر کے موسم کے برعکس ایوان کا ماحول گرم ہوگیا۔

سینیٹر رضا ربانی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور بولنے کی اجازت چاہی۔ حکومت کی جانب سے وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا کہ ’رول 9 کے تحت آج کے اجلاس میں حلف برداری کے علاوہ کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘
رضا ربانی نے انتہائی غصے میں کہا کہ ’آئین پولنگ بوتھ میں کیمرے لگانے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔‘ اس دوران سنجیدہ سمجھا جانے والے ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے شور شرابے کے باعث کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔
وقفے کے بعد پولنگ کا آغاز ہوا تو پریزائیڈنگ آفیسر نے ووٹ کاسٹ کرنے کا طریقہ کار بتایا اور پولنگ شروع کرا دی۔
سینیٹر احمد خان، سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر روبینہ خالد کے بیلٹ پیپر خراب ہوئے تاہم انھوں نے ووٹ باکس میں ڈالنے سے پہلے ہی نئے بیلٹ باکس کی درخواست دے کر حاصل کر لیا۔ پولنگ کا عمل خوش اسلوبی سے انجام کو پہنچا اور گنتی شروع ہو گئی۔
جونہی نومنتخب سینیٹرز نے حلف اٹھایا تو باہر کے موسم کے برعکس ایوان کا ماحول گرم ہوگیا (فوٹو: اردو نیوز)

سیکرٹری سینیٹ کے سامنے چار ٹوکریاں رکھی گئی تھیں جن میں سے دو ٹوکریاں امیدواروں کی تھیں جبکہ ایک ٹوکری مسترد جبکہ ایک متنازع ووٹوں کے لیے رکھی گئی تھی۔

جب ایک تہائی ووٹ گنے جا چکے تھے تو صادق سنجرانی 20، یوسف رضا گیلانی 10 اور دو ووٹ متنازع جبکہ ایک ووٹ مسترد ہوچکا تھا۔
جوں جوں گنتی آگے بڑھتی گئی تو صادق سنجرانی اور یوسف رضا گیلانی کے ووٹوں کا فرق بھی کم ہوتا گیا۔ جب بھی ووٹوں کا فرق چار رہ جاتا ایک بار پھر کوئی نہ کوئی ووٹ متنازع ٹوکری میں چلا جاتا اور ساتھ ہی صادق سنجرانی کے ایک دو ووٹ مزید نکل آتے۔
جو سات ووٹ متنازع ٹوکری میں گئے ان کی نشان دہی صادق سنجرانی کے پولنگ ایجنٹ سینیٹر محسن عزیز نے کی جبکہ فاروق ایچ نائیک نے کسی ایک ووٹ پر بھی اعتراض نہیں کیا۔
اپوزیشن کے اعتراض کے باوجود پریزائیڈنگ آفیسر نے ان سات ووٹوں کو مسترد قرار دیا جبکہ ایک ووٹر کی جانب سے دونوں امیدواروں کو ووٹ دیا گیا تھا۔
حتمی نتیجے کے مطابق صادق سنجرانی حکومتی اتحاد کی کل تعداد 47 سے ایک ووٹ زیادہ لے کر مسلسل دوسری مرتبہ چیئرمین منتخب ہوگئے اور یوسف رضا گیلانی سات ووٹ مسترد ہونے کے باعث 42 ووٹ ہی حاصل کرسکے۔
یوسف رضا گیلانی سات ووٹ مسترد ہونے کے باعث 42 ووٹ ہی حاصل کرسکے (فوٹو: روئٹرز)

یوں سینیٹ کی اسلام آباد کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ان کی ہار میں بھی مسترد شدہ ووٹوں کا واضح کردار سامنے آ گیا۔

اس تنازع کو لے کر اپوزیشن کا یہ دعویٰ تھا کہ ان کے ارکان نے ووٹ اپنے ہی امیدوار کو ڈالے تھے اس لیے خانے کو بنیاد بنا کر ووٹ مسترد کرنا خلاف قانون ہے۔
پارلیمان کے باہر غصے سے بھری اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے نتیجے کو چیلنج کرنے اور تحریک عدم اعتماد لانے کے بارے میں مشاورت کرنے کا اعلانات کر رہی تھی تو اندر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہو رہا تھا جہاں اپوزیشن ارکان اپنی ہی قیادت کے خلاف عدم اعتماد کر چکے تھے۔
47 ووٹ رکھنے والی حکومت کے ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار مرزا محمد آفریدی 54 ووٹ لے کر منتخب ہو چکے تھے جبکہ ان کے مدمقابل 51 ووٹوں کی حامل اپوزیشن کے امیدوار مولانا غفور حیدری 44 ووٹ ہی حاصل کر سکے تھے۔
ماہرین کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں حکومتی امیدوار کی کامیابی نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں پیدا ہونے والے تنازع کو تقریباً ختم ہی کر دیا ہے۔
شام کے وقت جب دن بھر کی سیاسی سرگرمی کے بعد ارکان پارلیمان سے باہر آ رہے تھے تو صرف سیاسی درجہ حرارت میں ہی اضافہ نہیں ہوا تھا بلکہ اسلام آباد کی ہوا سے خنکی بھی ختم اور بادل چھٹ چکے تھے۔

Leave a Reply