Step-relationships are also relationships

سوتیلے رشتے بھی رشتے ہوتے ہیں۔۔۔ ان رشتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لئے چند مفید مشورے

سوتیلے رشتے بھی رشتے ہوتے ہیں۔۔۔ ان رشتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لئے چند مفید مشورے

“میرے والد نے میرے ساتھ صحیح نہیں کیا۔۔۔ ماں مر گئی تو دوسری شادی کرلی اب پتا نہیں سوتیلی ماں ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گی“ زین غصے میں بڑبڑایا

سوتیلے رشتوں کی سب سے بڑی مجبوری ان پر بری چھاپ ہونا ہے۔ سوتیلے ماں باپ یا بہن بھائی بھی انسان ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہمیشہ برے ہی ہوں لیکن سینڈریلا کی کہانی سے لے کر اب تک ہر ڈرامے یا فلم میں ہمیشہ سوتیلے کردار خصوصاً سوتیلی ماؤں کو برا اور ظالم ہی دکھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی لڑکی یا عورت کو سوتیلی ماں بننا پڑتا ہے تو خواہ وہ کتنی ہی نیک فطرت کیوں نہ ہو دنیا، سسرال والے اور سوتیلے بچے اس کے ہر عمل کو شک کی نظر سے ہی جانچتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ان تمام خواتین کی رینمائی کے لئے چند مفید مشورے دیے جاریے ہیں جن سے وہ خود پر سے سوتیلے پن کی چھاپ ہٹا سکتی ہیں۔

1- سگی ماں سے مقابلہ نہ کریں
اگر آپ اپنے سوتیلے بچوں سے بہت زیادہ پیار کرتی ہیں پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ سگی ماں کی جگہ نہیں لی جاسکتی۔ اگر بچوں کی سوتیلی ماں آپ کے ساتھ رہتی ہیں تو کوشش کریں ان کے اور بچوں کے درمیان گزارے جانے والے وقت میں آپ کا زیادہ عمل دخل نہ ہو۔ یہ نہ سوچیں کہ زیادہ محبت یا خدمت سے آپ سگی ماں سے زیادہ رتبہ حاصل کرلیں کیونکہ اس سوچ سے آپ کے اندر مقابلے اور رقابت کے جذبات پیدا ہوں گے

2- رشتے کو یاد رکھنا ضروری نہیں
اگر بچہ آپ کو کسی کے سامنے سوتیلی ماں کہہ کر متعارف کرواتا ہے تو اس کو دل پر نہ لیں کیونکہ یہ اس کا آپ میں اور اپنی حقیقی ماں کے درمیان فرق کرنے کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔ البتہ کوشش کریں کہ آپ کے اور بچے کے درمیان لفظ “سوتیلے“ کا استعمال بار بار نہ ہو کیونکہ اس سے اچھے بھلے دوستانہ تعلق کے درمیان بھی سوتیلا پن آجاتا ہے

3- خود پر اعتماد رکھیں
اگر آپ ایک اچھی ماں کا کردار نبھا رہی ہیں تو خود پر اعتماد رکھیں اور یہ جان لیں کہ آپ بچے کی زندگی میں ایک اہم کردار نبھا رہی ہیں۔ اپنے تعلق کے بارے میں اعتماد سے سوچنے سے آپ کو مذید اچھی ماں بننے کا حوصلہ ملے گا۔

4- تسلیم کرلیں کہ ہر چیز پر قابو نہیں پایا جاسکتا
ہوسکتا ہے کم عمر سوتیلا بچہ آپ کو سینڈریلا کی سوتیلی ماں کی طرح ہی ظالم اور منفی سمجھے اور آپ کی کوشش کے باوجود بھی آپ سے دوستانہ تعلقات بنانے پر تیار نہ ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے سوتیلا بچہ تھوڑی بڑی عمر کا ہو۔۔۔ اس صورت میں قریبی عزیز یا بچوں کی سگی ماں بھی بچوں کے دل و دماغ میں آپ کے خلاف منفی باتیں ڈال سکتی ہیں۔ اس لئے صبر سے کام لیں کیوں کہ یہ وہ چیزیں ہیں جنھیں قابو نہیں کیا جاسکتا۔ صرف وقت اور صبر کے زریعے ہی دلوں میں جگہ بنائی جاسکتی ہے۔ اگر آپ ایک دفعہ بچوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں تو یاد رکھیں آپ کا مرتبہ ان کی آنکھوں میں بہت بلندی پر ہوگا

5- بچوں کی حقیقی ماں کے ساتھ تعلقات
شاید یہ آپ کے لئے تھوڑا مشکل ہو لیکن اگر آپ فطری طور پر نیک طبیعت ہیں تو اتنا مشکل بھی نہیں ہوگا۔ بچوں کا دل جیتنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی حقیقی ماں کے بارے میں احترام سے گفتگو کریں اور اگر اپ سے ان کا براہِ راست تعلق ہے تو ان سے اچھے انداز میں بات کریں۔ اس سے بچہ خودبخود آپ کو اپنے دشمنوں کی فہرست سے نکال دے گا اور آپ کے لئے اس کا دل نرم پڑنا شروع ہوجائے گا۔

Leave a Reply