بھارتی انڈس واٹر کمشنر کی پاکستان آمد، تین روزہ مذاکرات منگل سے اسلام آباد میں ہوں گے



پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی ذخائر کے مسائل پر ڈھائی سال کے تعطل کے بعد بات چیت شروع کرنے کے لیے پیر کے روز بھارت کے انڈس واٹر کمشنر اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے۔

2019 میں بھارت کی جانب سے کشمیر کی خود مختار حیثیت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ روایتی حریف ملک کا سرکاری وفد پاکستان پہنچا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ برس پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر وفد کے ہمراہ نئی دہلی گئے تھے اور تقریباً ڈھائی سال کے تعطل کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کے مسائل پر دو طرفہ مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہوا تھا۔

بھارت کے دس رکنی وفد کی قیادت بھارتی انڈس واٹر کمشنر پردیپ کمار سکسینہ جب کہ پاکستان کی طرف سے پاکستان انڈس واٹر کمشنر سید مہرعلی شاہ کریں گے۔

بھارتی وفد سوموار کو لاہور کے قریب واہگہ سرحدی گزرگاہ سے پاکستان میں داخل ہوا جہاں سے وہ بذریعہ کار اسلام آباد پہنچے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ’انڈس واٹر معاہدے‘ کے تحت پانی کی تقسیم کے حوالے سے بات چیت کا باقاعدہ آغاز منگل سے اسلام آباد میں ہو گا۔

‘انڈس واٹر ٹریٹی’ کے نام سے اس معاہدے میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ دونوں ملکوں کے نمائندے سال میں کم سے کم ایک بار اس موضوع پر بات چیت کے لیے ضرور ایک دوسرے کے ملک میں ملاقات کریں گے۔

یکم مارچ سے تین مارچ تک اسلام آباد میں جاری رہنے والے اس مذاکراتی دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 10 نکاتی ایجنڈے پربات چیت ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق مذاکرات کے ایجنڈے میں پن بجلی کے منصوبے شامل ہیں جن میں پکل ڈل (1000 میگاواٹ)، کیرو (624 میگاواٹ)، دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے لوئر کلنائی (48 میگاواٹ) اور لداخ میں دریائے سندھ پر تعمیر کیے جانے والے دیگر منصوبے شامل ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے مذکورہ تینوں ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کے سابق انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن کہتے ہیں کہ معاہدے کی روح سے دونوں کو انڈس واٹر معاہدے پر بات چیت کے لیے سال میں ایک مرتبہ ملنا لازمی ہے جو کہ حالیہ برسوں میں کچھ تعطل کے بعد گذشتہ سال دوبارہ بحال ہوئے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں پر ڈیم کی تعمیر پر پاکستان کے اعتراضات ہیں اور اس اجلاس میں ان اعتراضات پر بات ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت ڈیموں کی تعمیر پر اپنا موقف پاکستان کے سامنے رکھے گا۔

بھارت کے ساتھ پاکستان کے پانی کے تنازعات کے ماہر شیراز میمن کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کے معاملے پر سیاسی بیانات ضرور دیے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد بہتر انداز میں ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق معاملات اور طے شدہ نکات پر عمل درآمد میں تاخیر ضرور ہو جاتی ہے جو کہ سیاسی بیان بازی کا سبب بنتی ہے لیکن کسی فریق کی جانب سے معاہدے کے بنیادی اصولوں کی نفی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریا بڑے ہونے کے باعث سندھ طاس معاہدے میں بھارت کو ان دریاؤں پر پانی محفوظ کرنے اور بجلی بنانے کی کچھ گنجائش دی گئی تھی۔

شیراز میمن نے بتایا کہ پاکستان کے اعتراض پر بھارت نے پَکل دُل اور راتلے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن میں تبدیلیوں کی پیش کش کی تھی لیکن اس پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

شیراز میمن نے کہا کہ ماضی میں دونوں ممالک کے انڈس واٹر کمشنر ز کے درمیان اعتراضات برقرار رہنے پر عالمی ثالثی عدالت کا رخ کیا جاتا رہا ہے اور اگر حالیہ اعتراضات کو دور نہیں کیا جاتا تو پاکستان ثالثی عدالت کا رخ کرسکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے تاخیر کے سبب ہی بھارت کو کشن گنگا ڈیم بنانے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں انڈس واٹر کمشنر کی مستقل تعیناتی نہ ہونے کے سبب پاکستان کو بھارت کے ساتھ ان معاملات پر بات چیت میں مشکلات کا سامنا ہے۔

سن 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت دریائے راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر حق رکھے گا جب کہ چناب اور جہلم کے دریاؤں کا پانی پاکستان استعمال کرے گا۔

حالیہ برسوں میں بھارت نے دریائے جہلم اور چناب پر پانی کے استعمال اور ان دریاؤں پر ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

پاکستان نے ان منصوبوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبے اور پانی کا استعمال معاہدے کے مطابق ہے۔

گزشتہ برس نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز نے سندھ طاس معاہدے کے تحت ایک دوسرے کی جانب بہنے والے دریاؤں میں جاری آبی منصوبوں سے متعلق تحفظات دُور کرنے اور ان کے تکنیکی معائنے کی اجازت پر اتفاق کیا تھا۔



Source link