بھارت اور پاکستان میں دوستی کی بات کتنی مشکل ہے؟



بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین جہاں گزشتہ چند برس میں سفارتی سطح پر تناؤ میں اضافہ ہوا ہے وہیں دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے امن کی بات کرنے والے کارکنان ’پیس بلڈرز‘ کا کہنا ہے کہ وہ ان حالات سے مایوس نہیں ہیں۔ آج بھی سوشل میڈیا دونوں ممالک کے لوگوں کو قریب لانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔

دونوں ممالک میں امن کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا تھا کہ 2015 سے پہلے انہیں سوشل میڈیا پر کام کرتے ہوئے کھلا میدان ملا تھا البتہ وقت کے ساتھ ساتھ جہاں ان ممالک میں سفارتی سطح پر تناؤ میں اضافہ ہوا اور ریاستوں کا سوشل میڈیا پر کنٹرول بڑھتا گیا وہیں امن کی کوششیں بھی مشکل تر ہوتی چلی گئیں۔

ان ’پیس بلڈرز‘ کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھی نئے طریقے ڈھونڈ لیے ہیں اور جہاں پہلے فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال ہوتا تھا، وہیں اب زوم اور ویڈیو کانفرنس کے نئے ذرائع استعمال کر کے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لا رہے ہیں۔

پاکستان بھارت میں امن کی ایک سرکردہ علم بردار بینا سرور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برس میں پاکستان اور بھارت، ممالک کے طور پر تو ایک دوسرے سے دور ہوئے ہوں گے، لیکن ان کی سرحدیں تو ملی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں لوگوں کو ملنے سے روک سکتی ہیں۔ تجارت، جہاز، ٹرین اور دیگر رابطے کے ذرائع بند کر سکتی ہیں۔ البتہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور آتے رہیں گے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں کتنا کچھ بند کریں گی اور کب تک بند کرتی رہیں گی؟

اس سوال پر کہ کیا سوشل میڈیا دونوں ممالک کی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اپنے ماحول سے الگ تھلگ ہو کر کام نہیں کر سکتے۔ اس لیے یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ سوشل میڈیا پالیسی شفٹ لا سکتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے 2011 کی ایک وائرل ٹوئٹ کا حوالہ دیا جب پاکستان سے دو خواتین، صبا گل اور ثنا کاظمی نے کرکٹ ورلڈ کپ 2011 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان موہالی اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے میچ میں شرکت کے لیے ویزا اور ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے ایک ٹوئٹر ٹرینڈ #GettheGirlsToMohali کا سہارا لیا۔

انہوں نے کہا کہ لوگ اس طرح سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں جب چیزیں ٹرینڈ ہوتی ہیں اور روایتی میڈیا بھی انہیں اٹھاتا ہے تو حکمرانوں کو بھی کبھی کبھی نوٹس لینا پڑتا ہے۔

انہوں نے بھارت کی سابق وزیرِ خارجہ سشما سوراج کا حوالہ دیا جنہوں نے ٹوئٹر کے ذریعے متعدد پاکستانی افراد کو بھارت میں علاج کی خاطر داخلے کے لیے ویزا حاصل کرنے میں مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا حکمرانوں کو زیادہ قابل رسائی بنا دیتا ہے۔

حکومتوں کی پالیسی سازی پر سوشل میڈیا کتنا اثر انداز ہو سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ‘آغازِ دوستی’ کے نام سے بھارت اور پاکستان کے درمیان قیام امن کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کی کنوینر اور دہلی یونیورسٹی آف اکنامکس سے سماجیات میں ڈاکٹریٹ کرنے والی ڈاکٹر دیویکا متل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تنازعات کے کئی رخ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا تعلق افراد کا ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنے سے ہے۔ جب کہ پالیسی سازی کا اس سے براہِ راست تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ افراد کے نظریات کا پالیسی سازی سے تعلق نہیں ہے۔

بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے سرد و گرم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تنازعے کو اگر سمجھیں تو یہ زمین کے ایک ٹکڑے کا تنازع نہیں ہے بلکہ یہ بیانیے کا تنازع ہے۔

ان کے بقول دونوں ممالک کی ریاستوں نے سرکاری سچ بنائے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے شہری اپنے اپنے ملک کے بیانیے کو ہی درست مانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ان ممالک کے شہریوں کے لیے مباحثے کی جگہ ہے۔ اور جو بیانیے دونوں ممالک میں موجود تھے سوشل میڈیا ہر فرد کو اس سرکاری سچ پر سوال اٹھانے اور اس کے اثر کو گھٹانے کا کام دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گی کہ سوشل میڈیا نے اپنا کردار ادا نہیں کیا مگر سوشل میڈیا کا کردار بہت محدود ہے اور اس کا اثر دھیرے دھیرے آئے گا کیوں کہ دونوں ممالک میں ڈیجیٹل تقسیم بہت زیادہ ہے۔

ڈاکٹر دیویکا متل نے سوشل میڈیا کے کردار کو محدود قرار دینے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ریاستیں اور انتہا پسند گروپ بلواسطہ یا بلاواسطہ سوشل میڈیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

گزشتہ چند برس میں سوشل میڈیا پر امن کے کارکنان کو درپیش مشکلات پر بات کرتے ہوئے ممبئی سے آئی ٹی کے ماہر سمیر گپتا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 2015 سے پہلے جہاں ’پیس بلڈرز‘ کو سوشل میڈیا پر ایک کھلا میدان ملا، وہیں ریاستیں بھی یہ کھیل کھیلنا سیکھ گئی ہیں۔ حکمران بھی یہ سیکھ گئے ہیں کہ وہ کیسے آوازوں کو دبا سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ریاستوں نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی بنا لی۔ آئی ٹی سیل بن گئے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو نوکریاں دی گئیں تاکہ سوال کرنے والوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’سی این بی سی‘ نے ایک رپورٹ میں فیس بک کے سابق چیف سیکیورٹی افسر ایلکس سٹیموس کی ٹوئٹ کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے لکھا کہ بھارت اور پاکستان کئی برس سے ایک دوسرے پر مسلسل سائبر اور اطلاعات کے حملوں پر مشتمل آپریشنز میں مصروف رہے ہیں۔

گزشتہ برس دسمبر میں یورپ سے تعلق رکھنے والے گروپ ای یو ڈس انفو لیب نے بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا جو 265 جعلی میڈیا اداروں کی ویب سائٹس کے ذریعے 65 ممالک سے ایسا مواد پیدا کر رہا تھا جس کا مقصد پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کرنا تھا۔

ان جعلی میڈیا اداروں کی ویب سائٹس کے ذریعے سوشل میڈیا پر پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف مبینہ طور پر مظالم اور دہشت گردی سے متعلق ویڈیوز لگائی جاتی تھیں۔

اسی طرح گزشتہ برس فیس بک نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے نیٹ ورک پر پابندی لگائی تھی جو باقاعدہ مہم کے طور پر ان اکاؤنٹس کو نشانہ بنا رہا تھا جو بھارتی حکومت کے حق میں بات کر رہے تھے۔

خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق فیس بک نے 2019 میں ایسے 103 اکاؤنٹس پر پابندی لگائی تھی جو ایسی ہی مہم میں ملوث تھے اور ادارے نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ان کا تعلق پاکستانی فوج کے محکمہ تعلقات عامہ سے تھا۔

ان چیلنجز کا اقرار کرتے ہوئے سمیر گپتا کا کہنا تھا کہ ان کا اس بات پر یقین ہے کہ یہ جو ’سیٹ بیک‘ یا امن کی جانب پیش رفت میں رکاوٹ ہے، وہ عارضی ہے اور ’امن کی آشا‘ اور ’آغازِ دوستی‘ اور ایسے ہی درجنوں گروپوں کی وجہ سے فرق پڑا ہے اور لاکھوں بھارتی اور پاکستانی شہری ایک دوسرے سے رابطہ کر رہے ہیں۔

مارچ 2017 میں ’زی نیوز‘ سے تعلق رکھنے والی نیوز ویب سائٹ ’انڈیا ڈاٹ کام‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک کی جانب سے دیے گئے ایک ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا تھا کہ صرف 23 مارچ 2017 کے روز بھارت اور پاکستان میں فیس بک کے27 لاکھ سے زائد صارفین ایک دوسرے کے فیس بک فرینڈ بنے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ امن کا کام کرنا مشکل ہے لیکن امن کے کارکنان بھی نئے طریقے سیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول پہلے صرف فیس بک اور ٹوئٹر رابطے کے بلواسطہ ذرائع تھے، اب ہم زوم کے سیشن کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب ہم ایک نئی تنظیم ‘ساؤتھ ایشیا پیس ایکشن نیٹ ورک’ کی چھتری تلے ان تمام گروپوں کو اکٹھا کر رہے ہیں، جو امن کی بات کرتے ہیں۔

ان کے بقول اس نیٹ ورک میں ایسے گروپ بھی شامل ہیں جو مایوس ہو چکے تھے، یا جو مؤثر نہیں رہے تھے۔ انہیں اکٹھا کر کے نئی توانائی سے امن کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔





Source link

Leave a Reply