سیاسی غیر یقینی کے بادل ہچکولے کھاتی معیشت کو کہاں لے جائیں گے؟

پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے بعد جہاں سیاسی میدان گرم ہے اور حزبِ اختلاف کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ اس تحریک کو کامیاب بنائے وہیں معاشی میدان میں بھی چیلنجز نمایاں نظر آ رہے ہیں۔ تاجر، صنعت کار اور بیشتر معاشی تجزیہ کار اس غیر یقینی کی صورتِ حال میں ملک کی معاشی صور تِ حال مزید گمبھیر ہونے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کے معروف صنعت کار ادریس گِگی کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو معاشی استحکام کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار کی مثال پرندوں کی مانند ہے۔ اگر پرندوں کو پٹاخے کی آواز بھی آئے تو وہ دانا چُگنا بند کرکے کسی اور جگہ اڑ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام نہ ہونے کی صورت میں سرمائے کی تیزی سے بیرون ملک منتقلی شروع ہو جاتی ہے اور یہی صورتِ حال اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں۔

ادریس گِگی سمجھتے ہیں کہ معاشی حالات کسی حد تک بہتری کی جانب بھی گئے لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنا ضروری ہے اور اس میں کئی کمی اور کوتاہیاں موجود ہیں۔ لیکن ان کے خیال میں ذاتی طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔

اُن کے بقول پانچ سال بعد عوام تحریکِ انصاف کی حکومت سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہو گی کہ انہوں نے وعدوں پر کس حد تک عمل کیا۔ اگر ابھی حکومت کو نہ چلنے دیا گیا تو اس جماعت کے پاس اپنی کارکردگی کو چھپانے کا بہانہ مل جائے گا۔

“ملک میں سیاسی بے چینی اور غیر یقینی کی فضا معاشی استحکام کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہی ہے”

دوسری جانب معروف تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے ملک میں سیاسی افراتفری سے معیشت کا بھرکس نکل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار، صنعت کار اور دکاندار جو اپنے کام کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں، ایسی صورتِ حال میں ان کے ہاتھ رُک جاتے ہیں اور وہ سوچ بچار کرنے لگتے ہیں کہ ان کا لگایا گیا سرمایہ آنے والے حالات میں ضائع نہ ہوجائے۔ سیاسی عدم استحکام سے لوگوں میں غیر یقینی سوچ پنپتی ہے۔ جو معیشت کے لیے زہر ِقاتل ہے۔ جب سے یہ سیاسی کشمکش چل رہی ہے لوگ نئے کاروبار شروع کرنے میں کتراتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر تحریکِ انصاف کی موجودہ حکومت کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو انہیں کرونا کی صورت میں بڑا چیلنج درپیش تھا۔ لیکن اس دوران مہنگائی کی لہر نے لوگوں کے اخراجات پر بہت زیادہ اثر ڈالا۔ اس کا اثر کاروباری طبقے پر بھی پڑا، کئی کاروبار بند بھی ہوگئے۔ اس ساری صورتِ حال میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ اور لوگوں کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

عتیق میر کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں ہارس ٹریڈنگ کا عمل ختم کرکے عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام جماعتوں کو یکسو ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ایسے حالات ملک کے لیےکسی طور پر اچھا شگون نہیں ہے۔ اگر یہی صورتِ حال رہی تو مقامی سرمایہ کار اور وہ سرمایہ کار جو بیرون ملک سے یہاں آکر سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے دونوں ہی ہاتھ روک لیں گے جو کسی صورت ملک کے لیے بہتر نہیں ہو گا۔

اسٹاک مارکیٹ اور روپیہ مسلسل گراوٹ کا شکار

دوسری جانب اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ جمعے کے روز بھی کاروبار کے اختتام پر مارکیٹ میں 777 پوائنٹس کی بڑی کمی دیکھی گئی۔ مارچ کے شروع میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ 44 ہزار 803 پوائنٹس پر موجود تھی جو صرف 18 روز بعد 43 ہزار 29 پوائنٹس پر کھڑی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سطح سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔

دوسری جانب بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور اس کے نتیجے میں ادائیگیوں کے عدم توازن کی وجہ سے پاکستانی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ معاشی ماہرین نے بتایا ہے کہ ایک ہفتے میں روپے کی قدر میں 1.15 فی صد جب کہ ایک ماہ میں روپے کی قدر میں 1.75 فی صد کمی ہوچکی ہے۔ اگر رواں مالی سال کی بات کی جائے تو روپے کی قدر میں مجموعی طور پر 14 فی صد سے زائد کی کمی دیکھی جا چکی ہے یعنی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 23 روپے 3 پیسے مہنگا ہو چکا ہے۔

” سیاسی غیر یقینی سے معیشت کو لاحق خطرات بڑھ جائیں گے، مزید قرضوں کے حصول کے لیے جانا ہوگا”

معاشی ماہر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس وقت غذائی اشیا اور توانائی کی قیمتیں بہت بلند ہیں۔ اور اس سے پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کی صورت میں ہمارا درآمدی بل مزید بڑھ جائے گا۔ جب کہ کئی غذائی اشیا بھی درآمد کرنے کی وجہ سے ہماری درآمدات بڑھیں گی جس کا اثر یقینی طور پر روپے کی قدر پر بھی منفی انداز میں مرتب ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتِ حال میں سیاسی دھند بھی موجود ہے، چیزیں واضح نہیں ہیں، جس کی وجہ سے پالیسی لائن کلئیر نہیں ہے، ایسے میں معاشی فیصلے پیچھے ہوجاتے ہیں اور سیاسی داؤ پیچ ترجیح بن جاتی ہے۔

خرم شہزاد کامزید کہنا تھا کہ دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ کرنٹ اکاوںٹ خسارہ کیسے کم کیا جاتا ہے اور کیا ملک میں شرح سود بڑھتی ہے یا اسے برقرار رکھا جائے گا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ روپے کو کیا حکومت مزید ڈی ویلیو کرتی ہے یا نہیں؟ ایسے بہت سے سوالات کا جواب تلاش کرنا مشکل ہے کیونکہ معاشی صورتحال کافی سخت اور گمبھیرہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی تبدیلی کی نوبت آتی ہے تو پھر آئی ایم ایف کے پاس پھر سے موجودہ تین ارب ڈالر کے قرض سے بڑے قرض کے لیے جانا پڑے گا اور ظاہر ہے جب وہاں جائیں گے تو نئی شرائط ہوں گی۔ سخت فیصلے لینے پڑیں گے اور یہی معاملات دوبارہ نظر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا حل یہ ہے کہ تمام جماعتیں مل بیٹھ کر معیشت کو سنوارنے کے لیے اقدامات کریں اور سیاسی غیر یقینی کو ختم کیا جائے۔



Source link