عمران خان کا تحریکِ عدم اعتماد کے مقابلہ کا اعلان، بلاول کا وزیرِ اعظم سے پھر مستعفی ہونے کا مطالبہ



وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں اُن کے خلاف جتنا مرضی گٹھ جوڑ کر لیں، وہ ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل وزیرِ اعظم عمران خان مستعفی ہو جائیں، ورنہ وہ دارالحکومت آ کر اُن کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لائیں گے۔

پنجاب کے ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران کان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے خلاف حزبِ اختلاف کی تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہو گئی تو جو اُن (اپوزیشن) کے ساتھ ہو گا، کیا وہ اِس کے لیے تیار ہیں؟

عمران خان نے سیاسی مخالفین نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کا نام لے کر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب چور ہیں اور سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف جھوٹ بول کر ملک سے باہر گئے جب کہ شہباز شریف منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ اِسی طرح آصف زرداری کی کرپشن پر فلمیں بن چکی ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن بارے ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف بلیک میل کرتے ہیں جس کے لیے وہ مدرسوں کے بچے بھی استعمال کرتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکے۔

اپنی تقریر میں وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے سفیروں نے پاکستان کو خط لکھ کر یورپی یونین کو ووٹ دینے اور روس کے خلاف بیان دینے کا کہا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ وہ یورپی یونین سے پوچھتے ہیں کہ کیا اُنہوں نے کبھی بھارت کو بھی ایسا خط لکھا ہے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں اُس کا ساتھ دیا۔ اِس جنگ میں پاکستان کے 80 ہزار شہری مارے گئے اور پاکستان کو 100 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا لیکن کسی نے پاکستان کا شکریہ ادا نہیں کیا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہارا لیکن اُس نے اس کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے دیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 2008 سے 2018 کے درمیان ڈرون حملے ہوئے جس میں بے گناہ شہری مارے گئے۔ اگر اَب پاکستان میں کوئی ڈرون حملہ ہوا تو وہ پاکستان کی فضائیہ کو کہیں گے کہ اِسے مار گرائے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل عمران خان مستعفی ہو جائیں ورنہ وہ اسلام آباد آ کر اُن کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے۔

لاہور کے ناصر باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جتنا مزہ لاہور میں آ رہا ہے، اتنا کہیں نہیں آیا، پیپلز پارٹی کی بنیاد لاہور میں رکھی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کو کمزور کرنے کی سازش ہوئی۔ یہ سازش پیپلز پارٹی کے خلاف نہیں عوام اور جمہوریت کے خلاف تھی۔ وہ سوچ رہے تھے قائد عوام کو تخت دار پر لٹکا کر پارٹی کو ختم کر دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بے نظیر بھٹو نے جلا وطنی کے بعد واپسی کے لیے لاہور شہر کا انتخاب کیا تھا۔ لاہور سے ہی بے نظیر بھٹو نے ضیا الحق کے خلاف تحریک شروع کی۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سابق رہنما ندیم افضل چن نے بھی پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے گزشتہ ماہ 27 فروری کو حکومت مخالف لانگ مارچ شروع کیا تھا۔ جو مختلف شہروں سے ہوتا چھ مارچ کو لاہور پہنچا ہے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے دیے گئے شیڈول کے مطابق لانگ مارچ آٹھ مارچ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے گا۔ دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کا حقوق سندھ مارچ بھی اتوارکو کراچی پہنچ گیا ہے۔ حقوق سندھ مارچ کی قیادت وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کر رہے ہیں۔



Source link