وزیرِ اعظم کی تاجروں سے ملاقات میں آرمی چیف کی موجودگی کیا معنی رکھتی ہے؟



وزیرِ اعظم عمران خان نے چین جانے سے صرف ایک روز قبل ملک کے بڑے صنعت کاروں اور تاجروں سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق اس اجلاس میں حکومت اور صنعت کاروں کے درمیان کم سے کم ماہانہ اجرت بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے وہیں صنعتوں کے فروغ کے لیے طویل المدت پالیسی اپنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

بعض مبصرین اس اجلاس کی خاص بات وفاقی وزرا اور وزیرِ اعظم کے معاونین کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی شرکت قرار دے رہے ہیں۔

اجلاس میں شریک پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف خرم مختار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اجلاس میں ایسی پائیدار ترقی کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا گیا جس میں معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص نچلے طبقے کے افراد شامل ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر تاجروں کی جانب سے زور دیا گیا کہ حکومتی پالیسی پائیدار اور مستقل ہونی چاہیے تاکہ وہ اس کے ثمرات حاصل ہو سکیں۔

مبصرین کے مطابق یہ کم از کم دوسرا موقع ہے جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ملک کے چوٹی کے تاجروں سے ملاقات میں شرکت کی۔ اس سے قبل ستمبر 2020 میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی کے تاجروں سے ملاقات کی تھی اور ان کے مسائل سنے تھے۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اور معروف بزنس مین مجید عزیز کے خیال میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تاجروں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں میں شرکت کا مقصد وزیرِ اعظم کے دورۂ چین کی تیاری بھی لگتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک جانب تو یہ اچھی بات ہے کہ فوج اور سویلین قیادت دونوں ہی تاجروں کے مسائل سے براہِ راست آگہی چاہتی ہے اور ان کی تجاویز کو اہمیت بھی دی جا رہی ہے البتہ دوسری جانب چین کے تاجروں کے ساتھ جوائنٹ وینچر کی تجاویز پر عمل درآمد سے قبل بہت سے اقدامات حکومت کو کرنے ہوں گے۔

مجید عزیز نے کہا کہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کے تاجر اس وقت بجلی کی زیادہ قیمت اور پھر گیس کی عدم فراہمی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ جب کہ کراچی میں تو تاجروں نے احتجاج بھی کیا ہے۔ اس صورتِ حال میں خدشہ ہے کہ پاکستان اپنی برآمدات کی سب سے بڑی مصنوعات یعنی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرنے کا ہدف عبور نہیں کر پائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی اور گیس کے نرخ خطے میں سب سے زیادہ ہونے سے بھی تاجروں کو اپنا مال بیر ون ملک بیچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے سے قبل انفراسٹرکچر کی بہتری کو یقینی بنانا ہو گا جس کے بغیر وہ یہاں سرمایہ کاری نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو مسائل اس وقت پاکستان کے تاجروں کو درپیش ہیں ان کی موجودگی میں چین کے سرمایہ کاروں کو یہاں برآمد صنعتوں میں پیسہ لگانے پر آمادہ کرنا مشکل ہے۔

گزشتہ ماہ چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) سے متعلق امور پر وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی خالد محمود نے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے سی پیک کے نو میں سے چار اسپیشل اکنامک زونز کے قیام میں تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ چینی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جائے گا کہ وہ اسپیشل اکنامک زون میں صنعتیں لگائیں جب کہ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

ان اکنامک زونز میں خیبر پختونخوا کے علاقے رشکئی، بلوچستان کے علاقے گلستان ، پنجاب کے شہر فیصل آباد اور صوبہ سندھ میں دھابیجی کے مقام پر اسپیشل اکنامک زون قائم کیے جا رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے تاجروں اور صنعت کاروں کو بتایا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت میں آنے سے پہلے ہی پارٹی منشور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیکسٹائل کی برآمدات کی پالیسی شامل کی گئی تھی جس کے ثمرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ کاروبار دوست پالیسی کی بدولت ملک کی بڑی کمپنیوں نے گزشتہ سال 929 ارب روپے کا ریکارڈ منافع کمایا ہے۔ حکومت نے سرمایہ کاری اور کاروبار کے فروغ کے لیے جو تاریخی اقدامات کیے ہیں اس سے پہلے کسی حکومت نے نہیں کیے۔

تاجروں اور صنعت کاروں کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں سال ٹیکسٹائل کی برآمدات 21 ارب ڈالرز کی سطح پر پہنچنے کا امکان ہے اور آئندہ برسیہ برآمدات 26 ارب ڈالرز ہونے کی توقع ہے۔

اسی طرح پاکستان دنیا کا موٹر سائیکل بنانے والا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے۔ جب کہ ٹریکٹرز کی برآمدات میں بھی 10 فی صد اضافہ ہوا ہے اور اس کے 90 فی صد پارٹس مقامی طور پر ہی تیار کیے جاتے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے مطابق آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کے ساتھ دفاعی پیداوار اور انجینئرنگ کے شعبوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت صنعتوں کے فروغ اور برآمدات بڑھانے کے لیے طویل المدت پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔



Source link