02870000-0aff-0242-bafc-08da13c10ee3_w1200_r1.jpg

ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، ‘اعتماد سازی کے عمل پر تنقید نہیں ہونی چاہیے’



کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات پر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے تحفظات کے بعد حکومتِ پاکستان نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو طلب کیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے طلب کیے گئے اس اجلاس میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر حکام شریک ہوں گے جہاں ملکی داخلہ و خارجہ سلامتی کے امور پر غور کیا جائے گا۔

یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اجلاس میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اب تک کی پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلۂ خیال کیا جائےگا۔

خیال رہے کہ ملک کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدت پسند تنظیم کے ساتھ مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جس کی وجہ سے مذکورہ معاملے پر طے پانے والے امور کو تاحال پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔

ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا آغاز پاکستان تحریک انصاف کی سابق حکومت کے دور میں ہوا تھا اور افغانستان میں برسرِاقتدار افغان طالبان اس میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

افغان طالبان کی میزبانی میں کابل میں ہونے والے مذاکراتی دور میں پاکستان کے سابق قبائلی علاقوں سے قبائلی رہنماؤں پر مشتمل ایک وفد سے بھی دو روز تک مذاکرات ہوئے تھے۔ جس کے بعد فریقین نے غیرمعینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

مگر کالعدم تحریک طالبان پاکستان یہ مطالبہ کرتی آ رہی ہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام سابق قبائلی علاقوں(فاٹا) کی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔ تاہم سیاسی مبصرین اس مطالبے کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں۔

ادھر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا کہ فریقین کے درمیان ہونے والی جنگ بندی زیادہ طویل ہو گی اور فریقین ایک دوسرے کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جنگ بندی کے خاتمے کی صورت میں وہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات

کالعدم ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان مذاکرات اور غیرمعینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی کی خبروں کے بعد پاکستان کے کئی حلقے اس پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

حکمران اتحاد کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے گزشتہ ہفتے مرکزی قائدین کے اجلاس میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا ۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیرِخارجہ بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اس اجلاس میں مذکورہ معاملے پرسیاسی جماعتوں سے رابطے اور اسے پارلیمان میں اٹھانے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

دوسری جانب قوم پرست رہنما اور قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے منگل کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “جو لوگ ہمار اقتل عام کررہے ہیں، ان کے ساتھ مذاکرات کیے جارہے ہیں اور اس عمل میں پارلیمنٹ کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے معاملے پر شاید دوسرے اس لیے بات نہیں کر رہے کیوں کہ وہ خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں مگر وہ ایوان میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس مرتبہ جو تجربہ کیا جا رہا ہے اس کے نتیجے میں کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔

ادھر جماعتِ اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی گزشتہ ہفتے سینیٹ اجلاس میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے جانے والے جرگے پر سوالات اٹھائے تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ جرگہ کس نے بنایا؟، اس کا مینڈیٹ کیا ہے؟ اور ٹی ٹی پی نے جرگے کے سامنے جو شرائط پیش کی ہیں وہ کیا ہیں؟

اعتماد سازی کے عمل پر جماعتوں کو تنقید نہیں کرنی چاہیے:بیرسٹر سیف

البتہ جرگے کے رابطہ کار اور خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف کہتے ہیں کہ کابل میں ٹی ٹی پی سے ملاقات کرنے والے جرگے کا مقصد اعتماد سازی کا فروغ تھا نہ کہ کسی قسم کا کوئی فیصلہ کرنا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے اور اس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے لیکن ابھی معاملات ابتدائی مرحلے میں ہیں جب تک نقشہ واضح نہیں ہوتا سیاسی قائدین کو کیا بتایا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو مقصدیت کو دیکھتے ہوئے اس معاملے پر بلاجواز تنقید نہیں کرنی چاہیے اور فریقین کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہیے۔

بیرسٹر سیف نے بتایا کہ کابل میں ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ دو روز تک قبائلی جرگے کے ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پہلی مرتبہ غیر معینہ مدت تک جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جرگہ سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ قبائلی علاقوں کے اقوام کے نمائندوں کا تھا اور اس کا مقصد ٹی ٹی پی کی پاکستان فوج کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد مقامی لوگوں میں اعتماد سازی پیدا کرنا تھا تاکہ امن معاہدے کی صورت میں ان لوگوں کی واپسی کی صورت میں مقامی سطح پر انہیں مشکلات نہ ہوں۔

‘ قبائلی علاقوں کی پرانی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ تسلیم کرنا آسان نہیں’

قبائلی علاقوں اور شدت پسند گروہوں کے معاملات پر نظر رکھنے والے صحافی طاہر خان سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں اس قسم کے معاملات آنے چاہئیں۔ لیکن ان معاملات میں سیاسی جماعتوں کا کردار ماضی میں محدود رہا ہے اور سیاست دان ان معاملات کی ذمہ داری اٹھانے سے کتراتے رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات پر لوگوں کی رائے منقسم ہے لیکن تشدد سے بچنے کے لیے اس راستے کے ذریعے مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جرگے پر سوالات اٹھائے گئےہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ جرگہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ جرگہ دونوں فریقین کو کسی معاہدے پر متفق کرنے کی کوشش کرے گا۔

طاہر خان نے کہا کہ شدت پسند تنظیم کے ساتھ حکومت، فوج یا قبائلی جرگے کے مذاکرات آسان کام نہیں ۔ البتہ اس سلسلے میں جنگ بندی ایک اچھی پیش رفت ہے کیوں کہ تشدد کو روکے بغیر معاملات کو آگے بڑھانا مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ تاہم جرگے نے ٹی ٹی پی رہنماؤں پر واضح کیا ہے کہ سابق قبائلی اضلاع کی پرانی حیثیت کی بحالی آسان عمل نہیں کیوں کہ اس پر قانون سازی کے بعد کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔



Source link