پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل کمی ، وزیرِ اعظم اور وزرا کی لندن میں موجودگی پر تنقید



ایسے حالات میں جب سیاسی و معاشی بحران پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے، وزیرِاعظم اپنی کابینہ کے اہم وزرا کے ساتھ پارٹی کے قائد سے مشاورت کے لیےگزشتہ دور روز سے لندن ہیں اور ملک سے ان کی عدم موجودگی پر چہ مگوئیوں اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ جمعے کو انٹر بینک مارکیٹ میں ایک ڈالر 193 روپے سے زائد پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران روپے کی قدر میں مسلسل کمی پر معاشی ماہرین جہاں خدشات کا اظہار کر رہے ہیں وہیں اب تک اتحادی حکومت کی جانب سے کوئی واضح معاشی پالیسی سامنے نہیں آسکی ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور کابینہ کے نصف درجن سے زائد وزرا لندن میں موجود ہیں جو پارٹی قائد نواز شریف سے پاکستان کو درپیش مسائل کے حل پر مشاورت کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اب پاکستان کے فیصلے لندن میں ہو رہے ہیں تاہم حکومتی وزرا بارہا اس تاثر کی نفی کر چکے ہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرا کی لندن میں موجودگی پر سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات اور تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت لندن میں بیٹھی ہے اور ایک ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 193 روپے تک پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی حکومت نہیں، پنجاب میں پانی میسر نہیں جس کی وجہ سے خریف کی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ مذاق بند کریں اور عبوری حکومت بنا کر انتخابات کرائیں۔

فواد چوہدری کی طرح سینئر صحافی انصار عباسی نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایک ایک لمحہ اور ایک ایک دن اہم ہے لیکن اتحادی حکومت ایک ماہ سے زیادہ گزرنے کے باوجود معاشی فیصلے نہیں کر سکی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کا کیا بنے گا؟

گزشتہ ماہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بننے والی اتحادی حکومت کو معاشی صورت حال کی وجہ سے اپنے ابتدائی دنوں ہی میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک جانب معاشی اشاریے مسلسل حالات کی سنگینی کا پتا دے رہے اور دوسری جانب سابق وزیرِ اعظم عمران خان جلد انتخابات کرانے کے لیے ملک گیر جلسے کررہے ہیں۔ ان حالات میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں اب تک سیاسی و معاشی حالات کا مقابلہ کرنے لیے کوئی واضح اور مشترکہ حکمتِ عملی سامنے نہیں لا سکی ہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی لندن میں نواز شریف سے ہونے والی ملاقات سے قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ کوئی بڑی خبر آنے والی ہے۔ تاہم بدھ کو اس ملاقات کے بعد سے تاحال باضابطہ کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

البتہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعرات کو لندن میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ حکومت کو درپیش مسائل اور چیلنجز ورثے میں ملے ہیں اور سلسلے میں پارٹی قائد نواز شریف سے مشاورت اور رہنمائی لی جارہی ہے تاکہ حکومت آنے والے دنوں میں تیز رفتاری کے ساتھ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھا سکے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے یہ واضح نہیں کیا کہ نواز شریف نے حکومت کو کیا مشورہ دیا ہے اور حکومت مستقبل میں کیا اقدامات کر سکتی ہے۔تاہم صحافتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں نواز شریف قبل از وقت انتخابات کے حامی ہیں جس کااظہار سابق صدر آصف علی زرداری نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ان کی سابق وزیرِ اعظم نواز شریف سے بات ہوئی ہے اور وہ انہیں کی ایما پر کہتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے بعد نئے انتخابات کرا دیے جائیں گے۔ گزشتہ روز حکومت کے ایک اور اہم اتحادی مولانا فضل الرحمٰن نےبھی الیکشن سے قبل انتخابی اصلاحات کرنے پر زور دیا ہے۔



Source link