ڈاکٹر ڈینس آئزک کون تھے؟

پاکستان کے معروف ڈرامہ رائٹر ، شاعر اور ادیب ڈاکٹر ڈینس آئزک گزشتہ دنوں کینیڈا میں انتقال کر گئے، ان کی تدفین کی رسومات گزشتہ ہفتے کے روز خاندان اور قریبی احباب کی موجودگی میں ادا کی گئیں۔

ڈاکٹر ڈینس آئزک، 80 اور 90 کی دہائی کے پی ٹی وی کے ناظرین نے کہیں نہ کہیں یہ نام اپنی ٹیلی وِیژن سکرین پر ضرور دیکھا ہوگا۔ پی ٹی وی پشاور کو ڈرامہ کی صنف میں ملک گیر حوالہ ڈاکٹر ڈینس آئزک کے سیریلز کے ذریعے ملا۔ پی ٹی وی کے علاوہ انہوں نےپرائیویٹ پروڈیوسرز کے لیے بھی ڈرامے لکھے ۔ ان کے مشہور ڈراموں میں سلاخیں، کروبی، دوراہا، کرب اور پہلی سی محبت شامل ہیں۔

ڈاکٹر ڈینس آئزک کون تھے؟

اگرچہ پاکستان بھر میں ان کی مقبولیت ان کے لکھے ڈراموں کی وجہ سے تھی، مگر پشاور کے رہنے والے ان کے قریبی دوستوں کے لیے ان کا پہلا حوالہ ان کی شاعری اور موسیقی تھی۔ گورنمنٹ کالج پشاور میں ان کے کلاس فیلو اعجاز نیازی جو پی ٹی وی پشاور کے پروگرام مینیجر بھی رہے، یاد کرتے ہیں کہ ڈینس اس زمانے میں کی بورڈ بجایا کرتے تھے اور کالج کی کینٹین پر سردیوں کی دھوپ میں گھنٹوں دوستوں کے ہمراہ شاعری اور موسیقی کی باتیں ہوتی تھیں۔
ڈاکٹر ڈینس کی ہم عصر ڈرامہ نگار غزالہ اورکزئی جو اب نیو یارک میں مقیم ہیں، اپنی یونیورسٹی کے دور میں ساتھی طالب علموں کے ساتھ موسیقی کی حسین شامیں یاد کرتی ہیں جہاں ڈاکٹر ڈینس آئزک اور ان کے دوستوں کا “دی بیچلرز” کے نام کا پاپ بینڈ پرفارم کیا کرتا تھا۔

ڈاکٹر ڈینس آئزک کی صاحبزادی شالین نے ہمیں بتایا کے ان کے والد اور والدہ کی ملاقات اسی بینڈ کے ذریعے ہوئی اور ڈینس اور ماریہ کی محبت کا سلسلہ شروع ہوا۔ڈینس کے ماریہ کے نام لکھے محبت نامے جن میں وہ اپنی شاعری کے ذریعے اپنے جذبات بیان کرتے تھے ، ماریہ ڈینس کے پاس آج بھی محفوظ ہیں۔ شالین کا کہنا تھا کہ ان کے والدین کی آپس میں شادی سے پہلے کی محبت تا عمر جاری رہی اور انہوں نے کبھی اپنے والد اور والدہ کے درمیان کوئی جھگڑا یا بلند آواز تک نہیں سنی۔

ڈاکٹر ڈینس آئزک نے اپنی میڈیکل کی تعلیم خیبر میڈیکل کالج سےمکمل کی اور 25 سال تک لیڈی ریڈنگ اسپتال، پشاور میں ریڈیالوجی کے شعبے سے وابستہ رہے۔بشریٰ فرخ جو پی ٹی وی پشاور کی پہلی اناؤنسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھی شاعرہ اور اداکارہ بھی ہیں ، ڈاکٹر ڈینس آئزک کو ایک شفیق، ہمدرد انسان کے طور پر یاد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور ٹیلی ویژن سے وابستہ کسی شخص کو کوئی بھی طبی مسئلہ ہوتا تو وہ ان کے پاس پہنچ جاتا اور وہ ہمیشہ لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ شالین نے بھی اپنا بچپن یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کئی بار راتوں میں کسی دوست یا جاننے والے کا فون آجاتا تو والد فوراً مدد کے لیے نکل کھڑے ہوتے۔ ان کی طبیعت کی نرمی اور حساسیت ان کی تحریروں میں بھی جھلکتی ہے۔

کروبی کی کہانی

‘کروبی’ ڈرامہ کے مرکزی کردار ثمینہ پیرزادہ اور عثمان پیرزادہ نے نبھائے۔ 1971 کی جنگ میں زخمی ہو جانے والے ایک کرنل اورایک نرس کی محبت کی کہانی ۔ کرنل جسے ‘پی او ڈبلیو’ بنا دیا جاتا ہے اور جب وہ رہا ہو کر واپس آتا ہے تو عمر بھر جنگ ہارنے کی کسک اسے ستاتی رہتی ہے۔ انسانی جذبات، احساسات اور رشتوں کی گھتیاں سلجھاتی اس کہانی نے ڈاکٹر ڈینس آئزک کو اس زمانے کے مایہ ناز ڈرامہ نگاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ ڈرامے کے ڈائریکٹر طارق سعید جو ڈاکٹر ڈینس آئزک کے کالج کے زمانے کے دوست بھی رہے، ان کا کہنا تھا کہ اپنے موضوع کے اعتبار سے کروبی اس زمانے کا ایک بہت مختلف ڈرامہ تھا . اس زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سقوط ڈھاکہ کی بات بھی کی جائے۔ اس لیے یہ سٹوری لائن آئی ایس پی آر بھجوائی گئی اور وہاں بھی اسے بہت پسند کیا گیا۔ معروف اداکار عثمان پیرزادہ کا کہنا تھا کہ جب ان کو اور ثمینہ کو ڈرامے میں کام کرنے کی آفر آئی تو پشاور میں ریکارڈنگ کے لیے جانا ان کو بہت مشکل لگا ور انہوں نے معذرت کرلی مگر پھر ڈاکٹر ڈینس آئزک کے اصرار پر انہوں نے سکرپٹ پڑھا ۔عثمان کا کہنا تھا کہ وہ سکرپٹ اس قدر عمدہ لکھا تھا کہ یہ ڈرامہ نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ عثمان کہتے ہیں کہ ڈاکٹر ڈینس آئزک کا لکھا مکالمہ بہت عام فہم ہوتا تھا۔

ثمینہ پیرزادہ (فائل فوٹو)

ثمینہ پیرزادہ (فائل فوٹو)

پشاور ٹی وی کے سینئر اداکار نجیب اللہ انجم کا بھی یہی کہنا تھا کہ ان کے تحریر کردہ ڈائیلاگ ایسے ردھم میں ہوتے تھے کہ کئی صفحوں کا سکرپٹ آسانی سے یاد ہو جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی ڈرامہ نگاری میں افسانوی رنگ جھلکتا تھا۔ پی ٹی وی پشاور کے پروگرام ڈائریکٹر عزیز اعجاز کہتے ہیں کہ کالج کے زمانے میں ڈاکٹر ڈینس بہت خوبصورت افسانے لکھا کرتے تھے اورپشاورکے حلقہ ارباب ذوق کی محفلوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے تھے۔

فلم ‘انتہا’ کا بولڈ موضوع
کروبی کے بعد ثمینہ پیرزادہ نے ڈاکٹر آئزک کے ساتھ بطور ڈائریکٹر پرائیویٹ پروڈکشنز بھی کیں۔ ان کی بطور ڈائریکٹر پہلی فلم ‘انتہا’ کا سکرپٹ بھی ڈاکٹر ڈینس آئزک نے لکھا۔ یہ فلم بھی موضوع کے اعتبار سے پاکستانی معاشرے کے لیے بہت مختلف اور کسی حد تک متنازع بھی تھی۔ اس فلم میں ازدواجی تعلقات میں زبردستی یعنی میریٹل ریپ کو موضوع بنایا گیا۔ اس فلم میں مرکزی کردار ہمایوں سعید اور میرا نے ادا کیے۔

کینیڈا ہجرت کی داستان
ڈاکٹر ڈینس آئزک سنہ 2000 میں اپنے خاندان کے ہمراہ کینیڈا شفٹ ہو گئے۔ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ بطور اقلیت پاکستان میں اپنے بچوں کے مستقبل کےلیے فکرمند تھے۔ پی ٹی وی کے ڈائریکٹر پروگرامز طارق سعید اور اناؤنسر بشریٰ فرخ کا کہنا تھا کہ ہم سب دوستوں نے انہیں کینیڈا جانے سے بہت روکا مگر وہ بضد تھے۔ کینیڈا میں مقیم سائکائٹرسٹ، ڈاکٹر خالد سہیل جو ایک مصنف بھی ہیں اور ڈاکٹر ڈینس آئزک کے خیبر میڈیکل کالج کے دوستوں میں سے ہیں ، انہوں نے بھی ڈاکٹر صاحب کی ہجرت کا ایک سبب بطور کرسچین ان کی نوکری کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیا۔ ڈاکٹر ڈینس کی صاحبزادی شالین جو کینیڈا ہجرت کے وقت 17سال کی تھیں انہوں نے ایسی کسی بھی بات سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے والد ہماری تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے باقاعدہ امیگریشن کے مراحل طے کرکے کینیڈا آئے اور کینیڈا اور امریکہ میں قریبی رشتہ داروں کی موجودگی کی وجہ سے وہ اس فیصلے پر بہت خوش تھے۔

ڈاکٹر ڈینس کے دوستوں کے مطابق “انہیں ہجرت راس نہیں آئی”۔کینیڈا میں مقیم پرانے دوست خالد سہیل کا کہنا تھا کہ شروع کے چند سال ڈاکٹر ڈینس نے کینیڈا میں ادبی سرگرمیاں جاری رکھیں اور قریبی احباب کے ساتھ مل کر ‘فیملی آف دی ہارٹ’ کے نام سے ادبی نشستوں کا سلسلہ شروع کیا، جو زیادہ دیر تک نہ چل سکا۔ نئے ملک میں پیش آنے والی معاشی اور پیشہ وارانہ مشکلات تخلیقی عمل کی راہ میں حائل ہونے لگیں۔ روبینہ فیصل جو کینیڈا میں مقیم ایک مصنفہ ہیں، کہتی ہیں کہ ڈاکٹر صاحب سے ان کی ملاقات کینیڈا میں ہی ہوئی اور ان کو اور ان کے خاندان کو مل کر یوں لگا جیسے برسوں کا ملنا جلنا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عزت اور شہرت سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد مغربی ممالک کی بے اعتنائی ڈاکٹر ڈینس آئزک کو کھلنے لگی تھی، سب دوست بھی معاش کی الجھنوں میں پھنسے تھے سو شاعری اور موسیقی کی محفلیں بھی کم کم ہوگئیں۔

عام تاثر یہی ہے کہ تخلیق کار بہت حساس ہوتے ہیں، سماجی رویے ان پر عام انسانوں سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ اور ایسے میں جب تخلیق کے اظہار کے در بند ہونے لگیں تو فنکار کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ڈاکٹر خالد سہیل نے ڈاکٹر آئزک کی سماجی اور تخلیقی مشکلات کے حوالے سے دوواقعات کا ذکر کیا ایک جب ڈاکٹر صاحب نوکری کی تلاش میں تھے اور کسی نے انہیں سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کی پیشکش کی،وہ دل بڑا کرکے جب انٹرویو کے لیے پہنچے تو انٹرویو لینے والے نے انہیں پہچان لیا۔ ڈاکٹر خالد سہیل کا کہنا تھا کہ ڈینس ان کے پاس آئے اور بھرائی ہوئی آواز میں بولے، “مجھے ایسا نہیں سوچنا چاہیے، مگر کاش وہ مجھے نہ پہچانتا تو میں یہ نوکری کر لیتا۔” ڈرامہ نگاری کے معاملے میں بھی کینیڈا ڈاکٹر صاحب کو راس نہ آیا اور مختلف پروڈیوسرز نے ان کے ساتھ معاوضوں میں دھوکا کیا اور ان کا لکھا سیریل آن آئر بھی نہیں کیا۔ طارق سعید، خالد سہیل اور دیگر دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں کافی دلبرداشتہ تھے اور یہی چیز ان کے ڈپریشن کا باعث بنی۔ عثمان پیرزادہ نے بتایا کہ جب وہ اور ثمینہ ڈاکٹر ڈینس کو ملنے کینیڈا گئے تو ڈینس ایک بدلے ہوئے شخص تھے، وہ بہت ہی زیادہ اداس تھے۔

اس صورت حال کے سبب کچھ ہی عرصے کے بعد ہنستا، بولتا، گیت گاتا، کہانیاں سناتا ڈینس خاموش ہو گیا۔ ڈاکٹرز نے انہیں ڈیمینشیا کا مریض قرار دیا۔ روبینہ فیصل کا کہنا ہے کہ مرض کی تشخیص کےکچھ عرصے بعد جب وہ ڈاکٹر صاحب سے ملیں تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ یاداشت تو کھو ہی رہے تھے لیکن وہ بے انتہا خاموش بھی تھے، جیسے سب سے ناراض ہوں گویا وہ اپنے ہی لکھےاس شعر کا عملی اظہار کر رہے ہوں

کوئی بھی اپنوں جیسی بات اب کرتا نہیں ہے

سو اپنے آپ سے ہم گفتگو کرنے لگے ہیں

ڈاکٹر ڈینس آئزک نےاپنی مشکلات اپنے چند قریبی دوستوں کے علاوہ کسی سے بیان نہیں کیں۔ ڈاکٹر خالد سہیل کا کہنا ہے کہ یہ باتیں لوگوں کے لیے نئی ہوں گی کیونکہ ڈینس نے کبھی اپنی مشکلات کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا اورنہ ہی کسی سے شکایت کی اور نہ ہی اپنی شہرت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ ڈاکٹر ڈینس کی صاحبزادی کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے بچوں سے اپنی کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے اور اپنے گھر والوں سے بہت محبت کی اور بہت محبت پائی بھی اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کے والد کے حوالے سے اچھی باتوں کو یاد رکھا جائے۔



Source link