اسلام آباد ہائی کورٹ کی سروس روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔ فوٹو: سکرین گریب

وکلا کا دھاوا، اسلام آباد ہائی کورٹ اور کچہری کی تمام عدالتیں بند رکھنے کا حکم

وکلا کا دھاوا، اسلام آباد ہائی کورٹ اور کچہری کی تمام عدالتیں بند رکھنے کا حکم

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور وکلا کے درمیان اسلام آباد کچہری میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور کچہری کی تمام عدالتیں تاحکم ثانی بند رہنے کا حکم دیا ہے۔
پیر کو اسلام آباد میں وکلا کے چیمبرز گرائے جانے کے خلاف وکلا نے پہلے ایف ایٹ کچہری میں احتجاج کیا جبکہ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ پر بھی دھاوا بول دیا تھا۔

صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن حسیب چوہدری نے اردو نیوز سے بات کرتے ہونے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے بار کونسل کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے دس وکلا کو رہا کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو آج پیر کے روز طلب کیا ہے۔

اسلام آباد کی ضلع کچہری ایف ایٹ میں مبینہ طور پر کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی زمین پر قائم چیمبرز گرائے جانے کے خلاف وکلا نے آج پیر کے روز احتجاج کیا تھا۔
وکلا کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں نعرے بازی کی گئی تھی جبکہ چیف جسٹس بلاک میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔
احتجاج کرتے ہوئے وکلا نے اسلام آباد کی ضلع کچہری میں تمام عدالتیں بند کروا دی تھیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی تمام عدالتوں میں مقدمات کی کاروائی روک دی گئی۔

اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں تمام سائلین کا داخلہ بھی بند کر دیا گیا تھا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی سروس روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی تھی۔
عدالت میں موجود صحافیوں کو ویڈیوز بنانے سے روکنے کے بھی واقعات دیکھنے میں آئے۔

مذاکرات کے نتیجے میں گرفتار وکلا کو رہا کر دیا۔ فوٹو: سکرین گریب

وکلا کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توڑ پھوڑ کے بعد انتظامیہ نے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی تھی۔
اس تمام صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور وکلا کے درمیان آج پیر کی سہ پہر اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں مذاکرات ہوئے۔
اسلام آباد بار كونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سی ڈی اے کے آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے وکلا کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ غیر قانونی طریقے سے چیمبر مسمار کرنے سے اجتناب برتے، وکلا کے تحفظات دور نہ کرنے کی صورت میں تمام وکلا تنظیمیں اسلام آباد بار کونسل کی قیادت میں تمام فورمز پر یہ معاملہ اٹھائیں گی۔
خیال رہے کہ سی ڈی اے کی طرف سے گزشتہ ماہ بھی ایف ایٹ کچہری میں قائم وکلا کے چیمبرز کو مسمار کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا لیکن وکیلوں کی جانب سے مزاحمت کے باعث سی ڈی اے کا تجاوازت کے خلاف آپریشن مکمل نہ ہوسکا۔ بعدازاں وکلا نے تھانہ مارگلہ کے سامنے بھی احتجاج کیا۔

گزشتہ رات سی ڈی اے کی جانب سے ایک بار پھر ضلع کچہری میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا گیا اور چند چیمبرز مسمار کیے گئے۔
آپریشن کے دوران بھی سی ڈی اے کو وکلا کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پیر کے روز وکیلوں نے ضلع کچہری کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی احتجاج کیا اور نعرے لگاتے ہوئے چیف جسٹس بلاک میں داخل ہوئے۔

Leave a Reply