اسلام آباد کے ایک تعلیمی ادارے میں طالبہ موبائل فون استعمال کر رہی ہے (اے ایف پی)

ملازم رکھنے سے پہلے اس ایپ سے ان کا مجرمانہ ریکارڈ چیک کریں

ملازم رکھنے سے پہلے اس ایپ سے ان کا مجرمانہ ریکارڈ چیک کریں

کراچی کی لئیق اکبر نے اپنے بیوٹی اور مساج سینٹر کے لیے نیا ملازم رکھتے وقت ’تصدیق‘ نامی ایک ایپلیکیشن استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جو بتاتی کہ آیا کوئی ورکر مجرمانہ سرگرمی میں تو ملوث نہیں۔

ایپلیکیشن کے ذریعے لئیق کو پتہ چلا کہ وہ جس شخص کو ملازمت پر رکھنا چاہتی ہیں ان کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اور لوگوں سے قیمتی اشیا چھیننے کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔

اکبر نے عرب نیوزکو بتایا: ’اس ایپلیکیشن نے مجھے اپنے کام کی جگہ پر ایک مجرم کو ملازمت پر رکھنے سے بچایا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص، جنہیں وہ ملازمت پر تقریباً رکھ چکی تھیں، کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے لیے کام کرنے کے دوران رات کے وقت ٹریفک سنگنلز پر لوٹ مار میں ملوث رہے ہیں۔

کسی کے مجرمانہ ریکارڈ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی یہ ایپلیکیشن سیف پاکستان ویلفیئر ٹرسٹ نے کراچی کی سٹیزنز پولیس لائزن کمیٹی اور پولیس کے ساتھ مل کر متعارف کروائی ہے۔ ایپ سامنے لانے والوں کا کہنا ہے کہ ادارے کا مقصد پانچ کروڑ نچلے طبقے کے ملازمین کو غربت سے نکالنا ہے۔

ایپ متعارف کروائے جانے کے بعد اسے 61 ہزار 230 افراد ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں

جن میں سے 11 ہزار 784 کا تعلق کراچی کے جنوبی ضلعے سے ہے۔ ایپ کے ذریعے21 ہزار 766 ورکرز کی رجسٹریشن کی گئی، جن میں سے 602 مجرمانہ ریکارڈ کے مالک افراد کی شناخت ممکن ہوئی۔

یہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد میں پہلے ہی استعمال کی جا رہی ہے۔ سیف پاکستان ویلفیئرٹرسٹ نے ایپ کے استعمال کے لیے خیبرپختونخوا، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان حکام کے ساتھ معاہدے پر دستخط کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

ایپ کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ‘تصدیق پاکستان کئی مراحل پر مشتمل منصوبہ ہے، جس کی کئی شکلیں ہیں۔ اس کا مقصد اس طریقہ کار کو تبدیل کرنا ہے، جس کے تحت گھر میں کام کرنے والے ملازمین اور دوسرے ورکرز کی خدمات حاصل ہوتی ہیں۔ دوسری جانب تعلیم اور آگاہی پہنچا کر گھروں میں دیانت داری اور جانفشانی کام کرنے والے ملازمین اور دوسرے محنت کشوں کی معاشی حالت کی بہتری اور غربت میں کمی لانا ہے۔غربت کا شیطانی دائرہ توڑنے کے لیے ٹیکنالوجی سے مدد لی جائے گی۔‘

تصدیق پاکستان منصوبے کے تحت رجسٹر ہونے والے ورکرز کے کام کے ریکارڈ کی تصدیق کی جا سکتی ہے

اور جواب میں وہ علاج اور حادثے کی صورت میں انشورنس، آجروں سے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے فنڈز سمیت مالیاتی اداروں سے ہنگامی صورت حال میں چھوٹے قرضوں کی سہولتیں حاصل کر سکتے ہیں۔

ایپ کی ویب سائٹ پر پولیس کے فراہم کردہ اعدادوشمار کی مدد سے بتایا گیا کہ 60 فیصد ڈاکے، لوٹ مار، اغوا اور قتل کی وارداتیں گھر کے بھیدیوں کی براہ راست یا بالواسطہ مدد کے ذریعے کی گئیں۔

پولیس کے مطابق نقب زنی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے بعد گذشتہ نومبر میں کراچی کے مہنگے علاقے ڈی ایچ اے میں پانچ ڈاکوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے یہ ڈاکو بدنام گینگ کا حصہ تھے، جس نے گھریلو ملازمین کی مدد سے پوش علاقے میں کئی جرائم کیے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جاوید اکبر نے عرب نیوز کو بتایا:

’ہمارے سامنے ایسے کئی واقعات آئے ہیں جن میں گھر میں کام کرنے والے ملازمین کو ملوث پایا گیا اور زیادہ تر کیسز میں یا تو شناختی کارڈ جعلی پائے گئے یا شناختی کارڈ تھے ہی نہیں۔ ملازمت دیتے وقت ان افراد کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تصدیق جیسی ایپ سے جرائم میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ کام کرنے والے پیشہ ور افراد اور طلبہ کے لیے رہائش کا مسئلہ حل کرنے کا منصوبہ ’مائی گھر‘ شروع کرنے والے عاطف بن عارف کہتے ہیں کہ تصدیق ایپ نے ملازمت کے امیدواروں کے کوائف کی تصدیق میں ان کی مدد کی۔ان کے بقول: ’ہم نے بعض درخواست دہندگان کے ریکارڈ کی فوری طور پر تصدیق کی کیونکہ پولیس اور سی پی ایل سی نے ان کی نشاندہی کر رکھی تھی۔ اس طرح ہمیں فوری کارروائی میں مدد ملی۔‘

اسلام آباد میں سکیورٹی کمپنی چلانے والے احمد ریحان نے کہا کہ انہوں نے نئے ملازمین کی تصدیق کے لیے یہ ایپ استعمال کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں تصدیق کے لیے ہمیں کوائف تھانے بھجوانے پڑتے تھے جو ایک مشکل عمل تھا لیکن اب ہم شناختی کارڈ نمبر درج کرتے ہیں اور تمام کوائف اسی وقت سامنے آ جاتے ہیں۔‘

Leave a Reply