آئیے، جزیروں کے ملک مالدیپ چلتے ہیں۔۔۔۔ جہاں جہاز سمندر پر اُڑتے نہیں چلتے دکھائی دیتے ہیں!

آئیے، جزیروں کے ملک مالدیپ چلتے ہیں۔۔۔۔ جہاں جہاز سمندر پر اُڑتے نہیں چلتے دکھائی دیتے ہیں!

آئیے، جزیروں کے ملک مالدیپ چلتے ہیں۔۔۔۔ جہاں جہاز سمندر پر اُڑتے نہیں چلتے دکھائی دیتے ہیں!

جنوبی ایشیا کا خوبصورت جزیروں پر مشتمل ملک ”مالدیپ“ کی سیر کرنے دنیا بھر سے لوگ جاتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے لوگ جنہیں سمندر، جزیروں، ڈائیونگ، سی فوڈ وغیرہ سے خاص دلچسپی ہے، وہ اس ملک کی طرف سفر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے اردگرد سری لنکا اور انڈیا جیسے ممالک ہیں۔ مالدیپ کو رقبے اور آبادی دونوں کے اعتبار سے ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک مانا جاتاہے۔ اس کا دارالحکومت ”مالے“ ہے، جوکہ مالدیپ کا سب سے بڑا شہر ہے، یہاں ملک کے انتظامی امور دیکھے جاتے ہیں،اسی کو ملک کا اقتصادی مرکز مانا جاتاہے، ساتھ ہی یہاں تجارتی بندرگاہ بھی موجود ہے۔

شہر میں ایک جدید ویلانا انٹرنیشنل ائیر پورٹ بنایاگیاہے، جہاں تک پہنچنے کیلئے بھی سمندری راستہ ہی اختیار کرنا پڑتاہے۔ یہ جان کر سب کو حیرانی ہوگی کہ یہاں سیاحوں کو ملک کے دوسرے مقامات، جزیروں اور ریزورٹس پرپہنچانے کیلئے دنیا کی سب سے بڑی سی پلین سروس (sea plane service)چلائی جاتی ہے، یہ سروس ٹرانس مالدیوین ائیر ویز چلاتی ہے۔ جب چھوٹے کم سیٹوں والے جہاز سمندرکے نیلگوں پانی کے اوپر سے گزرتے ہیں تو کئی مرتبہ ایسا لگتاہے کہ جہاز سمندر کی سطح پر اُڑ نہیں رہے، بلکہ چل رہے ہیں۔

جو لوگ مالدیپ کا سفر کرنا چاہتے ہیں، ان کی آسانی کیلئے اس مضمون میں چند جگہوں کے متعلق بتایا جارہاہے، جہاں لوگوں کو ضرور جانا چاہئے، ان جگہوں میں گھومے بغیر کسی کا بھی مالدیپ کا سفر پورا نہیں ہوسکتا۔ وہ جگہیں کونسی ہیں، آئیے جانئے۔

مالے جمعہ مسجد:
مالے میں موجود جمعہ مسجد جسے پہلے مسجد ال سلطان کے نام سے جانا جاتاتھا، سیاحوں کا ایک پسندیدہ مقام ہے۔ یہ مسجد مالدیپ کے آرکی ٹیچر کی خوبصورت مثال ہے۔ اس مسجد کو مالدیپ کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں سیاح مفت میں جاسکتے ہیں، جبکہ یہاں جانے کا وقت صبح 9بجے سے شام 5بجے تک ہے۔

نیشنل میوزیم:
یہ میوزیم سلطان پارک، مالے میں موجود ہے۔ اس نیشنل میوزیم کے قریبی حصے میں قدیم محل کی باقیات بھی موجود ہیں، جس میں 1968میں آگ لگ گئی تھی اور وہ تباہ ہوگیاتھا۔ لوگ اس جگہ محل کو دیکھنے آتے ہیں۔ نیشنل میوزیم کی بلڈنگ تین منزلہ ہے، جوکہ جدید انداز میں بنائی گئی ہے۔ اس بلڈنگ کو تیار کرنے میں چینی حکومت کا ہاتھ ہے، اسے سیاحوں کیلئے جولائی 2010میں کھول دیاگیا تھا۔ اس میوزیم میں جہاں قدیم فرنیچر، برتن، کپڑے، جوتے، سکے، جانوروں کے مجسمے اور فوجی سامان موجود ہے، وہیں یہاں قرآن پاک کی خطاطی کے مجموعے بھی موجود ہیں، جو کہ یہاں آنے والے سیاحوں کیلئے دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔

بنانا ریف:
سمندر کی گہرائی تک جانے اور اس طرح کے ایڈونچر رکھنے والوں کیلئے بنانا ریف بہترین جگہ ہے۔ کیونکہ یہاں کی مشہور چٹان کی ساخت دیکھنے میں کیلے جیسی ہے، اس لئے اسے بنانا ریف کے نام سے جانا جاتاہے۔ مالے کے شمال کی جانب موجود اس جگہ کی سمندری گہرائی 5سے20میٹر تک جاتی ہے، اس لئے یہاں ماہر غوطہ خوروں کے ساتھ ساتھ نئے شوقین غوطہ خور بھی کم گہرائی میں جاکر اپنا ڈائیونگ کا شوق پورا کرسکتے ہیں، ان کیلئے یہ زندگی کا یادگار سفر بن سکتاہے، کیونکہ یہاں کے سمندر میں خوبصورت رنگ برنگی مچھلیاں اور شفاف پانی غوطہ خوروں کو اپنے سحر میں جکڑنے کیلئے کافی ہے۔

قومی آرٹ گیلری:
نیشنل آرٹ گیلری ان سیاحوں کیلئے بہترین جگہ ثابت ہوگی، جنہیں آرٹ اینڈ کرافٹ سے دلچسپی ہے۔ اس گیلری کا قیام 1999میں عمل میں لایاگیاتھا۔ یہاں سال بھرمختلف نمائش جاری رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ملکی و بین الاقوامی مصوروں کے فن پارے بھی موجود ہیں۔ اس آرٹ گیلری میں مقامی آرٹسٹوں کے فن پارے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں،کیونکہ یہ مالدیپ کی ثقافت کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جزیروں کی سیر:
مالدیپ جزیروں کی ایک جنت ہے۔ یہاں 1200چھوٹے بڑے جزیرے ہیں، جن میں چھوٹے قصبے،گاؤں آباد ہیں، کئی جزیروں پر فشنگ کی جاسکتی ہے، مقامی سی فوڈ کھایا جاسکتاہے۔ کچھ جزیروں پر انتظامی امور کے آفسز بھی بنائے گئے ہیں۔ کچھ جزیروں پر سیاحوں کیلئے ریزورٹس بنائے گئے ہیں، سیاح وہاں کے لگژری اور آرام دہ کمروں میں ٹہر کر اپنی چھٹیاں گزارتے ہیں اور اپنی ذہنی و جسمانی تھکن اتارتے ہیں۔ چند جزیرے جیسے ہل ہمالے، مرہی زیادہ مشہور ہیں۔ مرہی کو یہاں کی سفید سمندری مٹی کی وجہ سے جانا جاتاہے۔ اکثر لوگوں کو ایسی تصاویر کھنچوانے کا شوق ہوتاہے، جہاں پانی کے بیچ میں ایک پُل ہو اور اس کے دونوں اطراف سمندر کا نیلا اور ہرا شفاف پانی موجو دہو۔ ایسے لوگوں کیلئے سب سے بہترین جگہ مرہی جزیرہ ہے۔ جہاں کھینچی گئی تصاویر ان کی زندگی کی سب سے یادگار تصاویر کا درجہ حاصل کرسکتی ہیں۔

Leave a Reply