آسام، میزورم جھڑپ: انڈیا کی دو ریاستوں کے درمیان سرحدی جھڑپ کی وجہ کیا ہے؟

  • شکیل اختر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہونے کی خبریں تو آتی رہتی ہیں لیکن کسی ملک کے اپنے صوبوں کے درمیان خونریز سرحدی جھڑپ ہوایسی خبر بہت کم آتی ہے۔

انڈیا کی دو شمال مشرقی ریاستوں آسام اور میزورم کے درمیان پیر کو ایک سرحدی جھڑپ میں آسام کے کم ازکم چھ پولیس اہلکار ہلاک اور پچاس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس وقت دونوں ریاستوں کی سرحد پر زبردست کشیدگی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات چیت کر رہے ہیں۔

میزورم کے وزیر اعلیٰ زورم تھانگا کا کہنا کہ یہ ٹکراؤ اس وقت شروع ہوا جب کچھار ضلع کے ویرنگتے آٹو رکشا سٹینڈ کے نزدیک واقع سی آر پی ایف پوسٹ میں آسام کے دو سو سے زیادہ پولیس اہلکار پہنچے اور انھوں نے میزورم پولیس اور مقامی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

جب مقامی لوگ جمع ہونے لگے تو ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ اس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

اعلیٰ پولیس اہلکاروں نے آسام پولیس کو سمجھانے کی کوشش کی۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق کشیدگی کے درمیان آسام پولیس نے دستی بم پھینکے اور فائرنگ کی جس کے جواب میں میزورم پولیس نے بھی فائرنگ کی۔

پولیس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری جانب آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بشو شرما نے کہا کہ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب میزورم حکومت نے آسام کے علاقے لیلیٰ پور میں سڑک تعمیر کرنی شروع کی۔

اسی سلسلے میں آسام پولیس کے انسپکٹر جنرل، ڈی آئی جی اور ایس پی جیسے اعلیٰ اہلکار وہاں گئے تاکہ انھیں حالات جوں کے توں قائم رکھنے کے لیے سمجھایا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ ہیمنت شرما کے مطابق مقامی لوگوں نے آسام پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔

بات چیت کے دوران کشیدگی بڑھتی گئی اور میزورم پولیس نے گولی چلا دی جس میں آسام پولیس کے کم از کم چھ اہلکار مارے گئے اور کچھار ضلع کے ڈی ایس پی سمیت پچاس سے زیاد افراد زخمی ہوئے۔

ان بیانات سے یہ واضح کہ فائرنگ دونوں جانب سے ہوئی ہے۔ آسام کے وزیر اعلی ہیمنت شرما نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت تکلیف ہو رہی ہے کہ آسام پولیس کے چھ جوانوں نے ریاست کی آئینی سرحد کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔‘

انھوں نے مزید کہا ’جو ثبوت سامنے آئے ہیں ان سے یہ واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ میزورم پولیس نے آسام پولیس کے خلاف لائٹ مشین گن کا استعمال کیا جو بہت افسوسناک ہے۔‘

میزورم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دونوں ریاستوں کی سرحد پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ دونوں جانب مسلح پولیس سرحدی علاقوں کی نگرانی کر رہی ہے۔ آسام کے ساتھ میزورم کی تقریباً 165 کلو میٹر لمبی مشترکہ سرحد ہے جس میں میزورم کے تین اضلاع آئزول، کولا سیب اور ممیت آتے ہیں۔ جبکہ آسام کے کچھار، کریم گنج اور ہیلا کاندی اضلاع اس سے متصل ہیں۔

گذشتہ برس کچھار ضلع کے لیلیٰ پور گاؤں کے باشندوں اور میزورم کے کولاسیب ضلع کے ویرنگتے علاقے کے پاس مقامی لوگوں میں سرحدی تنازعے کے باعث پر تشدد ٹکراؤ ہوا تھا جس میں آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔

مقامی صحافی ایڈم ہیلی ڈے نے بی بی سی کو بتایا ’دونوں ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعہ تو پرانا ہے لیکن دونوں ریاستوں کی پولیس ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو کر گولیاں چلانا شروع کر دے، یہ تو پہلے کبھی نہیں ہوا۔

’سوال یہ ہے کہ پولیس کو گولی کیوں چلانی پڑیں۔ یہ پولیس افسروں کے طریقہ کار پر بھی سوال کھڑا کرتا ہے۔‘

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی آسام بیورو کی سربراہ دوروا گھوش کہتی ہیں ’دونوں ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعہ کافی پرانا ہے۔ مختلف سرحدی علاقوں سے جھرپ کی خبریں آتی رہتی ہیں۔‘

لیکن یہ اتنا بڑا تنازعہ بن جائے گا کہ اس میں گولیاں چلنے لگیں اور پولیس اہلکاروں کی موت ہو جائے، اس کا اندازہ کسی کو نہیں تھا۔ ’فی الحال اس خطے میں زبردست کشیدگی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اب آسام اور میگھالیہ کی سرحد پر بھی کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔‘



Source link

Leave a Reply