آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے: چٹاخ چھنن، پٹاخ چھنن

  • آمنہ مفتی
  • مصنفہ و کالم نگار

ایک گھنٹہ قبل

کہتے ہیں کہ وہ گھونسہ جو لڑائی کے بعد یاد آئے وہ اپنے ہی منھ پہ مار لینا چاہیے۔ اگر ایسے گھونسے یاد کرنے بیٹھیں گے تو ہزاروں میں نہ سہی سینکڑوں میں تو ہوں گے ہی۔ کتنے ہی لوگ بحث برائے بحث کرتے کرتے اس نہج تک لے آتے ہیں کہ ایک گھونسہ تو بنتا ہی ہے۔

ایسا بھی نہیں کہ اس وقت پہ وہ گھونسہ یاد نہ آتا ہو۔ گھونسہ چھوڑ، دھموکا، ریپٹا،چپیڑ، دھپا، طمانچہ، اور بھی جانے کیا کیا جڑ دینے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن خدا گواہ ہے کہ جہاں کہیں بات حد سے بڑھی، میدان چھوڑ کے جانے والا پہلا شخص راقم ہی ہوتا ہے۔

ان ان گنت ادھوری بحثوں میں، غیر منطقی اور سطحی گفتگو کرنے والوں کے تیور دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ مزید بحث کا مطلب، گالم گلوچ ،دھول دھپا ہی ہو گا۔ دھول دھپے کے بارے میں قدما کی تحقیق یہ کہتی ہے کہ پیش دستی کی جائے تو جواب میں دھول دھپے کی قوی امید ہوتی ہے، واللہ اعلم۔

بڑوں سے یہ ہی سنا اور سیکھا کہ بحث دلائل سے کی جاتی ہے اور کشتی داؤ پیچ سے لڑی جاتی ہے ہاں، دھونس جمانے کا کوئی اصول نہیں ہے۔ ایسے معاملے میں بحث کب الفاظ کے دائرے پھلانگ کے کشتی اور مار کٹائی کے دائرے میں آ جائے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

حال ہی میں ان گنہگار آنکھوں نے آپا فردوس عاشق اعوان کو مندوخیل صاحب کی بات پہ زچ ہوتے اور انہیں تھپڑ مارتے دیکھا (دروغ برگردن اینکر ) سنا کہ پروگرام ختم ہونے کے بعد مندوخیل صاحب سٹوڈیو کو باہر سے مقفل کر کے بھاگے تاکہ جان بچا سکیں۔

اس صورت حال پہ نہ رویا جا سکتا ہے نہ ہنسا جا سکتا ہے۔ رونے کی بات تو خیر یہ بالکل بھی نہیں ہے لیکن یہ جو بے وجہ کے ہاسے نکل رہے ہیں یہ بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے۔

سیاسی کلچر کے خراب ہونے کا رونا کب تک روئیں؟ کس کس کی بدزبانی پہ سر پیٹیں؟ جو تم پیزار کے کس واقعے پہ تاسف کریں اور کس سے صرف نظر کریں؟ میں پچھلے تھپڑوں کا ذکر کروں نہ کروں مگر ان کی گونج سنائی ضرور دے گی۔

یوں تو ہر سیاسی پارٹی نے بد لحاظی اور بدتمیزی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے لیکن پی ٹی آئی کے ترجمان جس طرح بنوٹ، گتکے اور دھول دھپے کے ماہر ثابت ہو رہے ہیں وہ ایک اور ہی رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

بدزبانی، کج بحثی، گالم گلوچ کے بعد اب مار پیٹ بھی ہماری گفتگو میں شامل ہوتے ہوتے اس کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔ میری ناقص رائے میں ترجمان تو ایک ایسا شخص ہونا چاہیے جسے لب و لہجے، الفاظ کے چناؤ، آواز کے اتار چڑھاؤ اور بات چیت کے ذریعے لوگوں کے دل موہ کے مطیع کرنے کا فن آتا ہو۔

مگر دیکھنے میں یہ ہی آیا کہ پوری جماعت میں سب سے برے لہجے، سب سے بھدے انداز و اطوار، سب سے برے مزاج اور غیر محتاط گفتگو کرنے والے ایسے شخص کو اطلاعات کا شعبہ یا ترجمانی کا کام سونپا جاتا ہے جس کا ذخیرہ الفاظ بھی محدود ہو۔

ایسے اناڑی جب بھی بولتے ہیں، اناڑی کی بندوق کی طرح پیچھے کی طرف ہی پھٹتے ہیں اور اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ بے شک کہ ملک میں مدت سے جو انتظام و انصرام چل رہا ہے اس میں ترجمانی کا مطلب رائے عامہ کو ہموار کرنا یا ان کی خوشنودی حاصل کرنا نہیں ہوتا لیکن، اگر ان باتوں کا بھی خیال کر لیا جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔

آمنہ مفتی کے دیگر کالم پڑھیے

غصیل، ہتھ چھٹ، بدمزاج، شعلہ صفت لوگوں کو دوسرے شعبے سونپ دیئے جائیں تو کیا ہی بہتر ہو گا۔ روز روز کی بد تہذیبی سے طبیعت شدید مکدر ہو جاتی ہے اور بے چارے عوام پہ یہ ایک اضافی بوجھ ہے۔ کم سے کم اسے تو ہلکا کیا جا سکتا ہے۔

اس موقعے پہ شفیق الرحمان صاحب یاد آگئے۔ ان کا ایک کردار حمید دوسرے کردار ایک کرنل صاحب جو شومئی قسمت شاعر بھی تھے، سے ملتا ہے۔

کرنل شاعر،حمید کو اپنا ایک شعر سناتے ہیں اور اسے غالب سے بڑھ کے بتاتے ہیں ۔ غالب کا شعر تھا

دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں

ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن

اس شعر کو واہیات کہنے کے بعد کرنل صاحب اپنا شعر سناتے ہیں

‘ ان کا شیوہ نہیں چٹاخ چھنن

ہم ہی کر بیٹھے تھے پٹاخ چھنن’

واضح رہے کہ یہ ‘چھنن ‘چوڑیوں کی آواز تھی۔

شفیق الرحمان صاحب کے کردار تو اپنی بحث میں بہت دور نکل گئے لیکن راقم اس شعر کی گہرائی اور گیرائی اور تہہ در تہہ معنویت کو آج سمجھا۔ یہ بھی تحصیل علم کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔

فردوس، قادر

،تصویر کا ذریعہTwitter/APP

،تصویر کا کیپشن

فردوس عاشق اعوان اور قادر مندوخیل کے درمیان ایک ٹاک شو میں تلخ کلامی کے بعد نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی

ایک شعر اور یاد آگیا، غالبا انشاء کا ہے۔

جی چاہتا ہے کہ شیخ کی پگڑی اوتاریئے

اور تان کے چٹاخ سے اک دھول ماریئے

خیال یہ ہی ہے کہ ان سب بزرگوں نے یہ مارپیٹ زبانی کلامی ہی کی ہو گی لیکن اس نسل تک آتے آتے ایسے خیالات کو دل میں رکھنے کی بجائے عملی جامہ پہنانے کا رواج آ گیا ہے۔

خیر یہ سب یوں چلتا رہے گا، بدتہذیبی اور غیر محتاط گفتگو کے کسی اگلے واقعے تک اس تھپڑ کی گونج سنائی دیتی رہے گی۔ ویسے تھپڑ جس قدر زور دار تھا اس کے بعد کان بند ہو جاتا ہے اور بس ایک سناٹا سنائی دیتا ہے جس میں اتنا شور پنہاں ہوتا ہے کہ اگر کوئی سن پائے تو کانوں کے پردے پھٹ جاتے ہیں لیکن یہاں سماعت بھی کس کی سلامت ہے۔



Source link

Leave a Reply