آکاش بشیر: خودکش بمبار کو روکنے والے پاکستانی نوجوان کے لیے ’خدا کے خادم‘ کا خطاب

  • ترہب اصغر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

37 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

آکاش کے والد بشیر ایمینوئل اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کا ماننا ہے کہ اگر آکاش خودکش حملہ آور کو چرچ کے گیٹ پر ہی روکنے میں کامیاب نہ ہوتے تو مزید کئی افراد ہلاک ہو جاتے (فائل فوٹو)

’میرا بیٹا آکاش دنیا میں بھی خدا کا خادم تھا اور مرنے کے بعد بھی اسے خدا کا خادم کہہ کر پکارا جا رہا ہے اور میں اپنے بیٹے پر فخر محسوس کر رہا ہوں۔‘

سنہ 2015 میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ الاحرار نامی دہشت گرد گروپ کی جانب سے چرچ پر خودکش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوئے۔

آکاش کے والد بشیر ایمینوئل اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کا ماننا ہے کہ اگر آکاش خودکش حملہ آور کو چرچ کے گیٹ پر ہی روکنے میں کامیاب نہ ہوتے تو مزید کئی افراد ہلاک ہو جاتے۔

اس قربانی کے اعتراف میں کیتھولک مسیحیوں کے مرکز ویٹیکن نے آکاش بشیر نامی اس پاکستانی نوجوان کو ’خدا کا خادم‘ کے خطاب سے نوازا ہے۔

ویٹیکن نیوز رپورٹ کے مطابق آکاش بشیر، ایک عام کیتھولک اور لاہور کے ڈان باسکو ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے سابق طالب علم تھے۔

اس کے علاوہ وہ چرچ میں رضاکارانہ طور پر گارڈ کی ڈیوٹی بھی انجام دیتے تھے۔

2015 میں ہونے والے اس حملے میں 17 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوئے تھے (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

2015 میں ہونے والے اس حملے میں 17 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوئے تھے (فائل فوٹو)

بی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آکاش کے والد بشیر کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’خدا کی راہ میں جان قربان کی، اسی لیے انھیں یہ خطاب دیا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’جس دن یہ خودکش حملہ ہوا میں مری میں تھا۔ مجھے فون کال موصول ہوئی کہ لاہور کے چرچ میں دھماکہ ہوا ہے۔ میں وہاں سے واپس لاہور کی طرف روانہ ہو گیا۔ راولپنڈی کے پاس پہنچا تھا تو معلوم ہوا کہ میرا بیٹا آکاش بھی دھماکے میں اپنی جان کی بازی ہار گیا۔‘

’لیکن جب لاہور پہنچا تو معلوم ہوا کہ میرے بیٹے نے اپنی جان دے کر کئی ایسے لوگوں کی جان بچائی جو اس وقت عبادت کی غرض سے چرچ میں موجود تھے۔‘

انھوں نے اس واقعے کے بارے میں مزید بتایا کہ ’خودکش حملہ آور چرچ کے اندر داخل ہونا چاہتا تھا لیکن آکاش نے اسے چیکنگ کے لیے گیٹ پر روکا۔ اس کے اصرار پر بھی آکاش نے کہا کہ میں تمھیں چیکنگ کے بغیر اندر نہیں جانے دوں گا۔ جس کے بعد اس نے آکاش کو دھمکی دی کہ میرے پاس خودکش بمبار جیکٹ ہے۔۔۔ جس پر آکاش نے جواب دیا کہ ’میں اپنی جان دے دوں گا لیکن تمھیں اندر نہیں جانے دوں گا۔‘ جس پر حملہ آوار نے وہیں پر دھماکہ کر دیا۔‘

آکاش کو ملنے والے ایوارڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بشیر ایمینوئل کا کہنا تھا کہ ’31 جنوری کو مجھے فادر فرانسس گلزار کی جانب سے فون پر بتایا گیا کہ آکاش پہلا پاکستانی مسیحی ہے جسے ’خدا کے مقدس بندوں‘ کے درجے پر فائز کیا گیا ہے جس پر میں اور میری فیملی بےحد خوش ہوئے۔‘

وہ کہتے ہیں ’لیکن آج بھی میں اوپر سے جتنا مرضی خوش ہو جاؤں، آکاش کے لیے میرا دل اندر سے دکھی ہے۔ میرے چار بیٹے تھے آکاش کے بعد اب تین ہیں لیکن آج بھی آکاش کی جگہ میرا چھوٹا بیٹا وہاں ڈیوٹی کرتا ہے۔‘

میت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

آکاش کے والد کہتے ہیں ’آج بھی میں اوپر سے جتنا مرضی خوش ہو جاؤں۔۔۔ آکاش کے لیے میرا دل اندر سے دکھی ہے‘ (فائل فوٹو)

اس درجے پر پہنچنا اور اس مقام کو حاصل کرنا ایک مشکل عمل ہے جو کئی سال پر محیط ہوتا ہے۔ جس شخص کو اس اعزاز کے لیے چنا جائے، اس کی زندگی کے بارے میں دستاویزات، قربانی کے متعلق معلومات اکھٹا کرنے کا عمل، اس شخص کے دنیا سے چلے جانے کے پانچ سال بعد شروع ہوتا ہے۔

9 نومبر 2021 کو کاززآف سینٹس کے لیے ویٹیکن کانگریگیشن نے لاہور کے archdiocese کو منظوری دی کہ وہ آکاش کی قربانی کا کیس کھولیں۔

آرچ بیشپ سبیسٹن نے اعلان کیا کہ ویٹیکن نے آکاش کی قربانی کو قبول کر لیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں رہنے والے مسیحی افراد نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے پہلے ’خدا کے خادم‘ کی شفاعت کے لیے دعاؤں کا آغاز کر دیا۔

آکاش 22 جون 1994 کو خیبر پختونخوا کے ڈسٹرکٹ نوشہرہ کے شہر رسالپور میں پیدا ہوئے اور انھوں نے 20 سال کی عمر میں اپنی جان کی قربانی دی۔



Source link