اترپردیش انتخابات: کیا خواتین واقعی وزیر اعظم مودی کے دعوے کے مطابق بااختیار ہیں؟

  • گیتا پانڈے
  • بی ‌بی‌ سی، دلی

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مرحلہ وار ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان انتخابات میں غیرمعمولی طور پر توجہ خواتین پر مرکوز ہے۔

انڈیا کی اس ریاست کی آبادی برازیل کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے جس میں ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کی تعداد پندرہ کروڑ ہے جس میں خواتین کی تعداد سات کروڑ کے قریب ہے اور انتخابات میں حصہ لینے والی ہر سیاسی جماعت کی کوشش ہے کہ خواتین کی ہمدردیاں اور حمایت حاصل کی جائے۔

حزب اختلاف کی جماعت کانگریس، جس کی الیکشن مہم کی قیادت پرینکا گاندھی کر رہی ہیں اور انھوں نے اس سلسلے میں گذشتہ سال اکتوبر میں پہل کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت کی 40 فیصد امیدوار خواتین ہوں گی۔

کانگریس نے انتخابی مہم میں یہ نعرہ دیا کہ ’لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں‘ اور اس کے انتخابی جلسوں میں خواتین بڑی تعداد میں شریک رہیں۔

اس کے ساتھ ہی کانگریس نے خواتین سے وعدہ کیا کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں خواتین کا سرکاری نوکریوں میں کوٹہ بڑھا دیا جائے گا، خواتین کو مفت بس پاس جاری کیے جائیں گے، بجلی سے چلنے والے سکوٹر اور سمارٹ فون فراہم کیے جائیں گے۔

کانگریس کے امیدواروں کی فہرست بھی بڑی سوچ سمجھ کر مرتب کی گئی جس میں ریپ کا شکار ہونے والی ایک لڑکی کی والدہ، ایک نچلی سطح کی کارکن جس کو پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ایک مسلمان کارکن جس کو احتجاج میں شریک ہونے پر قید کی سزا بھگتنا پڑی تھی، ایک اداکارہ اور کچھ خواتین صحافی شامل ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس اس انتخابات میں نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کو عوامی سطح پر بہت کم حمایت حاصل ہے۔

کانگریس کی طرف سے صنف نازک کو اہمیت دینے کی وجہ سے بڑی سیاسی جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی اور سماج وادی پارٹی کے مرد امیدواروں کو بھی خواتین کی فلاح اور بہبود کے لیے خصوصی وعدے کرنے پڑ رہے ہیں۔

گذشتہ سال دسمبر میں وزیراعظم نریند مودی نے ہزاروں خواتین کے ایک مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ خواتین کی اکثریت ان کی جماعت کو ووٹ ڈالے گی کیونکہ ان کی جماعت کے وزیراعلیٰ یوگی ادتے ناتھ نے انھیں کام کرنے کی جگہ پر تحفظ فراہم کیا اور ان کی خودمختاری پر کام کیا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے دور میں یہ ریاست ایک ایسی جگہ بن گئی جہاں خواتین مکمل طور پر محفوظ تھیں اور ان کے لیے بے شمار مواقع تھے لیکن کیا واقعی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں خواتین خوشحال ہو رہی تھیں، ایک ایسی ریاست میں جو انڈیا کی سب سے غریب ریاست کے علاوہ پدر شاہی اور جاگیردارانہ راویات میں جکڑی ہوئی ہے۔

پرینکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بھارتیہ جنتا پارٹی کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے میں نے جرائم، روزگار، صنفی تناسب اور غربت کے سرکاری اعداد و شمار دیکھے اور پھر ان اعداد و شمار کی تشریح کے لیے ماہرین اور ریاست میں سرکردہ خواتین سے بات کی۔

جو تصویر ابھر کے سامنے آئی وہ زیادہ روشن نہیں تھی گو کہ گذشتہ پانچ برس میں کچھ شعبوں میں بہتری آئی تھی۔

نیشنل فیلی سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2015 سے لے کر سنہ 2021 تک کچھ بہتری آئی ہے۔

نوے فیصد سے زیادہ گھرانوں کو اب بجلی کی سہولت حاصل ہے جو 72.6 فیصد سے بڑھ کر نوے فیصد تک پہنچی ہے۔ 68.8 فیصد گھرانوں کو اب بیت الخلا کی سہولیت بھی میسر ہے جو ایک وقت میں صرف ساڑھے چھتیس فیصد تھی۔ اب ہر دو گھروں میں سے ایک کو صاف ایندھن تک رسائی حاصل ہے جو اس سے قبل صرف ہر تین میں سے ایک گھر کو میسر تھی۔

خواتین میں خواندگی کی شرح بھی بہتر ہوئی ہے اور اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی شمولیت بھی بڑھی ہے۔

اتر پردیش سے منتخب ہونے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کی نمائندہ گیتا سیکیا نے کہا کہ ’ہماری جماعت عورت کے احترام اور ان کی حوصلہ افزائی پر خصوصی توجہ دیتی ہے اور ہماری جماعت نے خواتین کے لیے بہت کچھ کیا اور وہ ہم سے بہت خوش ہیں‘ لیکن بہت کچھ ایسا بھی ہے جس پر تشویش ہونی چاہیے۔

حال ہی میں جاری ہونے والے ’ملٹی ڈائی مینشنل پاورٹی انڈکس‘ یا کثیر الجہتی غربت کے سروے سے معلوم ہوا کہ ریاست کی کل چوبیس کروڑ آبادی میں سے 44 فیصد خوراک کی کمی کا شکار ہے اور کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ریاست میں ماں اور بچوں میں اموات کی شرح کو کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا اور 32 فیصد آبادی کو نکاسی آب اور صفائی نصیب نہیں۔

غربت کا اثر تمام لوگوں کو یکسر متاثر کرتا ہے لیکن اس بارے میں کی جانے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین غربت سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور خاص طور پر پدر شاہی معاشرے میں جہاں مردوں کا وسائل پر پہلا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔

یوپی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اتر پردیش اس قدر اہم کیوں ہے؟

اتر پردیش کی 24 کروڑ آبادی ہے اور یہ انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے۔

اگر یہ علیحدہ ملک ہوتا تو آبادی کے لحاظ سے یہ چین، انڈیا، امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہوتا جس کی آبادی پاکستان اور برازیل سے زیادہ ہے۔

لوک سبھا کی کل نشستوں میں سے اتر پردیش کی 80 نشستیں ہیں اور کہا جاتا ہے جو جماعت اتر پردیش میں الیکشن جیت جاتی ہے وہی حکومت بناتی ہے۔

انڈیا کے بیشتر وزرائے اعظم اسی ریاست سے تعلق رکھتے تھے جن میں جواہر لعل نہرو اور موجود وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں۔

ایک اور باعث تشویش بات ملک کی افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت ہے جو انڈیا کی دیگر ریاستوں میں بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا پھوٹنے سے پہلے بھی اتر پردیش کی خواتین میں سے صرف 9.4 فیصد خواتین روزگار سے منسلک تھیں۔ یہ شرح گزشتہ دو سال میں اور بھی کم ہو گئی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی رہنما سیکیا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ امر قابل تشویش ہے اور وہ اس مسئلے پر وزیراعظم نریندر مودی سے بات کریں گی۔

ماہرین قومی سروے کے اس دعوے کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ ریاست میں صنفی تناسب میں بہتری آئی ہے۔

تحقیق کار اور سرگرم کارکن سابو جارج کہتے ہیں کہ متبادل سرکاری ذرائع مثلاً پیدائش کی رجسٹریش کے اعداد و شمار سنہ 2018 سے اس سلسلے میں کوئی بہتری ظاہر نہیں کرتے۔

انھوں نے کہا کہ ریاست کے مشرقی اور مرکزی ضلعوں کے ایک معائنے سے پتا چلا کہ وہاں بہت سے غیر قانونی الٹرا ساونڈ کلینک بغیر کسی ڈر اور خوف کے کھلے عام کام کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے بچیوں کو حمل کے دوران ہی ضائع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

سب سے بڑی تشویش خواتین کے خلاف دل ہلا دینے والی خبروں پر ہے جو اکثر ذرائع ابلاغ میں نظر آتی ہیں۔

مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 2018 کے ایک عالمی سروے میں اتر پردیش کو خواتین کے لیے کرۂ ارض پر دنیا کا سب سے خطرناک خطہ قرار دیا گیا تھا۔

لکھنئو یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر پروفیسر روپ ریکھا ورما نے کہا کہ انڈیا میں اتر پردیش بہت سے بدتر ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر آپ جرائم کا ریکارڈ دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ مودی سرکار کے دوران خواتین پر تشدد اور ریپ کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

اترپردیش میں ہر سال خواتین کے خلاف دسیوں ہزار پر تشدد جرائم ہوتے ہیں جو انڈیا کی باقی ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

پولیس کے ریکارڈ میں اترپردیش میں سنہ 2020 میں خواتین کے خلاف پچاس ہزار جرائم درج کیے گئے ہیں۔ اس کے مطابق صرف ایک سال میں 2796 خواتین کو ریپ کا شکار بنایا گیا، 9257 خواتین کو اغوا کیا گیا، 2302 دلہنوں کو ناکافی جہیز لانے پر ہلاک کر دیا گیا اور کم از کم 23 خواتین کو تیزاب ڈال کر جلا دیا گیا۔

این ایف ایچ ایس فائیو سروے کے مطابق 35 فیصد شادی شدہ خواتین کو ریاست میں ان کے شوہروں کی طرف سے مار پیٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

خواتین کے خلاف جرائم سب جگہ ہی پیش آتے ہیں لیکن کچھ واقعات سرکار کے رد عمل کی وجہ سے عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔

سنہ 2020 میں ادتناتھ کی حکومت کو عالمی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا پڑا تھا جب حکام نے ایک کم عمر لڑکی جو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ہلاک کر دی گئی تھی اس کی لاش کو خاندان کے احتجاج کے باوجود بغیر کسی پوسٹ مارٹم کے رات کے اندھیرے میں جلا دیا گیا تھا۔

اعلیٰ سرکاری عہدیدار اس واردات کے بعد یہ دعوے کرتے رہے تھے کہ اس لڑکی کا ریپ نہیں کیا گیا تھا۔

سنہ 2018 میں ایک خاتون نے بی جے پی کے ایک منتخب نمائندے پر اسے ریپ کرنے کا الزام لگایا تھا اور وزیراعلیٰ کے دفتر کے باہر احتجاجاً اپنے آپ کو جلا کر ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس شکایت کے باوجود بی جے پی رہنما کو ان کے عہدے سے کئی مہینوں تک علیحدہ نہیں کیا گیا اور وہ اس علاقے پر راج کرتے رہے۔

گزشتہ سال اگست میں ایک 24 سال کی خاتون نے خود کو آگ لگا کر خود کشی کر لی تھی۔ خود کشی کرنے والی عورت کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے رکن پارلیمان نے انھیں ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

لکھنئو سے کانگریس کی امیدوار صفدر جعفر کا کہنا ہے کہ ’ایک خاتون اپنی شکایت درج کرانے کے لیے پولیس سٹشین بھی نہیں جا سکتیں۔ ریپ کی وارداتوں میں الٹا حکومت متاثرہ خاتون کو بدنام کرنے اور اس کو جھوٹا ثابت کرنے پر اتر آتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اتر پردیش میں خواتین اپنے بل اور خدا کی طرف سے مدد پر زندہ ہیں۔

پروفیسر ورما جنھوں نے چار دہائیوں تک صنفی مسائل پر کام کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جب بات خواتین سے بدسلوک کی آتی ہے تو اس میں بے جے پی اکیلی نہیں۔

انھوں نے کہا کہ تمام جماعتیں خواتین سے ایک جیسا ہی سلوک کرتی ہیں اور اس سلسلے میں کوئی معصوم نہیں۔

’میں نے کئی جماعتوں کو دیکھا ہے جو طاقتور مجرموں کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ باقی جماعتیں عوامی رد عمل سے ڈرتی ہیں لیکن حکومت کو عوامی رد عمل کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کہتے ہیں کہ انھوں نے خواتین کو بااختیار بنایا لیکن یہ زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔

پروفیسر ورما کا کہنا ہے کہ خواتین کے مسائل اس لیے انتخابات کے ایجنڈے پر نہیں آتے کیونکہ ووٹوں کی اکثریت مذہبی اور ذاتوں کی بنیاد پر ڈالے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین کوئی علیحدہ گروپ کی صورت میں نہیں ہوتیں اور ان کو بہت کم آزادی حاصل ہوتی ہے۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ انھیں کس کو ووٹ دینا ہے اور وہ باقی خاندان کے ساتھ ہی ووٹ ڈالتی ہیں۔‘



Source link