اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر جلسے جلوس: بات کدھر جائے گی؟

  • سحر بلوچ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

6 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اس وقت ممکنہ ‘شو ڈاؤن’ کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ بیک وقت حکومتی ارکان اور اپوزیشن کی جانب سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے متوقع ہیں۔ ساتھ ہی دونوں جماعتوں میں موجود چند ارکان نے کشیدگی بڑھنے کے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

اسی حوالے سے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے کور کمیٹی کی میٹنگ کے دوران عدم اعتماد تحریک یعنی 27 مارچ سے ایک روز قبل دس لاکھ افراد بلانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو جواباً کہا ہے کہ دھمکی اور دباؤ کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک چلائی جارہی ہے۔ جس کے لیے اپوزیشن نے پی ٹی آئی کے ارکان اور مختلف اتحادیوں سے ملاقاتوں کا دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ حکومتی ارکان بارہا کہہ چکے ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگی۔

منگل کو اوورسیز پاکستانیوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اگر عدم اعتماد کی نوبت آئی تو پھر اس آدمی کا کلیجہ دیکھیں گے جو دس لاکھ لوگوں سے گزر کے جائے اور پھر واپس بھی آجائے۔ ان کے مطابق امید ہے کہ یہ نوبت نہیں آئے گی۔

جہاں ایک طرف حکومت نے اپنے باغی ارکان کو دبے الفاظ میں ووٹ دے کر بھرے مجمع سے گزرنے کو کہا ہے وہیں مولانا فضل الرحمان نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حامیوں کو پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہونے کو کہا ہے تاکہ اسمبلی میں ووٹ دینے والے ارکان کو حفاظت فراہم کرسکیں۔

اب ان حالات میں ثالثی کا کردار کون نبھائے گا؟ یا یہ کیسے ممکن بنایا جائے گا کہ حکومتی جلسے کے دوران کشیدگی پیدا نہ ہو؟

اپوزیشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ بنیادی طور پر کسی بھی کشیدگی کو نمٹانے کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔ ‘اب حکومت جب خود کشدیدگی بڑھانا شروع کردے تو اپوزیشن کے پاس کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔

یہ بیانات ان کے (یعنی حکومتی) وزراء نے پہلے دیے ہیں کہ جو باغی ارکان ہیں ان کو جلسے کے شرکا کے درمیان سے گزر کر جانا ہوگا۔ اور ووٹ دینے کے بعد واپس بھی اسی راستے سے آنا ہوگا۔ تو اب جب حکومتی وزراء نے کھلے عام دھمکی دے دی اور ماحول کشیدہ کردیا تو اس کے بعد اپوزیشن کے پاس کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ وہ بھی اسی قسم کا رویہ اختیار کرے۔’

جہاں تک ثالثی کا کردار نبھانے کی بات ہے تو اس پر سپیکر قومی اسمبلی کا کردار سامنے آتا ہے۔

تاہم اپوزیشن جماعتوں نے پہلے ہی ان کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے مطابق ‘اگر سپیکر قومی اسمبلی یہ گارنٹی دیں کہ ارکان کو ووٹنگ کے حق سے نہیں روکا جائے گا، اور کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی قدم نہیں اٹھایا جائے گا تو پھر اس پر راستہ نکل سکتا ہے۔ لیکن سپیکر اس وقت خود حکومت کی طرف ہیں۔’

اس کی ایک مثال ایک روز قبل ہونے والی پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کی میٹنگ سے لی جاسکتی ہے جس میں حیران کن طور پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی شامل تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان نے میڈیا کو بتایا ہے کہ پی پی پی کو مسلم لیگ نواز اور انھوں نے خود مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

احسن اقبال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایسا تو بچے کرتے ہیں، اپنی بیٹنگ مکمل ہونے کے بعد پِچ خراب کردیتے ہیں: احسن اقبال

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘حکومت ہجوم گردی کا سہارا لے کر عدم اعتماد کے ووٹ کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ ایسا تو بچے کرتے ہیں، اپنی بیٹنگ مکمل ہونے کے بعد پِچ خراب کردیتے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ عدم اعتماد کے ووٹنگ کے روز تمام تر ‘لڑائی جھگڑا سپریم کورٹ کی ناک کے نیچے ہوگا۔ تو میرے خیال میں سپریم کورٹ اس بات کا ازخود نوٹس لے جس طرح کی دھمکیاں حکومتی وزرا اپنے ارکان اور دیگر جماعتوں کو دے رہے ہیں۔’

احسن اقبال نے کہا کہ عوام مہنگائی سے تنگ آچکی ہے اور عدم اعتماد کا ووٹ اراکینِ پارلیمان کے لیے بھی ایک امتحان سے کم نہیں ہے۔

‘عمران خان اس وقت عدم اعتماد کی تحریک سے بچنے کے لیے ہجوم گردی کا سہارا لے رہے ہیں۔ ایسا کرنے کے بجائے وہ اسمبلی میں اپنی 172 ووٹوں کی اکثریت ثابت کریں۔ ہم نے اپنے اراکین اور حمایتیوں کو اپنی اور دیگر اراکین کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے بلایا ہے۔ کیونکہ خدشہ یہی ہے کہ حکومت کوئی بھی ہتھکنڈہ استعمال کرسکتی ہے۔’

وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے منگل کے روز میڈیا کو ایک بیان میں بتایا کہ آنے والے 72 گھنٹے بہت اہم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان میچ بھی ہے ‘اور اس دوران تمام افراد کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔’

عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے صرف اتنا کہا کہ ‘مولا جٹ کی سیاست نہیں چل سکتی۔ 23 سے 30 مارچ تک کا پورا ہفتہ زوردار ہوگا۔’ انھوں نے کہا کہ اگر معاملات حل نہ ہوئے تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا۔

ایسی صورتحال میں منگل کو تحریکِ انصاف حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے اعلیٰ ترین مفاد میں اسلام آباد میں مارچ کے آخر میں طے شدہ جلسے منسوخ کر دیں۔

چوہدری شجاعت نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ نامساعد معاشی اور سیاسی حالات اس خطرناک محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے اور فریقین اپنے اپنے کارکنان کو اشتعال انگیز سیاست کا راستہ مت دکھائیں۔

فواد چوہدری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تحریک انصاف کے رہنماؤں کی وضاحت

چوہدری شجاعت کے بیان کے جواب میں وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت شدت پسندی کی سیاست نہیں کرتی اور اسلام آباد میں تحریکِ انصاف کے جلسے کا مقصد تصادم نہیں ہے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا کہ چوہدری شجاعت صاحب رائے شخصیت ہیں اور وزیر اعظم نے انھیں ہمیشہ عزت دی ہے۔

‘تحریک انصاف ایک جمہوری پارٹی ہے، ہم شدت پسندی کی سیاست نہیں کرتے نہ ہی تصادم پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری سیاست کی بنیاد جمہوریت ہے اور عوام کی رائے ہمارے لیے مقدم ہے۔’

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘اگر اپوزیشن پرامن جلسہ کرنا چاہتی ہے تو اس جلسے کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں اور ہر طرح کی سہولت دیں گے، جمہوریت میں عوام کی رائے اصل فیصلہ ہے اور جلسے اس رائے کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔’

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عامر خان کیانی نے اپنے بیان کے بارے میں کہا کہ اپوزیشن حواس باختگی کا شکار ہوچکی ہے۔’میں یا حکومت میں بیٹھا کوئی بھی کیسے ان کو دھمکی دے سکتا ہے کہ جلسے سے گزر کے جانا ہوگا؟ ہمارا تو جلسہ ہے ان کی طرح کا دھرنا تھوڑی ہے جو 29 یا 30 مارچ تک چلے گا۔’

عامر کیانی نے کہا کہ ‘ووٹ تو 28 یا 29 مارچ کو بنے گا۔ ان کی پریشانی سمجھ آتی ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘اپوزیشن پر اخلاقی پریشر تو ہے اور رہے گا۔ ان سے ہماری مزاحمت برداشت نہیں ہورہی ہے۔ یہ بات یہ ذہن نشین کرلیں کہ عمران خان کی حکومت 2028 تک رہے گی۔’

حالات بگڑنے کی صورتِ حال پر ان سے سوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ‘ہم انھیں مکمل موقع دے رہے ہیں کہ یہ پراُمن دھرنا کریں۔ اور اس کے لیے ان کے پاس جگہ اور وقت دونوں موجود ہیں۔ ثالثی کی ضرورت نہیں پڑے گی اگر دھرنا پرامن طریقے سے کیا جائے گا۔ حکومت کا جلسہ ایک روز کا ہے اس لیے اس سے انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

سینیئیر صحافی اور تجزیہ کار افتخار احمد نے کہا کہ اس معاملے کو بڑھایا جارہا ہے۔ ‘یہ سب بیان بازی شروع کہاں سے ہوئی؟ کیا اس سے پہلے کسی بھی وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں چلائی گئی؟’

انھوں نے کہا کہ اس سے قبل ‘محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چلائی گئی اور اس سے بدتر حالات پیدا ہوسکتے تھے۔ لیکن نہیں ہوئے کیونکہ وہ سب سیاستدان تھے اور آئین کے تحت کارروائی کرنا چاہتے تھے۔’

افتخار احمد نے کہا کہ سابق امریکی صدر کے خلاف بھی عدم اعتماد کا ووٹ ہوا تھا جس کے بعد ان کے حامیوں نے کیپیٹل ہِل پر حملہ کیا تھا۔ ‘اگر یہ حکومت ایسا ہی چاہتی ہے کہ بد امنی ہو، بد تمیزی ہو، قائدِ اعظم محمد علی جناح اور پارلیمان میں ٹنگی ہوئی دیگر وزرا کی تصاویر کو پھینکا جائے، تو بیشک کریں۔ لیکن یہ آئینی حل نہیں ہے۔’

انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک سے آئینی نظام کو ختم کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ‘میرا سوال یہ ہے کہ اگر اس حکومت سے کوئی اختلاف کرنا چاہے تو کیسے کرے؟ آئین کے تحت ہی کریں گے نا۔ آپ ساتھ میں سیاسی ورکروں کو دھمکیاں دیں کہ مجمع سے گزر کر جانا پڑے گا۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر حالات بگڑتے ہیں تو مرنا غریب ورکر کو ہے۔ امیر وزراء کو کچھ نہیں ہوگا۔’

اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے افتخار احمد نے کہا کہ ‘چوہدری شجاعت حسین نے آج ہی دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ اپنے اپنے جلسے جلوس منسوخ کرکے آئینی عمل کو مکمل ہونے دیں۔ اور میرے خیال سے اس وقت سب سے اچھی تجویز بھی یہی ہے۔’



Source link