افغانستان بحران: دولت اسلامیہ خراسان کیا ہے؟

  • فرینک گارڈنر
  • بی بی سی سکیورٹی نامہ نگار

17 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

سنہ 2019 میں نام نہاد دولت اسلامیہ نے کابل میں ایک شادی ہال پر حملہ کیا

دولت اسلامیہ خراسان دراصل نام نہاد دولت اسلامیہ نامی تنظیم کی علاقائی شاخ ہے جو افغانستان اور پاکستان میں متحرک ہے۔ یہ افغانستان میں موجود جہادی تنظیموں میں سے سب سے زیادہ انتہا پسند اور متشدد تنظیم ہے۔

یہ تنظیم سنہ 2015 میں دولت اسلامیہ کے عراق اور شام میں عروج کے زمانے میں قائم کی گئی تھی۔

یہ تنظیم پاکستان اور افغانستان میں ’جہادی‘ بھرتی کرتی ہے اور ان میں خاص طور پر افغان طالبان کے وہ ارکان بھی شامل ہوتے ہیں جو افغان طالبان کو کافی انتہا پسند نھیں سمجھتے۔

کتنی انتہا پسندی زیادہ انتہا پسندی ہوتی ہے؟

Suspected Islamic State militants captured in Nangarhar province, Afghanistan. File photo

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دولت اسلامیہ خراسان کا ٹھکانہ افغانستان کا مشرقی صوبہ ننگرہار ہے

دولت اسلامیہ خراسان پر حالیہ برسوں میں چند گھناؤنی ترین کارروائیوں کا الزام لگایا جاتا ہے جن میں لڑکیوں کے سکولوں، ہسپتالوں اور میٹرنٹی وارڈ پر حملہ بھی شامل ہے جس میں حاملہ عورتوں اور نرسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

طالبان کے برعکس جن کی دلچسپی صرف افغانستان میں ہے دولت اسلامیہ خراسان تنظیم دولت اسلامیہ کا حصہ ہے جو دنیا بھر میں مغربی، بین الاقوامی اور انسانی فلاح کے اثاثوں کو نشانہ بناتی ہے۔

یہ کہاں واقعہ ہے؟

دولت اسلامیہ خراسان کا ٹھکانہ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں ہے جو پاکستان میں انسانی اور منشیات کی سمگلنگ کے روٹوں کے قریب ہے۔

اپنی طاقت کے عروج پر ان کے تین ہزار ارکان تھے لیکن حالیہ برسوں میں امریکہ، افغان سکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے ساتھ لڑائی میں ان کی طاقت میں کمی آئی ہے۔

کیا ان کا طالبان سے تعلق ہے؟

ایک لحاظ سے ایسا ہے۔ ایک تیسرے گروپ حقانی نیٹ ورک کے ذریعے۔

ماہرین کے مطابق دولت اسلامیہ خراسان کے حقانی نیٹ ورک سے روابط ہیں اور پھر حقانی نیٹ ورک کے طالبان سے قریبی روابط ہیں۔

کابل کی سکیورٹی کے موجودہ انچارج خلیل حقانی کے سر پر پچاس لاکھ ڈالر کا انعام ہے۔

ایشیا پیسیفک پاؤنڈیشن کے ڈاکٹر ساجن گوہل کئی برسوں سے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے نیٹ ورکوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سنہ 2019 سے سنہ 2021 کے درمیان ہونے والے کچھ بڑے حملے حقانی نیٹ ورک، دولت اسلامیہ خراسان اور پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے باہمی تعاون سے ہوئے تھے۔‘

طالبان نے جب سنہ 2015 میں کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد چرخی پل جیل سے بڑی تعداد میں قیدی رہا کیے جن میں اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ اور القاعدہ کے ارکان بھی شامل تھے۔

لیکن دولت اسلامیہ کے طالبان سے بڑے اختلافات ہیں۔ وہ ان پر قطر میں ’پرتعیش‘ ہوٹلوں میں بیٹھ کر امن معاہدے کرنے اور میدان جنگ اور جہاد ترک کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

دولت اسلامیہ کے جنگجو اب آنے والی طالبان کی حکومت کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو طالبان اور مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے درمیان مشترک ہے۔



Source link

Leave a Reply