افغانستان میں طالبان: انڈین مسلمانوں کی ٹرولنگ سے وزیراعظم مودی سے میڈیا کا سامنے کرنے کے مطالبے تک

24 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہEPA

افغانستان اور اس کے دارالحکومت کابل میں گذشتہ چند دنوں میں جو کچھ ہوا ہے اس پر ساری دنیا سے اپنے اپنے انداز میں سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثہ نظر آ رہا ہے لیکن انڈیا میں اس حوالے سے ٹرینڈز ذرا ہٹ کے ہیں۔

انڈین سوشل میڈیا میں ’کابل‘، ’افغانستان‘، ’طالبان‘، ’شریعہ‘ کے ساتھ ساتھ ’مسلم‘، ’انڈین مسلم‘، ’طالبان سمپیتھائزر‘ (طالبان کے ہمدرد)، ’ایرسٹ سوارا بھاسکر‘ اور سی اے اے جیسے ٹرینڈز نظر آ رہے ہیں۔

جہاں ایک طرف ہندو انتہا پسندی پر بات ہو رہی ہے وہی کہیں لوگ اسے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کے ایک ذریعے کے طور پر لے رہے ہیں۔

معروف صحافی عارفہ خانم شیروانی نے لکھا کہ ’دائیں بازو کے لوگ انڈین مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے ہیں، اُن کو ٹرول کر رہے کیونکہ طالبان نے کابل کو حاصل کر لیا ہے۔ انتہائی درجے کا انسانی المیہ اور مایوسیاں بھی ان کے لیے ایک ’موقع‘ ہے۔ سنگھیو شرم کرو۔‘

سنگھی اُن کو کہا جاتا ہے جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس اور اس کی حلیف جماعت کے ہندوتوا نظریات کے حامی ہیں۔

بالی وڈ کی معروف اداکارہ سوارا بھاسکر نے سوشل میڈیا پر جاری اسی نوعیت کے مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے لکھا کہ ’ہم (ایک ساتھ) ہندوتوا ٹیرر یعنی دہشت کو ٹھیک نہیں کہہ سکتے اور طالبان کی دہشت گردی پر صدمے اور غم کا اظہار نہیں کر سکتے۔۔۔ اور ہم طالبان ٹیرر پر پرسکون نہیں رہ سکتے اور ہندوتوا دہشت پر غصہ نہیں کر سکتے۔ ہمارے انسانی اور اخلاقی اقدار کی بنیاد ظالم اور مظلوم کی شناخت پر نہیں ہونی چاہیے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@ReallySwara

سوارا بھاسکر کے اس ٹویٹ کو ایک طبقے نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور انھوں نے ’سوارا بھاسکر کو گرفتار کرو‘ ہیش ٹیگ چلانا شروع کر دیا کیونکہ اُن کے خیال میں سوارا بھاسکر نے ہندوتوا کو ’دہشت‘ سے جوڑ کر اُن کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا ہے۔

کسی نے ممبئی پولیس اور مہاراشٹرا سائبر کرائم کو ٹيگ کرتے ہوئے سوارا بھاسکر کے خلاف اقدام کی اپیل کی تو کسی نے وزرات داخلہ کو ٹیگ کرتے ہوئے اقدام کرنے کی اپیل کی۔ ایسے افراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہندوتوا کو دہشت گردی سے جوڑ کر تمام ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

سوارا کے ٹویٹ کے جواب میں ایک صارف نے لکھا کہ ’ہندوتوا دہشت جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ آپ جیسے لوگوں کا پیدا کردہ پروپیگنڈا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر افغان 57 مسلم ممالک کو چھوڑ کر انڈیا کیوں آنا چاہتے ہیں؟‘

مامون شاہدہ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’سنگھی دہشت گرد افغان مسلمانوں کے بارے میں بہت فکر مند ہیں، یہ ٹھیک ہے، جبکہ اسی دوران انھوں نے انڈین مسلمانوں کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔ یہ انتہائی درجے کی منافقت ہے اور وہ اس میں بہت سرگرم ہیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

معروف صحافی اور مصنفہ صبا نقوی نے افغانستان کے بدلتے حالات کے پیش نظر انڈیا میں رونما ہونے والے واقعات پر یکے بعد دیگرے کئی ٹویٹس کیے۔ انھوں نے لکھا کہ ’بہت سارے انڈین ٹی وی چینلز میں طالبان کو دکھایا جا رہا ہے اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ آخر حکومت ہند انڈین مسلمانوں پر کریک ڈاؤن کیوں نہ کرے۔ بظاہر یہ سوال ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو کبھی تکثیریت اور ہم آہنگی کا جشن مناتا تھا۔ بس یوں ہی کہہ رہی ہوں۔‘

’اور اب انڈین مسلمانوں کو افغانستان جانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

انھوں نے دوسرے ٹویٹ میں لکھا کہ ’یہ بات اس لیے ذہن میں آئی کہ اترپردیش حکومت دیوبند میں اے ٹی ایس (انسدادِ دہشت گردی سکواڈ) کے کمانڈوز کی یونٹ قائم کر رہی ہے۔ اس کو طالبان کے اُبھرنے اور بربریت سے جوڑا جا رہا ہے۔ اسی طرح سرا جوڑا جاتا ہے اور درپردہ چال چلی جاتی ہے۔‘

گذشتہ روز خبر رساں ادارے اے این آئی نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا تھا کہ اترپردیش حکومت نے انسداد دہشت گردی سکواڈ (اے ٹی ایس) کمانڈو سینٹر کی تعمیر کے لیے سہارنپور ضلع کے دیوبند میں دو ہزار مربع میٹر زمین مختص کی ہے۔

انگریزی روزنامہ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق سینیئر پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ دیوبند اے ٹی ایس کے مرکز کے قیام کے لیے سٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے قبل اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے میڈیا مشیر شلبھ منی ترپاٹھی نے ہندی زبان میں ایک ٹویٹ کے ذریعے خبر دیتے ہوئے کہا کہ ’طالبانی بربریت کے درمیان یو پی کی خبر سنیے، یوگی جی نے فوری طور پر دیوبند میں اے ٹی ایس کمانڈو سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جنگی پیمانے پر کام بھی شروع ہو گيا ہے۔ ریاست بھر سے چنے گئے تقریبا ڈیڑھ درجن اے ٹی افسروں کی یہاں تعیناتی ہو گی۔‘

اترپردیش حکومت میں وزیر سنجے رائے نے یوگی آدتیہ ناتھ کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے لکھا: ’یہی وقت کی ضرورت ہے کہ تاریخ سے سبق لے کر ہم اس سے دو قدم آگے چلیں۔ طالبان کی بربریت کو دیکھتے ہوئے یوگی جی کی حکومت نے دیوبند میں اے ٹی ایس کمانڈو سینٹر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہاں پوری ریاست سے چنے گئے بہادر اے ٹی ایس افسر تعینات ہوں گے۔’

واضح رہے کہ دیوبند کی شہرت اسلامی ادارے ’دارالعلوم‘ کی وجہ سے ہے۔ اس مدرسے نے انڈیا کی آزادی کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا جبکہ طالبان کے افغانستان میں آنے کے بعد یہ کہا گیا کہ طالبان بھی اسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان سمپیتھائزر کے تحت انڈیا کے مسلمانوں کو افغانستان بھیجنے کی باتیں کہی جا رہی ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

صحافی ابھیجیت مجمدار نے لکھا ’ايئر انڈیا کو افغانستان کی صرف ایک پرواز چلانی چاہیے جس میں طالبان کے حامی بھرے ہوں۔ انھیں چپکے سے کابل، قندھار، ہرات اور پکتیا میں بغیر واپسی کے ٹکٹ اور انڈین پاسپورٹ کے چھوڑ دیا جائے اور انھیں اپنے رنگین خواب پورے کرنے دیے جائیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

وشال سنگھ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’حزب اختلاف کا کوئی بھی لیڈر انڈیا میں طالبان حامیوں کے خلاف نہیں بول رہا ہے۔ صرف اس لیے کہ ان کا ووٹ بینک اسی نظریے کا حامی ہے۔‘

طالبان کی پریس کانفرنس اور مودی پر تنقید

مودی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 اگست کو انڈیا کے 75 ویں یوم آزادی پر خطاب کیا

گذشتہ روز طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس کی تھی جس کے تناظر میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کانگریس کے کارکن سریوتس نے لکھا کہ ’اب تو طالبان نے بھی پریس کانفرنس کر لی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم مودی جی اقتدار کے 2642 دنوں کے بعد بھی ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کر سکے ہیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

ایک صارف نے لکھا کہ ’طالبان نے تو غیر ملکی میڈیا کے صحافیوں کے بھی سوالات کے جواب دیے، مودی جی کم از کم اپنے ہی ملک کے گودی میڈیا کے صحافیوں کا سامنا کرنے کی ہمت دکھائیں۔‘

واضح رہے کہ گودی میڈیا انڈیا میں ایسے میڈیا ہاؤسز کو کہا جاتا ہے جو حکومت کی تنقید کے بجائے اس کی حمایت میں دن رات لگی رہتی ہے۔

ٹویٹس

،تصویر کا ذریعہTwitter

اسی قسم کے کئی ٹویٹس کا جواب دیتے ہوئے معروف صحافی سدھیر چودھری نے لکھا کہ ’انڈیا میں بعض لوگ طالبان کے دوسرے دور، ان کی آزاد صحافت، خواتین اور ان کی لبرل پالیسیوں پر جشن منا رہے ہیں۔ انھیں افغانستان جا کر وہاں کچھ وقت گزارنا چاہیے۔‘



Source link

Leave a Reply