افغانستان میں طالبان کا قبضہ: کابل یونیورسٹی کی ایک طالبہ کے اپنے مستقبل سے متعلق خدشات کی کہانی

28 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

طالبان نے جب کابل پر قبضہ کیا تو انھیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا

عام دنوں میں کابل میں یونیورسٹی جانے والے طالب علم اس وقت نئے تعلیمی سال کی تیاری کر رہے ہوتے لیکن اب جب طالبان گلیوں میں پہرے لگا رہے ہیں، متعدد طالب علم اپنی ماضی کی زندگی کے شواہد مٹا رہے ہیں۔

ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو گلیوں میں گھومتے طالبان سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ ماضی میں طالبان نے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کو اغوا کیا، ان کا قتل کیا اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

اس طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اپنے جن خوابوں کے بارے میں انھیں امید تھی کہ وہ ان کو ایک دن پورا کریں گی، چند ہی دنوں میں وہ سارے خواب مستقبل کے ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

میں اپنے جذبات لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی ہوں۔ ایمانداری سے سب کچھ، ہر وہ چیز جس کا میں نے خواب دیکھا تھا، جس کو بنانے میں، میں نے محنت کی تھی۔ میرا وقار، میرا غرور اور عورت ہونے کے ناطے میرا وجود، میری زندگی، سب کچھ خطرے میں ہے۔

کسی کو کیا معلوم کہ طالبان کب ایسا کرنا شروع کر دیں کہ وہ گھر گھر جا کر تلاشی کریں۔ لڑکیوں کو لے جائیں اور ممکن ہے کہ ان کا ریپ کریں۔ اگر وہ میرے گھر آتے ہیں تو ہو سکتا ہے مجھے خودکشی کرنی پڑے۔

میں اپنے دوستوں سے اس بارے میں بات کرتی ہوں اور ہم سب یہ منصوبہ بنا رہے ہیں۔ طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے سے موت بہتر ہے۔ ہم بے حد خوفزدہ ہیں۔

دو ماہ قبل تک میرا سارا دھیان اپنی ڈگری پر تھا۔ میں سارے سمیسٹر یونیورسٹی جانے کے بارے میں سوچ رہے تھی۔ اپنا شیڈیول بنا رہی تھی، سب کچھ صحیح کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

جب طالبان ديگر صوبوں کو اپنے کنٹرول میں لے رہے تھے تو سب لوگ فکر مند تھے لیکن میں اور میری جان پہچان والے نہیں کیونکہ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کابل کو اپنے قبضے میں لیں گے۔

طالبان

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

طالبان جنگجوں اب کابل کی گلیوں میں پہرے لگا رہے ہیں

میری زندگی تب تک نارمل تھی جب تک انھوں نے مزار شریف پر قبضہ نہیں کیا تھا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ میں تو گئی، میری زندگی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد انھوں نے کابل پر بھی قبضہ کر لیا۔ شہر میں گولہ باری کی آواز سنائی دی اور تب ہمیں معلوم ہوا کہ طالبان ہمارے گھر کے بہت قریب ہیں، اس کے بعد حالات نارمل نہیں رہے۔

میرا پورا خاندان گھر کے اندر ہی رہا۔ دکانیں بند تھیں، روز مرہ کی ضروری اشیا کی قیمتیں ہر گھنٹے بڑھ رہی تھیں اور کرنسی کی قدر بدلنے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔

میں نے یونیورسٹی کے اپنے سارے کاغذات اور دستاویزات جلا دیے۔ میں نے اپنے سارے سرٹیفیکیٹ اور دستاویزات بھی جلا دیے۔ میں نے یہ کام اپنی بالکونی میں کیا۔ میرے پاس بہت ساری کتابیں تھیں، بہت اچھی اچھی کتابیں، جن کو میں پڑھ رہی تھی۔ میں نے ان سب کو چھپا دیا۔

میں نے اپنا سوشل میڈیا کا اکاؤنٹ ’ڈی ایکٹیویٹ‘ یعنی عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر ہونا اور وہاں پوسٹ کرنا خطرے والا کام ہے۔ بظاہر طالبان لوگوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر نظر رکھتے ہیں اور ان کے ذریعے انھیں پکڑتے ہیں۔

سب سے بڑا مسئلہ فیس بک تھا کیونکہ میں وہاں کافی متحرک تھی۔ میری ایک پرانی پوسٹ ہے جس میں، میں نے لکھا تھا کہ طالبان کچھ نہیں کر سکے، میں ان کا سامنا کروں گی وہ میرا تعلیم حاصل کرنے کا حق مجھ سے نہیں چھین سکتے ہیں، وہ مجھے گھر میں قید نہیں کرسکتے ہیں۔ میں نے ان کو شدت پسند کہا تھا۔ یقیناً یہ ان کو ناراض کرنے والی پوسٹ تھی۔

بینر
لائن

ظاہر ہے انھوں نے محض چند دن کے اندر ملک پر اپنا قبضہ کیا۔ مجھے اس پیشرفت نے بہت پریشان کیا۔ میں خوفزدہ ہوں اور صدمے میں ہوں۔

طالبان اعلان کر چکے ہیں کہ خواتین کو سادہ لباس اور حجاب پہننا ہو گا۔ خواتین ان کے ڈر سے حجاب اور برقعے پہن رہی ہیں۔

میں نے سنا ہے کہ بعض یونیورسٹیوں میں کلاسز کے اندر لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ بعض خاندان اپنی لڑکیوں کو یونیورسٹی نہیں بھیج رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سب کو معلوم ہے کہ طالبان ابھی اپنا اصل چہرہ نہیں دکھا رہے لیکن بعد میں ضرور دکھائیں گے اور وہ چاہتے ہیں کہ جب وہ ایسا کریں تو انھیں کوئی پریشانی نہ ہو۔

میں نے 17 اگست یعنی منگل کو طالبان کی پہلی پریس کانفرنس دیکھی تھی، جس میں انھوں نے خواتین کے حقوق سے متعلق وعدہ کیا تھا۔ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔

میں منگل کے روز اپنے والد کے ساتھ ادویات خریدنے گئی تھی۔ اس دن سب کچھ بند تھا، مجھے پورا حجاب پہننا پڑا۔ حد ہے کہ خواتین برقعہ بھی پہن رہی ہیں اور ان میں 13 اور 14 برس کی لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ پہلے جیسا کچھ بھی نہیں رہا۔ آپ کو لگتا ہے کہ شہر ختم ہو گیا۔ شہر مر چکا ہے۔

طالبان سڑکوں پر گھوم رہے تھے۔ آپ نے حجاب پہنا ہوتا ہے تب بھی وہ آپ کو دیکھتے ہیں، ایسے جیسے آپ ایک نارمل انسان نہیں ہو۔ جیسے آپ کی زندگی ان کی ملکیت ہے، جیسے آپ کوڑا ہو جسے پھینک دینا چاہیے۔

جب میں تعلیم حاصل کر رہی تھی تب میں کتنے خواب دیکھ رہی تھی۔ اپنی زندگی کے بارے میں اور اپنے احداف کا بارے میں۔

کابل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

طالبان کے آنے کے بعد خواتین کی تصویروں والے پوسٹرز کو ہٹا دیا گیا

چونکہ میرا تعلق ہزارہ برادری سے ہے تو اب مجھے لگتا ہے مجھے ملک چھوڑنا ہو گا۔ انھوں نے ماضی میں ہزارہ لڑکیوں کے سکولوں پر حملے کیے جس میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں تو وہ یقیناً ہمیں بھی مار دیں گے۔ شاید وہ ہمارا ریپ کریں گے اور ہمیں مار دیں گے۔ ایک لڑکی اور ایک اقلیت ہونے کے ناطے میرے لیے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں۔

میرا پورا خاندان خوفزدہ ہے۔ جس دن سے طالبان نے کابل پر قبضہ کیا اس دن سے ہم ملک چھوڑ کر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چاہے وہ قانونی طور پر ہو یا غیر قانونی، کسی بھی طرح ہم یہاں سے جانا چاہتے ہیں۔ ایئرپورٹ پر بہت رش ہے اور لوگوں کے لیے محفوظ مقامات نہیں۔ دوسرے ممالک ہمیں لینے سے انکار کر رہے ہیں، سب منع کررہے ہیں۔ سب ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے کچھ نہیں ہو رہا۔

میں بیرونی حکومتوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ وہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کریں۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو ظاہر ہے کہ ہم مر جائیں گے۔ یہ شاید موت سے بھی بدتر ہو، کسی کو کیا معلوم۔

اس سے تباہ کن بات کیا ہو سکتی ہے کہ میں جس شہر کو اپنے دل و جان سے محبت کرتی ہوں اس پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔ میں یہاں جذباتی نہیں ہونا چاہتی لیکن سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ دنیا بالکل خاموش ہے۔ ہر کوئی بس خاموش ہے۔

جن لوگوں کو پرواہ نہیں وہ ایسا احساس دلا رہے ہیں جیسے افغان انسان نہیں ہیں۔ یہ سوچ کر میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک کہاوت ہے کہ ’انسانیت سب کے لیے ہے‘ لیکن مجھے لگتا ہے اسے بدل کر یہ کر دینا چاہیے کہ ’انسانیت سب کے لیے، صرف افغانوں کو چھوڑ کر۔‘ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم اس نہج پر پہنچ جائیں گے۔

یہ بے حد افسوس کی بات ہے کہ صرف چند دنوں میں ہر وہ چیز جس کا میں نے خواب دیکھا تھا، جس کو پورا کرنے کے بارے میں سوچا تھ، اور ہر وہ چيز جو مجھے لگتا تھا میری ہے، سب ختم ہو گیا۔

(بی بی سی نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے طالبہ کا نام ظاہر نہیں کیا)۔



Source link

Leave a Reply