افغانستان میں طالبان کی حکومت: چین افغانستان کے مستقبل میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

  • جان سمپسن
  • مدیر عالمی امور، بی بی سی

21 منٹ قبل

تاریخی طور پر بیرونی حملہ آوروں کے لیے درہ خیبر (خیبر پاس) دنیا کی مشہور ترین گزرگاہوں میں سے ایک رہا ہے۔ ناہموار، پُرخطر اور فریب سے بھرپور یہ راستہ افغانستان کی سرحد سے پاکستان کے شہر پشاور کے درمیان تک پھیلا ہوا ہے۔

تین ہزار سال تک مختلف فوجوں نے اس کے پتھریلی راستوں میں جدوجہد کی اور اس کی وادیوں میں ڈیرے ڈالے۔ آپ اب بھی یہاں برطانوی اور برٹش ہندوستانی افواج کی رجمنٹوں کی یہاں موجودگی کے نشان دیکھ سکتے ہیں، جو سڑک کے کناروں میں احتیاط سے محفوظ کیے گئے ہیں۔

اس راستے کے اطراف موجود چٹانوں پر رائفلوں سے مسلح پشتون قبائلی، حیرت انگیز درستگی کے ساتھ یہاں سے گزرنے والے سپاہیوں کو نشانہ بناتے تھے۔

اب یہاں افغانستان کی زرعی پیداوار سے لدے ٹرک مشکل راستوں سے گزرتے نظر آتے ہیں جن پر بعض اوقات مرد حضرات اور نوجوان لڑکے سواری کی غرض سے لٹک رہے ہوتے ہیں۔

سڑک کے کنارے موجود راستوں پر اپنی کمروں پر سمگل شدہ سامان لادے بوڑھے بھی آپ کو نظر آتے ہیں، جن کی کمریں بوجھ کی وجہ سے بہت زیادہ جھکی ہوتی ہیں۔

خوف اور عجلت کا ماحول

خیبر پاس افغانستان کی پاکستان کے ساتھ مصروف ترین سرحدی گزرگاہ طورخم پر ختم ہوتا ہے۔

کئی سال پہلے پاکستانی حکام نے اس کا ظاہری نقشہ یکسر بدل دیا تھا۔ اب یہاں انتظار کرتا ہجوم ماضی کی نسبت زیادہ منظم دکھائی دیتا ہے لیکن یہاں کے ماحول میں خوف اور عجلت کا عنصر نمایاں ہے کیونکہ لوگ افغانستان کے نئے حکمرانوں یعنی طالبان سے فرار چاہتے ہیں۔

آپ پاکستان کی حدود میں کھڑے ہو کر دیکھ سکتے ہیں کہ سرحد کے اُس پار افغان علاقے میں یہ لوگ سرحد پر لگی باڑ کے پاس دن کی تلملاتی دھوپ میں جمع ہیں، وہ اپنے سفری دستاویزات لہراتے ہوئے حکام سے سرحد عبور کر کے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرنے کی التجا کرتے ہیں۔

صرف طبی بنیادوں پر افغانستان چھوڑنے والوں کو یہاں سے داخل ہونے کی اجازت ہے اور وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ یہ سرحد عبور کر سکتے ہیں۔

طالبان، طورخم سرحد
،تصویر کا کیپشن

بی بی سی کی ٹیم طورخم سرحد پر

وہیل چیئرز اور سوٹ کیسوں سے بھری لمبی قطار مختلف چوکیوں سے آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہے۔

وہ سڑک جہاں سے سرحد کی باگ دوڑ سنبھالی جاتی ہے، وہاں چند پاکستانی فوجی، عارضی وردی پہنے طالبان محافظوں کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔

طالبان کو مجھ سے بات کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ میں نے ان میں سے ایک، جس کی گھنی داڑھی تھی اور اس نے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا، سے پوچھا کہ سبز اور سرخ رنگوں پر مشتمل افغانستان کا قومی پرچم سرحد پر کیوں نہیں لہرا رہا اور یہ کہ اب وہاں طالبان کا سفید جھنڈا کیوں لہرا رہا ہے۔

تو سرحد پر موجود محافظ نے فخریہ انداز میں مجھے جواب دیا: ’ہمارا ملک اب اسلامی خلافت ہے اور پورے ملک کے لیے یہ ہی صحیح پرچم ہے۔‘

کبھی کبھار یہاں کشیدگی کے لمحات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں تاہم زیادہ تر تو پاکستانی اور طالبان سرحدی محافظ بغیر کسی دشمنی کے یہاں کام کرتے ہیں، اگرچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔

بہت سے افغان شہری افغانستان میں طالبان کی کامیابی کا الزام پاکستان پر لگاتے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اور خاص کر آئی ایس آئی نے ان عسکریت پسندوں کی بنیاد رکھی اور ان کو فروغ دیا۔

درحقیقت عمران خان کے سنہ 2018 میں پاکستان کے وزیر اعظم بننے کے بعد طالبان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کچھ اتنے قریبی نہیں رہے اور طالبان پر ان کا اثر ورسوخ نمایاں طور پر کم بھی ہو رہا ہے۔

طالبان، طورخم سرحد

دنیا کی زیادہ تر حکومتوں کے لیے اس وقت طالبان کے ساتھ تعلقات واضح طور پر شرم کا باعث ہیں۔ اس عسکریت پسند گروپ کے سعودی عرب اور کچھ خلیجی ریاستوں سے روابط ہیں تو صحیح، لیکن اتنے قریبی نہیں۔

وہ ملک جس کا طالبان کے ساتھ سب سے زیادہ قریبی تعلق ہے وہ چین ہے اور چین اس بارے میں ذرا بھی شرمندگی ظاہر نہیں کر رہا۔

بہت سے عام افغان شہری اپنے ملک سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں، ملک کی معیشت تباہی کا شکار نظر آتی ہے، جیسا سنہ 1996 سے 2001 میں طالبان کے پہلے دورِ اقتدار میں ہوا تھا۔

لہذا افغانستان کو آگے بڑھانے کے لیے چین کی اقتصادی مدد کی ضرورت ہو گی اور اس طرح بیجنگ کو طالبان کی پالیسی پر کافی حد تک کنٹرول ملے گا۔

ہم یہ بھی یقین کر سکتے ہیں کہ طالبان چین کو اس کی مسلمان اویغور آبادی کے ساتھ سلوک جیسے مسائل پر چیلنج نہیں کرے گا۔

طالبان کا اقتدار پر قبضہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور دیگر ایسے ممالک کے لیے تباہ کن رہا ہے جنھوں نے گذشتہ 20 برسوں میں افغانستان کی تعمیر نو میں مدد کی۔

اس نے انڈیا کی افغانستان سے متعلق پالیسی کو بھی روک دیا ہے۔ انڈیا نے کثیر رقم اور مہارت افغانستان میں لگا رکھی ہے اور حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں پر انڈیا کا اچھا اثر و رسوخ تھا، لیکن اب یہ سب ختم ہو چکا ہے۔

طالبان کو اپنے گذشتہ دور حکومت میں بین الاقوامی سطح پر اچھوت سمجھا جاتا تھا۔ سنہ 2001 تک ملکی معیشت کا حال اتنا برا تھا کہ ایندھن خریدنے کے بھی پیسے نہیں تھے اور بچی کھچی گاڑیوں کو بھی سڑکوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

زیادہ تر لوگ جنریٹر لینے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے اور لوڈشیڈنگ معمول کی بات تھی۔ رات کے وقت گلیوں میں اندھیرا اور سناٹا ہوتا تھا اور دن کے وقت لوگ طالبان کے خوف کے مارے اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔

کیا اب بھی ایسا ہی ہو گا؟

اب فرق چین ہے۔ اگر بیجنگ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے افغانستان سے کافی معاشی اور سیاسی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے تو وہ طالبان کو ماضی جیسے حالات میں جانے سے روک سکتا ہے۔ اگر نہیں تو پھر طالبان تنہا رہ جائیں گے۔



Source link

Leave a Reply