الیکشن کمیشن کا فواد چوہدری، اعظم سواتی سے ثبوت مانگنے کا فیصلہ

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

2 گھنٹے قبل

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف کے دو وفاقی وزرا، وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور ان سے اس ضمن میں ثبوت مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ منگل کے روز چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ہونے والے الیکشن کمیشن کے اجلاس میں کیا گیا۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وزرا ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے تو پھر الیکشن کمیشن کے پاس ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزرا کی طرف سے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے الزامات کو نہ صرف زیر بحث لایا گیا بلکہ ان الزامات کی پرزور الفاظ میں تردید کی گئی۔

الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلاف کی سب سے بڑی وجہ آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال کا معاملہ ہے۔

وفاقی حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے حق میں ہے اور اس کے لیے حکومت نے بجٹ میں رقم بھی مختص کر رکھی ہے۔

جبکہ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں اس ووٹنگ مشین کے استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ای وی ایم کے استعمال سے بھی الیکشن شفاف ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس مشین کے سافٹ وئیر میں کسی بھی وقت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں 37 اعتراضات پر مبنی نوٹ سینیٹ میں پارلیمانی امور کی قائمہ کمیٹی کو بھجوایا تھا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر پیسے لینے اور غیر شفاف انتخابات کروانے کے الزامات بھی لگائے تھے۔ وفاقی وزیر نے یہاں تک کہا تھا کہ ایسے ادارے کو آگ لگا دینی چاہیے۔

ای سی پی ذرائع کے مطابق مذکورہ وفاقی وزیر نے ایوان صدر میں ہونے والی ایک تقریب میں بھی الیکشن کمیشن کے حکام کی موجودگی میں ای سی پی پر اسی طرح کے سنگین الزامات لگائے تھے۔

منگل کو ہونے والے اجلاس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جن افراد نے اس ادارے پر الزامات عائد کیے ہیں وہ ثبوت بھی پیش کریں، تاہم اس پریس ریلیز میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وفاقی وزرا کب تک ان الزامات کے ثبوت پیش کریں۔

الیکشن کمیشن نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا سے ایوان صدر میں ہونے والی تقریب کے علاوہ وفاقی وزیر فواد چوہدری اور اعظم سواتی کی پریس کانفرنس اور پارلیمانی امور سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ہونے والی تمام کارروائی کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے گذشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر کو اپوزیشن کا ‘ترجمان’ اور ‘آلہ کار’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘چیف الیکشن کمشنر اگر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو میں انھیں دعوت دیتا ہوں وہ عہدہ چھوڑیں اور الیکشن لڑیں۔’

سینیٹر فیصل واوڈا کی مبینہ طور پر دوہری شہریت چھپانے کا معاملہ، ای سی پی کا دو رکنی بینچ کی تشکیل کا فیصلہ

فیصل واوڈا

دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر نے دو ممبران پر مشتمل ایک بینچ تشکیل دیا ہے جو حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن پارلیمان، سینیٹر فیصل واوڈا کے طرف سے سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنی دوہری شہریت چھپانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرے گا۔

پندرہ ستمبر کو اس درخواست کی سماعت نثار احمد درانی اور شاہ محمود جتوئی پر مشتمل دو رکنی بینچ فیصل واوڈا کے مخالف امیدوار عبدالقادر مندوخیل کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کرے گا۔

فیصل واوڈا کی دوہری شہریت کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی درخواست زیر سماعت تھی تاہم اس درخواست پر فیصلہ آنے سے پہلے فیصل واوڈا رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے مستعفی ہوگئے تھے۔

اگرچہ فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے کی وجہ سے یہ درخواست غیر موثر ہوگئی تھی لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر فیصل واوڈا نے سنہ 2018 کے انتخابات میں اپنی دوہری شہریت کو چھپایا ہے تو الیکشن کمیشن ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز ہے۔

فیصل ووڈا اس وقت سینیٹ کے رکن ہیں۔

‘چیف الیکشن کمیشن کے پاس سپریم کورٹ کے جج والے اختیارات ہوتے ہیں’

الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزرا الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف لگائے گئے الزامات کے ثبوت فراہم نہ کرسکے تو آئین کے آرٹیکل 63 ون جی کے تحت توہین عدالت کے قانون 204 کے تحت ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں قصور وار قرار دیا جا سکتا ہے۔

کنور دلشاد کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے پاس بھی وہی اختیارات ہوتے ہیں جو کہ سپریم کورٹ کے جج کے پاس ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر ان وزرا کو توہین عدالت کے جرم میں مجرم گردانا گیا تو پھر ان کی اگلے پانچ سال کے لیے نااہلی ہو جائے گی اور وہ اس عرصے تک انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

یاد رہے کہ جنوری 2020 میں وزیر اعظم عمران خان نے سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔

گذشتہ برس الیکشن کمیشن کی طرف سے صوبہ پنجاب کے وسطی علاقے ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کےبعد حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان اختلافات شروع ہوگئے تھے۔

کنٹونمنٹ بورڈ میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے دوران بھی فوج تعینات کرنے کی درخواست کی گئی تھی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ ماضی میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد اُس وقت کے الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا خان نے عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

متعدد بار نوٹس جاری ہونے کے باوجود جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوئے تو چیف الیکشن کمشنر نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو گرفتار کرکے ان کے سامنے پیش کیا جائے۔

البتہ چیف الیکشن کمشنر کے ان احکامات کے بعد عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سے غیر مشروط معافی مانگی تھی جسے جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے قبول کرلیا تھا۔



Source link

الیکشن کمیشن کا فواد چوہدری، اعظم سواتی سے ثبوت مانگنے کا فیصلہ

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

2 گھنٹے قبل

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف کے دو وفاقی وزرا، وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور ان سے اس ضمن میں ثبوت مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ منگل کے روز چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ہونے والے الیکشن کمیشن کے اجلاس میں کیا گیا۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وزرا ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے تو پھر الیکشن کمیشن کے پاس ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزرا کی طرف سے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر لگائے گئے الزامات کو نہ صرف زیر بحث لایا گیا بلکہ ان الزامات کی پرزور الفاظ میں تردید کی گئی۔

الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلاف کی سب سے بڑی وجہ آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال کا معاملہ ہے۔

وفاقی حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے حق میں ہے اور اس کے لیے حکومت نے بجٹ میں رقم بھی مختص کر رکھی ہے۔

جبکہ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں اس ووٹنگ مشین کے استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ای وی ایم کے استعمال سے بھی الیکشن شفاف ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس مشین کے سافٹ وئیر میں کسی بھی وقت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں 37 اعتراضات پر مبنی نوٹ سینیٹ میں پارلیمانی امور کی قائمہ کمیٹی کو بھجوایا تھا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر پیسے لینے اور غیر شفاف انتخابات کروانے کے الزامات بھی لگائے تھے۔ وفاقی وزیر نے یہاں تک کہا تھا کہ ایسے ادارے کو آگ لگا دینی چاہیے۔

ای سی پی ذرائع کے مطابق مذکورہ وفاقی وزیر نے ایوان صدر میں ہونے والی ایک تقریب میں بھی الیکشن کمیشن کے حکام کی موجودگی میں ای سی پی پر اسی طرح کے سنگین الزامات لگائے تھے۔

منگل کو ہونے والے اجلاس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جن افراد نے اس ادارے پر الزامات عائد کیے ہیں وہ ثبوت بھی پیش کریں، تاہم اس پریس ریلیز میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وفاقی وزرا کب تک ان الزامات کے ثبوت پیش کریں۔

الیکشن کمیشن نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا سے ایوان صدر میں ہونے والی تقریب کے علاوہ وفاقی وزیر فواد چوہدری اور اعظم سواتی کی پریس کانفرنس اور پارلیمانی امور سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ہونے والی تمام کارروائی کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے گذشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر کو اپوزیشن کا ‘ترجمان’ اور ‘آلہ کار’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘چیف الیکشن کمشنر اگر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو میں انھیں دعوت دیتا ہوں وہ عہدہ چھوڑیں اور الیکشن لڑیں۔’

سینیٹر فیصل واوڈا کی مبینہ طور پر دوہری شہریت چھپانے کا معاملہ، ای سی پی کا دو رکنی بینچ کی تشکیل کا فیصلہ

فیصل واوڈا

دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر نے دو ممبران پر مشتمل ایک بینچ تشکیل دیا ہے جو حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن پارلیمان، سینیٹر فیصل واوڈا کے طرف سے سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنی دوہری شہریت چھپانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرے گا۔

پندرہ ستمبر کو اس درخواست کی سماعت نثار احمد درانی اور شاہ محمود جتوئی پر مشتمل دو رکنی بینچ فیصل واوڈا کے مخالف امیدوار عبدالقادر مندوخیل کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کرے گا۔

فیصل واوڈا کی دوہری شہریت کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی درخواست زیر سماعت تھی تاہم اس درخواست پر فیصلہ آنے سے پہلے فیصل واوڈا رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے مستعفی ہوگئے تھے۔

اگرچہ فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے کی وجہ سے یہ درخواست غیر موثر ہوگئی تھی لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر فیصل واوڈا نے سنہ 2018 کے انتخابات میں اپنی دوہری شہریت کو چھپایا ہے تو الیکشن کمیشن ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز ہے۔

فیصل ووڈا اس وقت سینیٹ کے رکن ہیں۔

‘چیف الیکشن کمیشن کے پاس سپریم کورٹ کے جج والے اختیارات ہوتے ہیں’

الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی وزرا الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف لگائے گئے الزامات کے ثبوت فراہم نہ کرسکے تو آئین کے آرٹیکل 63 ون جی کے تحت توہین عدالت کے قانون 204 کے تحت ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں قصور وار قرار دیا جا سکتا ہے۔

کنور دلشاد کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے پاس بھی وہی اختیارات ہوتے ہیں جو کہ سپریم کورٹ کے جج کے پاس ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر ان وزرا کو توہین عدالت کے جرم میں مجرم گردانا گیا تو پھر ان کی اگلے پانچ سال کے لیے نااہلی ہو جائے گی اور وہ اس عرصے تک انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

یاد رہے کہ جنوری 2020 میں وزیر اعظم عمران خان نے سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔

گذشتہ برس الیکشن کمیشن کی طرف سے صوبہ پنجاب کے وسطی علاقے ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کےبعد حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان اختلافات شروع ہوگئے تھے۔

کنٹونمنٹ بورڈ میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے دوران بھی فوج تعینات کرنے کی درخواست کی گئی تھی جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ ماضی میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد اُس وقت کے الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا خان نے عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

متعدد بار نوٹس جاری ہونے کے باوجود جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوئے تو چیف الیکشن کمشنر نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو گرفتار کرکے ان کے سامنے پیش کیا جائے۔

البتہ چیف الیکشن کمشنر کے ان احکامات کے بعد عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سے غیر مشروط معافی مانگی تھی جسے جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے قبول کرلیا تھا۔



Source link

Leave a Reply