الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کو اظہار وجوہ کا نوٹس

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

3 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہAFP

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیر اعظم عمران خان کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی حثیت سے اپنی جماعت میں الیکشن نہ کروانے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان سے اس ضمن میں 14 روز میں جواب طلب کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں اس شو کاز نوٹس کا جواب جمع نہ کروایا گیا تو پھر الیکشن کمیشن قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا مجاذ ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے اظہار وجوہ کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف گذشتہ ماہ انٹرا پارٹی الیکشن کروا کر متعلقہ دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کروانے کی پابند تھی لیکن مقررہ وقت گزرنے کے بعد بھی ایسا نہیں کیا گیا۔

اس شو کاز نوٹس میں الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ سنہ2017 کے سیکشن209 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سیاسی جماعت پانچ سال کی مدت سے پہلے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے اور ان انتخابات کے سات روز کے بعد ایک سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروانے کی پابند ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق ہوئے ہیں۔

اس قانون کے تحت کسی بھی جماعت کی طرف سے اس سرٹیفکیٹ پر دستخط اس شخص کے ہوں گے جسے پارٹی کے سربراہ نے اس کا اختیار دیا ہوگا۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹس جاری ہونا پاکستان تحریک انصاف کو ایک وارننگ دینے کے مترداف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی کی جومثالیں ان کے سامنے ہیں ان کے مطابق سیاسی جماعتیں نام نہاد انٹرا پارٹی الیکشن کرواتی ہیں اور پھر اس کے بعد ایک سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروادیا جاتا ہے جس میں پارٹی عہدیداروں کے چناؤ کا ذکر ہوتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کوئی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کے بعد اگر سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرواتی تو الیکشن کمیشن اس جماعت کا انتخابی نشان معطل کرنے یا واپس لینے کا مجاذ ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان

انھوں نے کہا کہ اس سال ستمبر میں پاکستان بھر کے کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں اور ایسے حالات میں وزیر اعظم عمران خان کو اپنی جماعت میں الیکشن کروانا پڑیں گے۔



Source link

Leave a Reply