ال سلواڈور میں بٹ کوائن کو قانونی حیثیت، عوام میں جوش و تشویش

  • جو ٹائڈی
  • سائبر رپورٹر

3 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

ال سلواڈرو میں بھی جہاں بھی ممکن ہے بٹ کوائن میں خرید و فروخت ہوگی

ال سلواڈور دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کے طور پر قبول کرلیا ہے۔ حکومت کے اس قدم سے عوام میں جوش ہے لیکن ساتھ ہی کچھ لوگوں اور اقتصادی ماہرین نے اس کے فوائد اور کرپٹو کرنسی کے خطرات کے بارے میں بحث شروع کردی ہے۔

آج سے ال سلواڈور میں، جہاں بھی ممکن ہو، تجارتی مراکز اور دوکانیں قانونی طور پر بٹ کوائن میں لین دین کریں گی۔ ال سلواڈور کے لاکھوں شہری حکومت کی اس نئی ڈیجیٹل والٹ ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس میں انھیں 30 ڈالر کی قمیت والے بٹ کوائن مفت دیے گئے ہیں۔

پوری دنیا میں بٹ کوائن کے پرستار ال سلواڈور کے اس قدم کی حمایت اور بٹ کوائن کی قدر بڑھانے کے لیے 30 ڈالر کی قیمت کے بٹ کوائن خرید رہے ہیں۔

بٹ کوائن کے بارے میں جوش

ال سلواڈور کے رہائشی 26 سالہ ٹیکسی ڈرائیور ڈینیل ہرکیولس کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے سے وہ بہت خوش ہیں لیکن ساتھ ہی انھیں اس بات کی تشویش ہے کہ بٹ کوائن کی قدر مستحکم رہے گی یا نہیں۔

ڈینیل ہرکیوس
،تصویر کا کیپشن

ٹیکسی ڈرائیور ڈینیل ہرکیوس کئی ہفتوں سے بٹ کوائن میں ادائیگی قبول کررہے ہیں لیکن انہیں تشویش ہے کہ اس سے ان کی آمدنی مستحکم ہوگی یا نہیں۔

ڈینیل ہرکیولس نے بتایا، ’جب مجھے معلوم ہوا کہ حکومت بٹ کوائن کو سرکاری کرنسی کے طور پر متعارف کرانے جارہی ہے تو میں نے گزشتہ دو ماہ سے بٹ کوائن میں ادائیگی قبول کرنی شروع کردی تھی۔تھوڑی دیر پہلے ہی ایک گاہک نے ائیرپورٹ جانے کے لیے 40 ڈالر بٹ کوائن میں ادا کیے ہیں لیکن ایسا شاز و نادر ہی ہوتا ہے۔ صرف 10 فی صد گاہک ہی بٹ کوائن میں ادائیگی کرنا پسند کرتے ہیں۔‘

ڈینیل کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کو مقامی کرنسی یعنی امریکی ڈالر میں تبدیل کرانے میں 10 فی صد فیس دینی پڑتی ہے اس لیے وہ بٹ کوائن کے اکاؤنٹ کو سیونگ اکاؤنٹ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

ان کی خواہش ہے ان کے بٹ کوائن اکاؤنٹ میں 1000 ڈالر کے برابر رقم جمع ہوجائے لیکن انھیں ڈر ہے کہ کہیں یہ کرنسی کریش نہ ہو جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ کہیں بٹ کوائن والٹ میں جمع کی ہوئی میری رقم ضائع نہ ہوجائے۔ سارا سارا دن محنت کر کے کمائی جانے والی رقم اگر ضائع ہوگئی تو مجھے بہت افسوس ہوگا۔‘

بٹ کوائن میں اتار چڑھاؤ

گزشتہ ایک برس میں بٹ کوائن کی قدر و قمیت میں ڈرامائی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

ستمبر کے مہینے میں ایک بٹ کوائن کی قمیت 10،000 امریکی ڈالر تھی جو 2021 میں اپریل کے مہینے میں 63،000 ڈالر تک پہنچ گئی تھی لیکن اس کےبعد اس برس جولائی میں اس قیمت میں 30،000 ڈالر سے زیادہ کی کمی آئی اور 63 ہزار سے یہ 30،000 ڈالر ہوگئی۔

حال ہی میں بٹ کوائن کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ 30،000 ڈالر سے بڑھ کر 51،000 ڈالر ہوگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے پیچھے ال سلواڈور میں ہونے والی پیشرفت ہے۔

پیر کو ریڈاٹ نامی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک وائرل پوسٹ میں لکھا گیا ، ’تو ہم سب منگل کو 30 ڈالر کی قیمت والے بٹ کوائن خریدیں گے۔‘

کرپٹو کرنسی کی غیر یقینی صورتحال

امریکہ کی سینٹرل امیریکن یونیورسٹی( یو سی اے) کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بٹ کوائن کے استعمال کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والے 1،281 افراد میں سے صرف 4.8 فیصد کو یہ سمجھ آتا ہے کہ اسے آخر استمعال کیسے کیا جاتا ہے۔

جن افراد نے معلومات حاصل کی تھیں ان میں 68 فیصد کا کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت نہیں دی جانی چاہیے۔

70 سالہ جینیٹ سینڈوول اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر لوگوں کے گھروں میں ضروری اشیاء پہنچاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بٹ کوائن میں لین دین نہیں کریں گی۔

جینیٹ سینڈوول

،تصویر کا ذریعہGoogle

،تصویر کا کیپشن

سالہ جینیٹ سینڈوول کا کہنا ہے کہ وہ بٹ کوائن میں لین دین نہیں کریں گی۔

جینیٹ کا کہنا ہے کہ ’میں ہمیشہ سے تبدیلی کی حامی رہی ہوں، لیکن اس بار میں متفق نہیں ہوں۔ ہمارے گاہکوں کا کہنا ہے کہ وہ بٹ کوائن میں ادائیگی نہیں کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میرے ملک میں متعدد ایسے افراد ہیں جو پڑھے لکھے نہیں ہیں اور جن کے پاس سمارٹ فون نہیں ہیں۔ وہ بٹ کوائن کا استعمال نہیں کریں گے۔`

’فی الوقت میں ایپ ڈاؤن لوڈ نہیں کروں گی، لیکن ایک دن مجھے کرنی ہوگی۔ مجھے حکومت کی جانب سے دیے جانے والے 30 ڈالر میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میں ہمیشہ محنت کر کے پیسے کمانا چاہتی ہوں۔‘

بٹ کوائن کے خلاف مظاہرے

پورے ال سلواڈور 200 نئی کیش مشینیں لگائی گئیں جو ڈالر کو بٹ کوائن میں تبدیل کریں گی۔

حال ہی میں دارالحکومت سین سلواڈور میں جو مظاہرے ہوئے ہیں ان میں عوام میں حکومت کے اس فیصلے کے بارے میں عدم یقینی پائی گئی ہے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے متنازعہ دور اقتدار سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے۔

حکومت کا کنٹرول

پوری دنیا میں متعدد حکومتیں، مثال کے طور پر چین، کرپٹو کرنسی کے استعمال کے خلاف ہیں اور عوام میں اس کی مقبولیت کو کم کرنے کے لیے اس پر دن بہ دن نئی پابندیاں لگارہی ہیں۔

حالانکہ امریکہ میں رہنے والے ال سلواڈور کے سابق رہائشی اور بٹ کوائن کے زبردست حامی گرسن مارٹینیز کا کہنا ہے کہ ال سلواڈور بٹ کوائن کو قانونی حیثیت دینے والا آخری ملک نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا، ‘میرے لیے آپ کو یہ بتانا مشکل ہے کہ ال سلواڈور کی حکومت کے اس فیصلے سے میرے اندر کتنی امید پیدا ہوئی ہے اور مجھے کتنی خوشی ہے۔ ال سلواڈر کا شہری ہونے کا یہ ایک بہترین وقت ہے۔‘



Source link

Leave a Reply