’انسپیرشن فور‘: عطیات جمع کرنے کے لیے عام شہری خلا کے سفر کے لیے تیار

  • جوناتھن ایموس
  • نامہ نگار سائنس

50 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہInspiration4

،تصویر کا کیپشن

اس مشن پر جانے والے خلا نوردوں نے چھ ماہ تک تیاری کی ہے

چار ’ایمیچر‘ خلا نورد خلا میں جانے والے ایک انتہائی قابل ذکر مشن کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں جسے خلائی سیاحت کے لیے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں ارب پتی کاروباری شخصیات رچرڈ برانسن اور جیف بیزوس کی جانب سے خلا میں کی گئی پروازوں کے بعد یہ ایسی تیسری پرواز ہے جس میں پیشہ ور افراد کے بجائے شوقین افراد کے لیے پیسے دے کر زمین کے مدار میں جانے کی خواہش پوری ہو سکے گی۔

اس پرواز کے لیے فنڈنگ امریکی ارب پتی جیرڈ آئزیک مین نے کی ہے جو خود بھی اس سفر کا حصہ ہوں گے اور ان کے علاوہ عملے کے تین افراد شامل ہوں گے۔

جیرڈ آئزیک مین کے ساتھ اس سفر میں ایک ڈیٹا کے شعبے کے ماہر، ایک سائنس کے استاد اور ایک صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والا فرد شامل ہیں۔

ان کو امید ہے کہ اس سفر سے وہ دوسروں کو متاثر کر سکیں گے اور بچوں میں ہونے والے کینسر کے علاج کے لیے رقم جمع کر سکیں گے۔ اس مشن کو ’انسپیرشن فور‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس عملے کو سفر پر لے جانے والے راکٹ ’ڈریگن‘ کو امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس نے بنایا ہے۔

ان کا سفر پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح پانچ بجے فلوریڈا میں کینیڈی سپیس سینٹر سے شروع ہو گا۔

یہ راکٹ زمین سے 575 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گا جو کہ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن (آئی ایس ایس) سے 150 کلومیٹر زیادہ آگے ہو گا۔ اس کے بعد یہ چاروں افراد خلا میں تجربات کریں گے اور زمین کا نظارہ کر سکیں گے۔

Sembroski, Arceneaux, Isaacman and Proctor have trained for six months

،تصویر کا ذریعہInspiration4

عمومی طور پر ڈریگن میں ایک ایسا نظام نصب ہوتا ہے جس کی مدد سے ڈریگن آئی ایس ایس کے ساتھ جا ملتا ہے لیکن کیونکہ اس سفر میں یہ ضرورت نہیں ہے تو اس کے بجائے وہاں پر شیشے کا حصہ لگا ہوا ہو گا جس کی مدد سے زمین اور خلا کا نظارہ کرنا بہت آسان ہو گا۔

واپسی کے سفر میں یہ راکٹ بحر اوقیانوس میں کسی مقام پر اترے گا۔

یاد رہے کہ رچرڈ برانسن نے 11 جولائی کو ورجن گیلیکٹک پر سفر کیا تھا جبکہ جیف بیزوس نو دن کے بعد نیو شیپرڈ پر خلا میں گئے تھے۔

انسپیریشن فور میں جانے والے عملے کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ انسانیت بہت بڑی تبدیلی کے دروازے پر ہے۔

اس مشن کے کمانڈر جیرڈ آئزیک مین فقط 38 برس کے ہیں اور وہ شفٹ فور نامی کمپنی کے مالک ہیں۔ وہ خود ہوا بازی کے بے حد شوقین ہیں اور وہ ہزاروں گھنٹوں کی پرواز بھر چکے ہیں۔ گو کہ جیرڈ آئزیک مین کا اس مشن پر جانے کا خواب ان کی بے تحاشہ دولت کی وجہ سے ممکن ہوا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ خلا میں جانا ہر کسی کے لیے ممکن ہونا چاہیے۔

Mr Isaacman didn't want the mission simply to be "a trip with fishing buddies"

،تصویر کا ذریعہInspiration4

،تصویر کا کیپشن

جیرڈ آئزیک مین نے متعدد بار یہ کہا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سفر پر نہیں جا رہے بلکہ وہ اس مشن کو بامقصد بنانا چاہتے ہیں

’یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ کوئی عالمی طاقت لوگوں کو خلا میں نہیں بھیج رہی۔ اور میرے خیال میں یہ آنے والے وقتوں کے لیے ایک پیغام ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ مستقبل میں، آج سے 50، 100 سال بعد، چاند پر انسانوں کا کوئی اڈہ ہو گا، مریخ پر کوئی کالونی ہو گی، اور ان تمام کی شروعات کہیں سے تو ہونی ہی ہے۔ اور جب یہ مشن مکمل ہو جائے گا، تو لوگ کہیں گے، کہ یہ مشن وہ پہلا موقع تھا جب عام لوگ فضا میں گئے تھے۔‘

انسپیرشن فور نہ صرف مکمل طور پر زمین کے مدار میں جائے گا (رچرڈ برانسن اور جیف بیزوس صرف کرہ ارض سے تھوڑا اوپر گئے تھے) بلکہ اس کے جانے کا مقصد بھی مختلف ہے۔

جیرڈ آئزیک مین نے متعدد بار یہ کہا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سفر پر نہیں جا رہے بلکہ وہ اس مشن کو بامقصد بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انھوں نے مختلف ذرائع سے تین ساتھیوں کا انتخاب کیا ہے۔

ان کے ساتھ سفر کرنے والوں میں سے ایک 29 سالہ ہیلی آرکینیو ہیں جو ریاست ٹینیسی کے شہر ممفس سے ہیں اور وہاں بچوں کے تحقیقی ہسپتال سے منسلک ہیں۔ جب وہ خود دس سال کی تھیں تو انھیں ہڈیوں کا کینسر ہوا تھا جس کو وہ شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں۔

جیرڈ آئزیک مین کی خواہش ہے کہ وہ ہیلی کے ہسپتال، سینٹ جیوڈ کی تحقیق کے لیے بیس کروڑ ڈالر جمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور انھوں نے کہا کہ اس سے اچھی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ اس ہسپتال سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اس سفر میں ان کے ساتھ ہو۔

اس کے علاوہ سفر پر جانے والوں میں 51 سالہ ڈاکٹر سیان پراکٹر ہیں جن کا تعلق سائنس کے شعبے سے ہے۔ وہ 2009 میں ناسا کے خلا نوردوں کے پروگرام میں شمولیت اختیار کرنے کے امتحان کے آخری راؤنڈ میں ناکام ہو گئی تھیں۔

عملے میں تیسرے شخص، 42 سالہ کرس سیمبروسکی ماضی میں امریکی فضائیہ سے منسلک تھے اور وہ اب معروف کمپنی لاک ہیڈ مارٹن میں ایک انجنئیر ہیں۔

ان کی اس سفر میں شمولیت ایک اتفاق کی وجہ سے ممکن ہوئی۔

The capsule

جیرڈ آئزیک مین نے اس سفر پر جانے والوں کے لیے شرط رکھی تھی کہ وہ سینٹ جیوڈ ہسپتال کو چندہ دیں اور چندہ دینے والوں کے نام کی لاٹری نکلے گی اور جیتنے والے کو اس سفر کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

کرس سیمبروسکی نے بھی اس چندے میں حصہ لیا لیکن ان کا نام نہیں نکلا۔ لیکن شو مئی قسمت کے جیتنے والا شخص ان کا اپنا ہی ایک دوست تھا جس نے اپنی ٹکٹ کرس سیمبروسکی کو دے دی۔

البتہ دوسری جانب چند ناقدین کا سوال ہے کہ ایسی خلائی پروازوں کا زمین پر ماحولیاتی اعتبار سے کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

آج سے 60 برس قبل جب سویت خلا باز یوری گگارین تاریخ میں پہلے انسان بن گئے جس نے خلا سفر کیا، تو اس کے بعد سے آج تک صرف 600 افراد ان کے نقش قدم پر چل سکے ہیں اور ان میں سے واضح اکثریت ان افراد کی ہے جو باقاعدہ تربیت لے کر سرکاری مشنز کے ذریعے خلا میں جا سکے ہیں۔

انسپریشن فور اس لحاظ سے مکمل طور ہر ایک مختلف مشن ہے۔ یہ ایک کمرشل پرواز ہے۔



Source link

Leave a Reply