انٹونوف اے این 225: دنیا کا سب سے بڑا طیارہ روسی حملے میں تباہ، اس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

28 فروری 2022، 22:42 PKT

اپ ڈیٹ کی گئی 2 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دنیا کا سب سے بڑا طیارہ انٹونوف اے این 225 روسی حملے میں تباہ ہوگیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ طیارہ کیئو کے قریب ایک ائیر فیلڈ میں کھڑا تھا جب اس پر شیلنگ ہوئی۔ سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر میں اس طیارہے کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

انٹونوف ہوائی کمپنی کا بنایا ہوا اے این 225 کا نام مریا (جس کا یوکرینی زبان میں مطلب خواب) تھا دنیا کا سب سے بڑا اور اپنی نوعیت کا واحد طیارہ تھا۔

انٹونوف اے این 225

اس طیارے نے اپنی پہلی پرواز 21 دسمبر 1988 کو کی تھی۔

سویت یونین میں انٹونوف ڈیزائن بیورو کا تیار کردہ یہ عظیم الجثہ طیارہ چھ انجنوں کی مدد سے چلتا تھا۔ بغیر کارگو اور ایندھن کے اس کا وزن 175 ٹن تھا۔

سنہ 1988 میں مکمل کیے جانے والے اس طیارے کی لمبائی 84 میٹر تھی اور 18.1 میٹر اونچے اس طیارے کے بارے میں اس کی کمپنی انٹونوف ایئرلائنز کے مطابق یہ طیارہ 242 عالمی ریکارڈز کا مالک تھا۔

مریا کو سوویت دور میں بران نامی خلائی شٹل کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اس پروجیکٹ کو ختم کر دیا گیا تھا اور مریا کو سنہ 2000 سے ایک کارگو طیارے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

اس طیارے کی تعمیر میں شامل سرکردہ انجنئیر نِکولے کلاشنکوف نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنی تمام پروفشنل زندگی اس معروف طیارے کے لیے کام کرنے میں وقف کر دی۔

225 ماڈل کے ایک دوسرے طیارے کی تعمیر بھی شروع ہوئی تھی لیکن کبھی مکمل نہ ہو سکی۔

سنہ 2018 میں اس میں ایک 117 ٹن وزنی جینریٹر کو چیک رپبلک سے آسٹریلیا لے جایا گیا تھا۔

مریا کی دو مرتبہ کراچی آمد

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے آغاز کے بعد انٹونوف کمپنی کی متعدد پروازیں فوجی سازو سامان لے جانے افغانستان گئی تھیں جس کے لیے اے این 225 سے حجم میں کچھ چھوٹے اے این 124 استعمال کیے جا رہے تھے۔

خبروں کے مطابق اسی سلسلے میں 22 جون 2021 کو اے این 225 یوکرین سے کابل روانہ ہوا تھا جہاں سے وہ برطانیہ کی رائل ایئر فورس کے تین ہیلی کاپٹر لے کر کراچی پہنچا تھا۔

طیارے میں ری فیولنگ اور عملے کے سستانے کے باعث کراچی میں تقریباً 21 گھنٹے قیام کے بعد طیارہ برطانیہ میں آر اے ایف کے برائز نارٹن اڈے کی جانب روانہ ہو گیا۔

نٹونوف اے این 225

،تصویر کا ذریعہGetty Images

واضح رہے کہ گذشتہ برس مئی میں امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے کراچی اور اسلام آباد میں افغانستان سے فوجی سازو سامان سے لدی پروازوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے لیے انٹونوف کمپنی کے طیارے استعمال کیے گئے تھے۔

2020 میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث اگست میں کمپنی نے اے این 225 کی فلائٹس کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا تاہم اس سے قبل اس طیارے نے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کے حوالے سے امدادی سامان پہنچانے کے لیے کئی پروازیں کی تھیں۔

انٹونوف اے این 225 نے سنہ 2018 میں بھی کراچی میں اس وقت ری فیولنگ کی غرض سے ہنگامی لینڈنگ کی تھی جب وہ سری لنکا سے سعودی عرب جا رہا تھا۔

نٹونوف اے این 225

،تصویر کا ذریعہGetty Images



Source link