انڈیا: آن لائن گیم میں پیسے گنوانے کے بعد بچے کی خودکشی

  • شورح نیازی
  • بھوپال سے بی بی سی کے لیے

3 گھنٹے قبل

،تصویر کا ذریعہArtur Borzecki Photography

انڈین ریاست مدھیہ پردیش میں آن لائن گیم میں ہزاروں روپے گنوانے کے بعد ایک بچے نے خودکشی کر لی۔

یہ واقعہ چھترپور علاقعے کا ہے۔ آن لائن گیم میں 40 ہزار روپے کا نقصان اٹھانے کے بعد ایک 13 سال کے بچے نے خودکشی کر لی۔

بچے کو فری فائر گیم کھیلنے کی عادت تھی۔ جمعے کو جب بچے کی ماں دفتر میں تھی تو انھیں پتا چلا کہ ان کے اکاؤنٹ سے اچانک پیسے کٹ گئے ہیں۔ انھوں نے فون کر کے بیٹے کو اس حرکت کے لیے ڈانٹا، جس کے بعد بچے نے خودکشی کر لی۔

بچے نے خودکشی سے قبل ایک سوسائڈ نوٹ بھی چھوڑا ہے جس میں اس نے والدہ سے معافی مانگی ہے۔ خط میں لکھا ہے کہ اس نے گیم کے چکر میں ان کے چالیس ہزار روپے برباد کر دیے۔ انگریزی اور ہندی میں لکھے نوٹ میں اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ دکھ کے سبب وہ خودکشی کر رہا ہے۔

پولیس اہلکار سچن شرما کے مطابق ’اس طالب علم نے خودکشی کر لی اور ہمیں جائے وقوعہ سے ایک سوسائڈ نوٹ ملا ہے۔ واقعے کے وقت اس کے والدین گھر پر نہیں تھے۔‘

بچے کی ماں کو جمعہ کو فون پر میسیج آیا کہ ان کے اکاؤنٹ سے 1500رپیے کٹ گئے ہیں، جس کے بعد انھوں نے بچے کو فون کر کے دانٹا تھا۔

جب بچے کی بہن نے کمرا بند دیکھا تو اس نے والدین کو خبر دی۔ انھوں نے گھر پہنچ کر دروازہ توڑا، لیکن ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی بچے کی موت ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے:

اس سے قبل جنوری میں مدھیہ پردیش کے ہی ساگر ضلعے میں ایک بارہ سالہ بچے نے اس وقت خودکشی کر لی تھی جب اس کے والد نے بہت زیادہ موبائل گیمز کھیلنے کے سبب بیٹے سے موبائل فون چھین لیا تھا۔

دلی ہائی کورٹ نے پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا

اسی ہفتے دلی ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے بچوں کو آنلائن گیمز کی لت سے بچانے کے لیے ایک قومی پالیسی بنانے کے لیے کہا تھا۔

دلی ہائی کورٹ میں ایک این جی او، ڈسٹرس مینیجمنٹ کلیکٹیو نے درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ انھیں والدین سے متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں، یہ والدین بچوں کی آنلائن گیمز کھیلنے کی عادت سے پریشان ہیں۔ ان گیمز کے سبب بچوں میں نفسیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بچوں کے خودکشی کرنے، ڈیپریشن میں جانے اور آنلائن گیمز کی لت کے سبب چوری جیسے جرائم کے واقعات بھی حالیہ دنوں میں سامنے آئے ہیں، جنھوں نے این جی او کو یہ درخواست ڈالنے پر مجبور کیا۔

موبائل فون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ درخواست ڈسٹرس مینیجمنٹ کلیکٹیو کے سربراہ جے راج نایر نے اپنی وکلا دیپا جوزف اور روبن راجو کے ذریعے داخل کی تھی۔

دیپا جوزف نے بتایا ’اس قسم کے معاملے مسلسل سامنے آ رہے ہیں اس لیے یہ ضروری تھا کہ ہم اس معاملے کو لے کر عدالت جائیں۔ ہم دس جولائی کو وفاقی وزیر سمریتی ایرانی سے بھی ملے تھے، لیکن ہمیں کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد ہم نے عدالت کا رخ کیا۔‘

کورونا کے دوران موبائل کے استعمال میں اضافہ

دیپا جوزف کا خیال ہے کہ کورونا کی وبا کے دوران بچے تعلیم کے لیے تو موبائل کا استعمال کر ہی رہے ہیں، لیکن اس دوران انھیں موبائل پر گیمز کھیلنے کی عادت بھی لگ رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ مسئلہ ان بچوں میں زیادہ دیکھا جا رہا ہے جن کے ماں اور باپ دونوں کام پر جاتے ہیں۔

گوگل کے مطابق فری فائر 2019 میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کیا جانے والا گیم تھا۔ انڈیا میں بھی بچوں میں اس کی مقبولیت بڑھی ہے۔

اس گیم کو ویسے تو مفت میں کھیلا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ کیریکٹر لینا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ کیریکٹر خرید لینے سے گیم میں آپ کی مہارت بڑھ جاتی ہے۔ آپ کیریکٹر کے علاوہ بھی بہت کچھ خرید سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

متعدد چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو گیم میں آپ کی مہارت کو تو نہیں بڑھاتیں لیکن دیگر کھلاڑیوں کے درمیان آپ کو مقبول بنا دیتی ہیں، کیوں کہ انھیں آپ میں پیسے خرچ کرنے کی زیادہ صلاحیت نظر آتی ہے۔ اسی وجہ سے دس برس سے اٹھارہ برس کے درمیان عمر والے بچے اس میں زیادہ پھنستے ہیں اور پیسے خرچ کرتے ہیں۔

دیپا جوزف کہتی ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں، بلکہ ملک بھر کا مسئلہ ہے۔

انھوں نے کہا ’اس قسم کے معاملے کیرل سے بھی ملے ہیں اور دلی سمیت دیگر ریاستوں سے بھی۔ اس لیے سبھی کے لیے ایک پالیسی بنائی جانی چاہیے تاکہ بچوں کے بچپن کو محفوظ رکھا جا سکے۔‘



Source link

Leave a Reply