انڈیا اور پاکستان ممکنہ جوہری حادثات یا جنگ روکنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں؟

  • عمر فاروق
  • دفاعی تجزیہ کار

55 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور انڈیا کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے باضابطہ طریقوں کی عدم موجودگی خطے کے سٹریٹیجک جوہری ماحول کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے اثرات و مضمرات لیے ہوئے ہے۔

علاقائی اور جوہری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں سٹریٹیجک جوہری توازن میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں نے دونوں ممالک کے درمیان جوہری حادثات سے بچاﺅ کے لیے دس سال قبل ہونے والے معاہدے میں متعدد سقم پیدا کر دیے ہیں، جنھیں نئے معاہدوں یا جوہری امور پر مزید بات چیت کی مدد سے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور انڈیا نے ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران خطے کی جوہری صورتحال سے متعلق امور پر کوئی باضابطہ بات چیت نہیں کی جبکہ ان گزرے برسوں کے دوران دونوں ممالک نہ صرف نئی ٹیکنالوجی متعارف کروا چکے ہیں بلکہ ان کے ہاں مقامی ٹیکنالوجی میں پیشرفت بھی سامنے آ چکی ہے جس کے سبب جوہری حادثات سے بچاﺅ کے لیے 21 فروری 2007 کو جس پرانے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، اس میں کئی طرح کے سقم آ چکے ہیں۔ (اس معاہدے کو پانچ سالہ توسیع ملتی رہی ہے۔)

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جوہری معاہدہ

سنہ 2007 کے اس معاہدے کی شقوں کی روشنی میں دونوں ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ پاکستان اور انڈیا اپنی طرف کسی جوہری حادثے کے رونما ہونے پر دوسرے فریق کو فی الفور آگاہ کریں گے جس کے سرحد کے دوسری طرف اثرات پھیلنے کا احتمال ہو۔

یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک مؤثر ’کمانڈ اینڈ کنٹرول‘ کے ادارہ جاتی داخلی نظام تیار کریں گے۔

اس معاہدے کے ساتھ یہ غیر اعلانیہ مفاہمت بھی ہوئی تھی کہ دونوں ممالک جوہری ہتھیار اور انھیں لے جانے والے نظام (اسلحہ) کو تیار یا فوری استعمال کی حالت میں نہیں رکھیں گے۔

باالفاظ دیگر وہ اپنے ان ہتھیاروں کو انھیں لے جانے والے اسلحہ کے نظام کے ساتھ بیک وقت ایک ہی جگہ نہیں رکھیں گے۔

جوہری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں متعارف ہونے والی نئی ٹیکنالوجی کے بعد اب یہ مفاہمت پرانی یا غیر موثر ہو کر رہ گئی ہے۔

فوجی بیوروکریسی سے تشکیل پانے والے اور پاکستان کی جوہری اسٹیبلشمنٹ کے مرکزی دفتر کے طور پر کام کرنے والے ’سٹریٹیجک پلان ڈویژنز‘ کے سابق افسر اور جوہری امور کے صف اول کے ماہر ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعیم سالک کے مطابق ’انڈیا نے بحر ہند میں اب اپنی جوہری آبدوز اتار دی ہے جس کے بعد دونوں ممالک میں جس معاہدے پر اتفاق ہے، اس کے تحت طے پانے والا طریقہ کار غیر مؤثر ہو گیا ہے کیونکہ آبدوز میں جوہری ہتھیار اور انھیں لے جانے والا اسلحہ (نظام) ایک ہی جگہ ہوتے ہیں۔‘

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشن

اکتوبر 2021 کے دوران پاکستانی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ایک انڈین آبدوز کی جانب سے پاکستانی پانیوں میں داخلے کی کوشش کو ناکام بنایا ہے

ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعیم سالک نے کہا کہ ’اسی طرح انڈین اگنی تھری اور براہموس میزائل بھی فوری استعمال کی ٹیکنالوجی کے حامل ہیں، یہاں بھی جوہری ہتھیار اور انھیں لے جانے والا نظام ایک ہی جگہ موجود ہوتے ہیں۔

’کم فاصلے پر مار کرنے والے پاکستان کے نصر میزائل بھی فوری استعمال کی حالت میں ہوتے ہیں اور جوہری ہتھیار بھی اسے لے جانے والے نظام کے ساتھ ہی رکھے جاتے ہیں۔‘

آبدوزوں کے معاملے میں تصور یہ ہے کہ انھیں پہلے سے ہی اختیارات دے دیے جاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مرکزی سیاسی قیادت ہتھیار چلانے کے فیصلہ کا اختیار فوجی کمانڈر کو سونپ دیتی ہے۔

زمین سے آبدوز کے ساتھ بلا تعطل رابطہ قائم رکھنا ممکن نہیں ہوتا لہذا پہلے سے سونپ دیے جانے والے اختیار کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ البتہ اس ضمن میں دو آدمیوں کے اصول کا اطلاق بھی ہوتا ہے۔

نعیم سالک نے کہا کہ ’سمندروں میں حادثات کے معاہدے کی ضرورت ہے‘ بصورت دیگر دونوں ممالک کے درمیان جوہری حادثات سے متعلق معاہدہ پوری طرح موجود اور نافذالعمل ہے جس میں انڈیا اور پاکستان مدت میں متعدد بار توسیع کر چکے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ معاہدہ پانچ سال کی مدت کے لیے ہوا تھا۔

15 سال قبل 21 فروری 2007 کو پاکستان اور انڈیا نے جوہری حادثات سے بچاﺅ کے لیے دو طرفہ معاہدے پر دستخط کئے تھے۔

واشنگٹن کی طرف سے معاملہ کرانے کی کوششوں کے بعد پاکستان میں قائم جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت جبکہ نئی دہلی میں کانگریس حکومت میں یہ مفاہمت ہو گئی تھی کہ اپنے ملک کے اندر ہونے والے کسی بھی ممکنہ جوہری حادثے کے خطرات سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا۔

دونوں اطراف نے اتفاق کیا تھا کہ معاہدے کو لاگو کرنے کے لیے کوئی باضابطہ نظام (میکنزم) نہیں ہو گا بلکہ جوہری شعبے میں صرف داخلی طور پر تیار کردہ طریقہ کار کو ہی نگرانی اور اس معاہدے کے نفاذ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

مشرف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

15 سال قبل ہونے والے معاہدے کے تحت دونوں ملک اپنے اندر ہونے والے کسی بھی ممکنہ جوہری حادثے کے خطرات سے ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے

نعیم سالک کے مطابق جوہری حادثات سے متعلق معاہدے پر دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان لاہور میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں طے پانے والی مفاہمت کی یاداشت کی روشنی میں دستخط ہوئے تھے۔

دونوں ممالک کے خارجہ امور کے سیکرٹریز کے درمیان ’ہاٹ لائنز‘ (فوری براہ راست رابطے کے نظام) کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا جس کا مقصد کسی جوہری حادثے سے متعلق اطلاعات سے دوسرے ملک کو آگاہ کرنا تھا کیونکہ ایسے کسی حادثے کے نتیجے میں سرحد کے دوسری جانب اثرات کا امکان ہو سکتا ہے لہذا اس ضمن میں دوسرے ملک کو آگاہ کرنا مقصود تھا۔

نعیم سالک کے مطابق ’اس معاہدے میں تصدیق کا کوئی طریقہ کار دستیاب نہیں، صرف داخلی نظام سے ہی یہ فیصلہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے کہ آیا کسی جوہری حادثے کے صورت میں اثرات دوسرے ملک کی سمت جا سکتے ہیں یا نہیں۔‘

معاہدے کی شق دو میں کہا گیا کہ ’اپنی حدود یا زیر انتظام جوہری ہتھیاروں سے متعلق کسی ایسے حادثے کی صورت میں فریقین فوری طور پر ایک دوسرے کو اس سے آگاہ کریں گے جس سے ’ریڈیو ایکٹیو‘ (تابکاری) پھیلنے اور سرحد کے دونوں اطراف منفی اثرات پڑنے یا دونوں ممالک کے درمیان جوہری جنگ چھڑنے کا خطرہ لاحق ہو۔‘

’ایسے کسی حادثے کی صورت میں وہ فریق جس کے زیرانتظام یا حدود میں ایسا حادثہ رونما ہوا ہو، تابکاری اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے فوری ضروری اقدامات کرے گی۔‘

پاکستان اور انڈیا میں عوام جوہری خطرات سے بے نیاز زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ ان کی روزمرہ زندگی کے عمل کا حصہ نہیں۔ اس کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہیں۔

سرفہرست وجہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ میں جوہری امور سے متعلق خال خال ہی کوئی بات ہوتی ہے۔ سرحد کے دونوں جانب کا میڈیا جوہری امور پر صرف اس وقت ہی بات کرتا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ جائے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ فیصلہ ساز (پالیسی میکرز) دونوں ممالک کے درمیان جوہری صورتحال پر شاذونادر ہی لب کشائی کرتے ہیں۔

کیا معاہدے پر دستخطوں کے وقت کوئی جوہری خطرات درپیش تھے؟ کیا اس وقت ہر چیز معمول پر ہے اور جوہری حادثات سے متعلق گفتگو محض اس کے ماہرین کی بحث و تمحیث اور بات چیت کی حد تک ایک معاملہ ہے؟

جوہری معاملات پر عالمی سطح پر نظر رکھنے والے اداروں کا خیال ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں نے مئی 1998 میں فعال حالت میں جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کر لی تھی، اس سے قبل دونوں ممالک سینکڑوں جوہری ہتھیار تیار کر چکے تھے۔ دونوں ممالک اپنی مسلح افواج کو جوہری ہتھیار لیجانے والے مختلف ہتھیاروں سے لیس کر چکی ہیں۔

ایسی صورتحال میں کسی جوہری حادثے کے خطرے کے بارے میں بات کرنا ذمہ دارانہ ہے یا یہ محض ایک فنی یا تکنیکی نوعیت کا ایک مسئلہ ہے جس کا پاکستان اور انڈیا میں رہنے والے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کے تجربات سے کچھ لینا دینا نہیں؟

جوہری امور کے ماہرین نے دو حصوں میں ان سوالات کے جواب دیے ہیں۔ ایک نافذالعمل طریقے یا کسی پیچیدہ مشینی نظام (میکنیکل سسٹم) کے بارے میں ’تھیوریز‘ (نظریات) موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ مشینوں میں نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔ حادثات کا ہونا لازم ہے۔ جہاں تک جوہری ہتھیاروں اور ان کو لے جانے والے ہتھیاروں جیسے پیچیدہ مشینی نظاموں کا تعلق ہے تو یہ معاملہ ’اگر‘ کا نہیں بلکہ ’کس وقت ایسا ہو جائے‘ کا ہے۔

ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعیم سالک نے اپنے نکتہ نظر کو بیان کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ یہ ’تھیوریز‘ اس وقت نافذالعمل ہیں۔

دوسرا یہ کہ نعیم سالک سمیت متعدد جوہری امور کے ماہرین نے یہ نشاندہی کی کہ پاکستان اور انڈیا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں نہیں مار رہے بلکہ انھیں امریکہ اور سویت یونین کے تجربات سے استفادہ کرنے کا پہلو میسر ہے۔

نعیم سالک نے کہا کہ ’پاکستان اور انڈیا دونوں کو امریکہ اور سویت یونین کے تجربے اور دوراندیشی کا فائدہ میسر ہے کہ کیا امکانات اور خدشات وتحفظات ہو سکتے ہیں اور درپیش صورتحال سے کیسے نبردآزما ہوا جائے۔‘

کیوبا میزائل بحران
،تصویر کا کیپشن

جوہری امور کے ماہر سکاٹ سگان نے ‘لمٹس آف سیفٹی’ کے عنوان سے کتاب شائع کی تھی جس میں مشینی حادثات کے نظریے پر کیوبن میزائل بحران کا حوالہ دیا گیا

سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سویت یونین کے تجربات کیا تھے؟

1949 میں سویت یونین کے پہلے جوہری ہتھیار کے تجربے کے بعد سرد جنگ کے دونوں حریفوں کے درمیان کشیدگی انتہا پر تھی۔

امریکہ اور سویت یونین کے عوام میں جوہری ہتھیاروں کے چلنے کا خوف ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا تھا کیونکہ دونوں ممالک کا میڈیا مسلسل ایک دوسرے کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکانات پر بحث کررہا تھا جس میں دونوں حکومتوں کے حکام بھی شریک تھے۔

دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی خبریں بھی مسلسل میڈیا میں آرہی تھیں۔ لہذا دونوں ممالک کے شہریوں میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق خطرات ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے تھے۔

1993 میں سرد جنگ کے اختتام کے بعد امریکہ کے صف اول کے جوہری امور کے ماہر سکاٹ سگان نے ’لمٹس آف سیفٹی‘ کے عنوان سے کتاب شائع کی جس میں مشینی حادثات کے نظریہ پر تفصیلی بحث کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار حادثات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ رازداری کے پردے سے باہر آنے والے بہت ساری امریکی سرکاری (ڈی کلاسیفائیڈ) دستاویزات کو حوالے کے طور پر سکاٹ سیگان نے بیان کیا، جن میں جوہری حادثات سے بال بال ہی بچاؤ ہوا تھا۔

اس ضمن میں انھوں نے بطور خاص سنہ 1962 میں ’کیوبن میزائل بحران‘ کے کشیدہ ماحول کے دوران پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کیا ہے۔

انھوں نے اپنی کتاب کے تعارف میں کیوبن میزائل بحران کے عروج پر ہونے کے دنوں میں پیش آنے والے ایسے ہی ایک واقعے کو بیان کیا۔

’25 اکتوبر 1962 کی شب فضائیہ کا ایک پہرے دار یا سنتری دولتھ، مینیسوٹا کے قریب فوجی اڈے کی حدود میں گشت پر تھا۔ یہ کیوبن میزائل بحران کے عروج کا زمانہ تھا اور امریکہ بھر میں جوہری ہتھیاروں سے لیس بمبار اور ایسے ہی مخالف جہازوں کو مارگرانے کے لیے خصوصی طیارے فضائی فوجی اڈوں اور عام مسافر جہازوں کے لیے استعمال ہونے والے تمام ہوائی اڈوں کے رن ویز پر جنگ کے لیے پوری طرح سے تیاری کی حالت میں کھڑے تھے۔‘

’سنتری نے دیکھا کہ کوئی فوجی اڈے کے جنگلے کو پھلانگنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نے اس پر فائر کر دیا اور ساتھ ہی خطرے کی گھنٹی بھی دبا دی۔ پورے علاقے کے فضائی اڈوں میں گھنٹیاں بج گئیں اور مسلح دستے یک بختہ سردی میں نکل کھڑے ہوئے تاکہ سوویت ایجنٹوں کی امریکی جوہری فورسز کو نقصان پہنچانے اور سبوتاڑ کی کارروائی سے بچا سکیں۔‘

’وسکانسن کی وولک فیلڈ میں غلط گھنٹی بج گئی۔ ’کلیکسن اشارہ‘ جوہری جنگ شروع ہونے کا تھا۔ پائلٹ جوہری حملے سے بچاؤ کرنے والے اپنے طیاروں کی طرف سرپٹ دوڑے اور انجن سٹارٹ کرنے میں جت گئے۔ ان کو یہ بتایا جا چکا تھا کہ کشیدگی کے اس بحران میں آزمائشی مشق کوئی نہیں ہو گی اور رن وے کی طرف جاتے ہوئے انھیں پورا یقین تھا کہ جوہری جنگ شروع ہو چکی ہے۔‘

خوش قسمتی سے فضائی اڈے کے کمانڈر نے جہازوں کو پرواز بھرنے سے پہلے دولتھ سے رابطہ کرنا مناسب سمجھا اور معلوم کیا کہ اصل میں کیا ہوا ہے؟ کمانڈنگ پوسٹ پر موجود افسر نے فوری طور پر گاڑی سٹارٹ کی اور رن وے کی طرف بھگائی اور جوہری ہتھیاروں سے حملہ آور ہونے والے دشمن جہازوں کو راستے میں روکنے کے لیے پرواز بھرنے کو تیار طیاروں کو بار بار تیز روشنی کے اشارے دینا شروع کر دیے۔‘

’پائلٹس نے یہ دیکھا تو اپنے طیارے روک دیے اور بعد میں پتا چلا کہ جسے سویت یونین کا طرف سے سبوتاڑ کی کارروائی کرنے والا سمجھا گیا، وہ دراصل ایک ریچھ تھا۔‘

پاکستان انڈیا جوہری ہتھیار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور انڈیا کا معاملہ

سکاٹ سیگان نے کئی ایسے واقعات بیان کیے ہیں جن میں حادثہ بس ہوتے ہوتے رہ گیا، ورنہ ان کے نتیجے میں سرد جنگ کے دوران جوہری حادثات ہو سکتے تھے۔ ان حادثات کے بارے میں علم ہونے کی بنیادی وجہ وہ قانون ہے جس کے تحت ہر 25 سال کے بعد سرکاری دستاویزات عوام کے سامنے پیش کر دی جاتی ہیں اور وہ خفیہ نہیں رہتیں۔

پاکستان اور انڈیا میں ایسا کوئی کوئی قانون موجود نہیں لہذا دونوں ممالک کے عوام اس بارے میں کچھ جان پائیں گے کہ دونوں ممالک کی جوہری اسٹیبلشمنٹ کے اندر کیا کچھ ہوا؟ اس کا سرے سے کوئی امکان نہیں۔

پاکستان اور انڈیا کی جوہری اور سلامتی کی اسٹیبلشمنٹس رازداری اور بند دروازوں میں رہنے والی مخلوق ہیں۔ کوئی امکان نہیں کہ وہ اپنے دستاویزات کو عوامی مطالعہ کے لیے جاری کریں جیسا کہ دیگر ممالک میں رواج ہے۔

یہ بھی ممکن نہیں کہ جوہری تنصیبات یا انتظام کے اندر کیا ہو رہا ہے، اس کے بارے میں وہ کچھ بتائیں گے۔

مثلاً انڈیا اور پاکستان میں ایسے کسی حادثے کے بارے میں ہمیں ہرگز کبھی معلوم نہیں ہو گا جس کے نتیجے میں کوئی جوہری حادثہ پیش آسکتا ہو۔ لہٰذا دونوں ممالک کے اندر کسی جوہری حادثے سے متعلق خطرے پر عوامی سطح پر بحث مباحثہ یا رائے امریکہ اور سویت یونین کے تجربات اور امریکہ کے ڈی کلاسیفائیڈ ہونے والے دستاویزات کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے۔

جوہری امور کے ایک اور نامور پاکستانی ماہر ریٹائرڈ بریگیڈیئر فیروز حسن خان ہیں جنھوں نے سٹریٹیجک پلانز ڈویژن میں خدمات انجام دیں اور ’ایٹنگ گراس: دی میکنگ آف دا پاکستانی بم‘ (گھاس کھا کر پاکستانی بم کی تیاری) کے عنوان سے کتاب لکھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جوہری دھماکوں کے بعد امریکی سفارتکاروں نے پاکستانی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے حکام کے ساتھ بات چیت میں یہ تجویز کیا تھا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار اور انھیں لے جانے والے اسلحہ (نظام) کو تیار یا فوری چلنے کی حالت میں نہ رکھیں اور انھیں ان مقامات سے کم از کم 100 میل کی دوری پر رکھیں جہاں سے انھیں چلایا جانا ہے تاکہ جوہری حادثے کے امکان سے بچا جا سکے۔‘

انڈیا اور پاکستان نے جب جوہری دھماکے کیے تھے تو امریکی سفارت کاروں اور سکیورٹی حکام نے دونوں ممالک کو قائل کرنے کی کوششیں کیں کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے والے نظام کی طرف نہ جائیں تاکہ کشیدگی کے ماحول میں حادثاتی طور پر جوہری ہتھیاروں کے چل جانے کے امکان اور خطرے کو کم کیا جا سکے۔

پاکستان کو یہاں تک کہا گیا کہ جوہری ہتھیاروں اور انھیں لے جانے والے نظام کے درمیان کم از کم 100 میل کا فاصلہ رکھا جائے۔ یہ خطرہ امریکہ اور سویت یونین کے تجربات کی بنا پر ہے جس کے بارے میں ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات میں بہت ساری ایسی کہانیاں موجود ہیں جس میں حادثاتی طورپر جوہری ہتھیار چلتے چلتے رہ گئے تھے۔

پاکستان اور انڈیا کے معاملے میں ایسا کوئی امکان نہیں کیونکہ جوہری تاریخ کے بارے میں دستاویزات کے سامنے آنے کا سرے سے کوئی امکان موجود ہی نہیں۔

جوہری امور کے بعض ماہرین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنوبی ایشیا میں غیراعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ جوہری ہتھیاروں اور انھیں لے جانے والے نظام ایک دوسرے سے فاصلے پر رکھے جائیں اور یہ بھی کہ ان ہتھیاروں کو تیار حالت میں نہ رکھا جائے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ گزرے برسوں کے دوران اس معاہدے میں دو قسم پیدا ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ انڈیا نے بحر ہند میں جوہری آبدوز اتار دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام بھاری جوہری آبدوزوں پر لاگو نہیں ہوں گے کیونکہ جوہری ہتھیار اور اسے لے جانے والا نظام آبدوز پر ہی موجود ہوں گے۔

دوسرا تو یہ کہ پاکستان اور انڈیا دونوں نے جوہری ہتھیار لے جانے والے نظام تیار کیے ہوئے ہیں جو فوری طور پر چلائی جانے والی ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔

نعیم سالک کے مطابق ’انڈیا کا اگنی تین اور براہموس کروز میزائل فوری طور پر چلانے کی ٹیکنالوجی کے حامل ہیں اور ان میں جوہری ہتھیار اور اسے لے جانے والے نظام ایک ہی جگہ پر ہوتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے کم فاصلے تک مار کرنے والے نصر میزائل فوری طور پر چلائے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جوہری ہتھیاروں اور انھیں لے جانے والے نظام ایک ہی جگہ پر ہوتے ہیں۔‘

نعیم سالک نے واضح کیا کہ آبدوز کی صورت میں ہتھیار چلانے کا اختیار پہلے سے ہی دے دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ مرکزی سیاسی اتھارٹی نے جوہری ہتھیاروں سے لیس میزائل چلانے کا اختیار پہلے ہی فوجی کمانڈر کو دے دیا ہوتا ہے۔

نعیم سالک نے یہ بھی کہا کہ ’زمین سے آبدوز کے ساتھ مسلسل رابطہ ممکن نہیں ہوتا لہذا پہلے سے ہی ہتھیار چلانے کا اختیار انھیں دے دیا جاتا ہے اور یہی اصول استعمال ہوتا ہے تاہم اس کے ساتھ دو افراد کا اصول بھی لاگو کیاجاتا ہے۔‘

اچھی خبر یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں نشیب و فراز کے باوجود جوہری حادثات پر معاہدے کی پانچ سال کی ابتدائی مدت میں مزید توسیع کی جا چکی ہے۔

ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعیم سالک نے بتایا کہ ’اس (معاہدے) میں کئی بار توسیع ہو چکی ہے اور یہ اس وقت نافذالعمل ہے۔‘

نعیم سالک نے یہ بھی کہا کہ ’انڈیا اور پاکستان بند گلی میں نہیں چل رہے۔ ان کے پاس امریکہ اور سویت یونین کے تجربات کی صورت میں فائدہ موجود ہے۔‘



Source link