انڈیا میں تین خواتین ججز کی سپریم کورٹ میں تقرری قبل از وقت جشن تو نہیں!

  • گیتا پانڈے
  • بی بی سی نیوز، نئی دہلی

27 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشن

چیف جسٹس این وی رمانا انڈیا کی سپریم کورٹ کی خواتین ججز کے ہمراہ

انڈیا کی سپریم کورٹ میں تین خواتین ججوں کی حالیہ تقرریوں کو ایک ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیا جا رہا ہے اور ان میں سے ایک جسٹس بی وی ناگرتھنا کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک دن ملک کی پہلی خاتون چیف جسٹس بن سکتی ہیں۔

تینوں ججوں، جسٹس ہیما کوہلی، جسٹس بیلا ایم ترویدی اور جسٹس بی وی ناگرتھنا نے یکم ستمبر کو اپنے عہدے کا حلف لیا ہے۔

انڈیا کے چیف جسٹس این وی رمنا کی خواتین ججز ساتھیوں کے ساتھ تصویر جن میں تین نئی ججز اور جسٹس اندرا بینرجی جو اس عہدے پر سنہ 2018 سے سپریم کورٹ میں ہیں، انڈیا میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں اور اسے اخبارات کے صفحہ اول کی زینت بنایا گيا ہے۔

وزیر قانون کیرن ریجیجو نے اسے ’صنفی نمائندگی کا تاریخی لمحہ‘ قرار دیا ہے۔ امریکہ میں انڈیا کے سفیر نے کہا کہ یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے۔ اور بہت سے لوگوں نے نئے ججوں کو ان کے ’اہم دن‘ پر مبارکباد کے پیغامات بھیجے ہیں۔

یہ تقرریاں بلاشبہ خوش آئند ہیں کیونکہ وہ انڈیا کی اعلیٰ عدالت میں صنفی فرق کو کم کرتی ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا جشن قبل از وقت معلوم ہوتا ہے کیونکہ جب تک کہ انڈیا کی عدلیہ میں صنفی توازن ٹھیک نہ ہو جائے اس وقت تک یہ قبل از وقت ہے جیسے کہ ایک ریٹائرڈ خاتون جج نے حال ہی میں اسے ’اولڈ بوائز کلب‘ قرار دیا تھا۔

سینیئر وکیل سنیہا کالیتا نے کہا کہ ممکنہ پہلی خاتون چیف جسٹس پر جوش و خروش خاص طور پر بے وجہ ہے کیونکہ اگر سب کچھ منصوبے اور ضوابط کے مطابق ہوتا ہے تو بھی جسٹس ناگرتھنا کی سپریم کورٹ کی سربراہی کی باری سنہ 2027 میں آئے گی اور وہ بھی ان کے ریٹائر ہونے سے تقریبا ایک ماہ قبل۔

انھوں نے کہا: ’کسی خاتون کا چیف جسٹس ہونا جشن کی بات ہے لیکن یہ تقرری صرف علامتی ہے اور اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب ایک نیا چیف جسٹس اپنا عہدہ سنبھالتا ہے تو اسے وقت درکار ہوتا ہے تاکہ وہ چیزوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔ پہلے دو ماہ عمومی طور پر انتظامی کاموں میں گزر جاتے ہیں۔ وہ ایک ماہ میں کیا کریں گی؟ وہ صرف نام کی چیف جسٹس ہوں گی۔‘

کالیتا خواتین وکلاء کی ایک انجمن کی رکن ہیں جنھوں نے عدالتوں میں خواتین کی منصفانہ نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے۔

جب سابق چیف جسٹس کو کلین چٹ دی گئی تو خواتین میں کافی غم و غصہ پایا گیا

،تصویر کا ذریعہNURPHOTO

،تصویر کا کیپشن

جب سابق چیف جسٹس کو کلین چٹ دی گئی تو خواتین میں کافی غم و غصہ پایا گیا

سنہ 1950 میں جب سے انڈیا میں سپریم کورٹ قائم ہوئی ہے ملک کی پہلی خاتون سپریم کورٹ کی جج مقرر ہونے میں 39 سال لگ گئے جب جسٹس فاطمہ بیوی کو سنہ 1989 میں سپریم کورٹ میں بطور جج مقرر کیا گيا۔ انھوں نے سنہ 2018 میں نیوز ویب سائٹ سکرول کو بتایا تھا کہ ’میں نے ایک بند دروازہ کھولا تھا۔‘

لیکن انڈیا کی سپریم کورٹ میں خواتین ججز کے لیے ابھی بھی مشکل سفر ہے کیونکہ گذشتہ 71 برسوں میں سپریم کورٹ کے 256 ججوں میں سے صرف 11 (یعنی 4.2 فیصد) خواتین ہیں۔

موجودہ 34 رکنی سپریم کورٹ ٹیم میں صرف چار خواتین ججز ہیں۔ ریاستوں کے 25 ہائی کورٹس میں 677 ججوں میں 81 خواتین ہیں جبکہ پانچ ریاستوں میں ایک بھی خاتون جج نہیں ہے۔

کالیتا کہتی ہیں کہ ’اعلی عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم انڈیا کی آدھی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں تو پھر ہمارے پاس عدلیہ میں آدھی نشستیں کیوں نہیں ہیں؟‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر کالجیم، جو ججوں کا تقرر کرتا ہے، کو ضلعی عدالتوں میں کافی اہل ججز مل سکتے ہیں تو اسے سپریم کورٹ بار سے بھی اہل خواتین کو منتخب کرنا چاہیے جہاں ’بہت اچھی خواتین وکلاء موجود ہیں۔‘

چیف جسٹس رمانا سمیت قانونی ماہرین اور ججوں نے حال ہی میں مزید خواتین ججوں کی تقرریوں کا مطالبہ کیا ہے۔

جسٹس رمانا نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ’آزادی کے 75 برسوں بعد کسی کو ہر سطح پر عدلیہ میں خواتین کی کم از کم 50 فیصد نمائندگی کی توقع ہو گی لیکن بہت مشکل سے ہم سپریم کورٹ میں اب تک خواتین کی 11 فیصد نمائندگی تک ہی پہنچ سکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے اور اس پر غور کرنا چاہیے۔

A retired female judge recently described India's judiciary as "an old boy's club"

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ایک ریٹائیرڈ خاتون جج نے حال ہی میں انڈیا کی عدلیہ کو ’این اولڈ بواز کلب‘ کہا ہے

برطانیہ کی عدالتوں میں 32 فیصد ججز خواتین ہیں جبکہ امریکہ میں 34 فیصد جج خواتین ہیں۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں مجموعی 15 ججز میں سے تین خواتین ہیں جو کہ 20 فیصد بنتا ہے۔

دسمبر میں انڈیا کے اعلیٰ قانونی عہدیدار اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ’جنسی تشدد سے متعلق معاملات میں زیادہ متوازن اور ہمدردانہ انداز‘ اپنانے کے لیے مزید خواتین ججوں کا تقرر ہونا چاہیے۔

وینوگوپال کا مشورہ ایک ایسے وقت آیا جب ایک ہائی کورٹ کے مرد جج نے ایک خاتون کو ہراساں کرنے کے الزام میں ایک مرد کو حکم دیا کہ وہ خاتون کے گھر مٹھائی لے کر جائے اور ان سے معافی مانگے۔

خواتین وکلا نے متعدد مرتبہ اس طرح کے احکامات کو چیلنج کیا ہے جن میں ججوں نے متاثرہ لڑکی کو شرمندہ کیا ہو یا عصمت دری کے معاملے میں سمجھوتے کی تجویز دی ہو۔ صنفی ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ خواتین ججوں کے ہونے سے ضروری نہیں کہ عدالت میں عورتوں سے نفرت کا خاتمہ ہو۔

نیوز ویب سائٹ آرٹیکل 14 کی جینڈر (صنفی) ایڈیٹر نمیتا بھنڈارے نے حال ہی میں ہندوستان ٹائمز میں لکھا تھا کہ ’خواتین ججز ہمیشہ اپنی جنس کے لوگوں کا بھلا نہیں سوچتی۔‘

’یہ ایک خاتون جج ہی تھیں جنھوں نے ایک 39 سالہ شخص کو ایک بچے سے جنسی زیادتی کے الزام سے بری کیا کیونکہ وہاں جلد سے جلد تک کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ اور انڈیا کے سابق چیف جسٹس راجن گوگوئی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے مقدمے سے بری کرنے کرنے والی تین رکنی کمیٹی میں دو خواتین شامل تھیں۔‘

لیکن نمیتا بھنڈارے نے کہا کہ عدلیہ ’اعلی طبقے، غالب ذات، اکثریت مذہب کے مردوں‘ کا مقام ہی نہیں رہ سکتی اور نئی راہیں اور بند دروازے کھولنے ہوں گے تاکہ ’ہماری جمہوریت کو متحرک بنانے والی مختلف آوازوں‘ کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ ’ضروری نہیں کہ تمام خواتین بہتر جج بن سکیں‘، لیکن زیادہ سے زیادہ خواتین کو قانونی پیشے میں شامل ہونے کی ترغیب ضرور دی جانی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم ایک آزاد قوم کی تلاش میں ہیں تو ہماری عدلیہ میں صنفی برابری ضرور ہونی چاہیے۔ اعلیٰ عدالتوں میں خواتین ججز آنے سے مزید خواتین کو قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب ملے گی، اور جب بینچ میں صنفی برابری ہو تو معاشرے کو اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔‘



Source link

Leave a Reply