انڈیا میں کووڈ ویکسینیشن: انڈیا میں ویکسینیشن سے متعلق ہچکچاہٹ اور ہیلتھ ورکرز کو درپیش مسائل کیا ہیں؟

  • دیویا آریا
  • بی بی سی نیوز، دہلی

29 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے لیے کووڈ 19 کی ویکسین لگانا ہمیشہ سے ایک بہت بڑا چیلنج تھا کیونکہ یہاں کی آبادی ہی تقریباً ایک ارب 40 کروڑ ہے۔

ویکسینیشن کے پروگرام کی ابتدا خاطر خواہ رہی۔ انڈیا نے ویکسین لگانے کی ابتدا 16 جنوری کو کی جس میں فرنٹ لائن کارکنوں اور 60 سال سے زیادہ عمر والوں کو ٹیکے لگانے کا کام شروع ہوا۔ لیکن جب مئی میں ویکسین پروگرام 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کے لیے کھول دیا گیا تو ویکسین کا سٹاک کم پڑ گیا، اس وقت بھی جب کووڈ کی دوسری تباہ کن لہر کی زد میں گھرے انڈیا میں اس کے مانگ میں زبردست اضافہ دیکھا گيا۔

صرف فراہمی کی قلت ہی انڈیا کے لیے چیلنج نہیں ہے بلکہ ملک میں ویکسین لگانے میں بہت سے مسائل ہیں جو مختلف علاقوں میں مختلف ہیں اور اس میں منصوبہ بندی سے لے کر انفراسٹرکچر اور غلط اطلاعات جیسی چیزیں شامل ہیں۔

بی بی سی نے 729 اضلاع کے دستیاب ڈیٹا کا تجزیہ کیا ہے جس میں ٹیکے لگانے کی شرح میں بہت زیادہ فرق نظر آیا ہے۔ اگر بعض اضلاع میں تقریباً نصف آبادی کو ویکسین لگا دی گئی ہے تو بعض میں ابھی تک صرف تین فیصد افراد کو ہی ٹیکے دیے گئے ہیں۔ کچھ شہری اور کم آبادی والے اضلاع میں دوسرے بڑے یا دیہی علاقوں کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ دیکھا گیا ہے۔

یہاں چار اضلاع میں جو کچھ صحیح اور غلط ہوا اس کا ایک سرسری جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

نقشہ
Presentational white space

ان میں سے ماہے اور جنوبی دہلی ویکسینیشن کے معاملے میں سرفہرست ہیں جبکہ جنوبی سلمارا منکاچر اور تیروونناملائی میں بہت زیادہ لوگوں کو ویکسین نہیں دی جا رہی۔

منصوبہ بندی کلیدی اہمیت کی حامل ہے

جب شیوراج مینا نے رواں سال فروری میں انڈیا کے جنوب مغربی ساحل پر واقع ایک چھوٹے سے ضلع ماہے کا چارج سنبھالا تو انھوں نے اس کے لیے منصوبہ بندی کی۔

اس ضلع کی آبادی تقریباً 31 ہزار افراد پر مشتمل ہے جنھیں فوری ویکسینیشن کی ضرورت تھی کیونکہ کووڈ کی دوسری لہر سامنے کھڑی نظر آرہی تھی۔ لیکن مسٹر مینا نے محسوس کیا کہ لوگوں کو ویکسین کے صلاحیت کے بارے میں شبہ ہے اور وہ بھیڑ لگانے کے خطرے سے بچنے کے لیے ویکسینیشن سینٹر آنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔

اس کا رقبہ صرف نو مربع کلومیٹر (3.5 مربع میل) ہے اور انڈیا کے اس سب سے چھوٹے ضلعے میں صحت کا محدود بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔ اس لیے مسٹر مینا نے ایک منصوبہ تیار کیا۔

انھوں نے کہا: ‘میں نے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں اور مقامی برادریوں کے عمائدین سے ملاقات کی اور انھیں ویکسین کی افادیت کے بارے میں بتایا اور یہ واضح کیا کہ جن فرنٹ لائن کارکنوں کو ٹیکے دیے گئے ہیں ان میں اس کے منفی اثرات نہ ہونے کے برابر نظر آئے۔’

ماہے میں گھر گھر جاکر لوگوں کو ترغیب دینے کا کام کرنے والے رضاکار

،تصویر کا ذریعہCourtesy: Shivraj Meena

،تصویر کا کیپشن

ماہے میں گھر گھر جاکر لوگوں کو ترغیب دینے کا کام کرنے والے رضاکار

اس کے بعد انھوں نے 30 ٹیمیں تشکیل دیں جس میں ہیلتھ ورکرز کے ساتھ نرسیں اور ٹیچرز شامل تھے۔ انھوں نے گھر گھر جا کر لوگوں کی کونسلنگ کی اور انھیں ویکسینیشن کا ٹوکن دیا کہ وہ کس دن اور کہاں ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

اس حکمت عملی نے اپنا کام کیا۔ ماہے کی اب تک 53 فیصد سے زیادہ آبادی کو پہلی خوراک دی جا چکی ہے اور اس طرح یہ ٹیکے لگانے کی مہم میں سرفہرست ضلع بن گیا ہے۔

مسٹر مینا نے کہا کہ ’آپ کو صرف مسئلے کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے اور پھر اس کے مطابق حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔‘

’ہم ڈرے ہوئے ہیں اور شبہات کا شکار ہیں‘

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کا ایک دور دراز ضلع جنوبی سلمارا منکاچار ہے۔ وہاں اب تک سب سے کم ٹیکے لگائے گئے ہیں۔

بنگلہ دیش کی سرحد سے ملحق ان زرعی علاقوں میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کی آبادی والے دیہات ہیں۔ ہیلتھ ورکرز یہاں بسنے والے ساڑھے 10 لاکھ افراد میں سے صرف تین فیصد افراد کو ہی ویکسینیشن لگا سکے ہیں۔

منور الاسلام منڈل ایک کسان ہیں اور انھوں نے اب تک ٹیکہ نہیں لگوایا ہے۔ انھوں نے کہا: ‘میں نے سنا ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد لوگوں کی موت ہو جاتی ہے۔’ وہ اسے مسلم برادری کے خلاف ایک سازش کہتے ہیں۔

حالیہ ریاستی انتخابات میں منقسم کرنے والی شدید مہم کے بعد دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کامیاب ہوئی ہے جس میں سرحد پار سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو نشانہ بنایا گیا جن میں سے بیشتر مسلمان ہیں۔

وزیر اعلیٰ ہمنت بِسوا سرما کے اس دعوے کو کہ بی جے پی کو مسلم ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے میڈیا میں کافی کوریج دی گئی۔

ریاست آسام کے جنوبی سلمارا میں ایک بازار
،تصویر کا کیپشن

جنوبی سلمارا انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ایک دور دراز علاقہ ہے

منڈل نے کہا: ’بی جے پی مسلم اقلیت کو پسند نہیں کرتی اور کہتی ہے کہ وہ ہمیں آسام سے نکال دے گی۔ تو پھر وہ کیوں سخاوت دکھا رہی ہے اور اب ہمیں مفت ویکسین دے رہی ہے؟ ہم خوفزدہ ہیں اور ہمیں شبہات ہے۔ لہٰذا ہم یہ ویکسین نہیں چاہتے۔‘

ان خیالات کا اظہار ضلع کے بہت سے دوسرے لوگوں نے بھی کیا ہے۔ لیکن عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین کی شرح کم ہونے کی وجہ ہے۔

ڈپٹی کمشنر ہیورے نسارگ گوتم نے کہا کہ ویکسین کے لیے لوگوں کے کم آنے کی وجہ ضلعے کی جغرافیائی صورت حال ہے۔ لوگ اپنے گھروں سے ویکسین مراکز تک طویل سفر کرنے پر راضی نہیں ہیں۔

غلط معلومات نے اس مہم کی رفتار کو کم کیا ہے

ایک اور ریاست جہاں حال ہی میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے وہ جنوبی ریاست تمل ناڈو ہے۔ وہاں بھی ویکسین لینے کی شرح بہت کم درج کی گئی ہے۔

یہاں کے بیشتر اضلاع نے اپنی آبادی کے صرف چار سے چھ فیصد افراد کو ہی اب تک ویکسین دی ہے۔

تیروننناملائی جہاں سب سے بڑے اضلاع میں شامل ہے وہیں وہ سب سے غریب اضلاع میں سے بھی ایک ہے۔

ٹیلی ویژن کیبلز کی دیکھ بھال اور مرمت کرنے والے سروانن نے کہا کہ ’انتخابات کے دوران کورونا وائرس اور ویکسینیشن پر توجہ دینے میں کوتاہی ہوئی ہے۔‘

ان کا کام انھیں لوگوں کے گھروں میں لے جاتا ہے لیکن ابھی تک انھیں ویکسین نہیں لگی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ویکسین لینے کی جلد بازی کبھی محسوس نہیں کی۔

تیروونناملائی کا ایک سنسان مرکز
،تصویر کا کیپشن

تیروونناملائی کا ایک سنسان مرکز

وہ کہتے ہیں: ’وہ اب اس کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن وہ اس سے پہلے خاموش تھے، گویا انتخابات کے دوران کورونا وہاں تھا ہی نہیں۔’

دوسرے لوگ ویکسین سے موت کے خوف کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک مشہور اداکار کی ویکسین لینے کے چند ہی دنوں میں موت ہو گئی۔

ایک کسان نے کہا: ‘گاؤں میں ایک ویکسینیشن کیمپ لگا ہے۔ لیکن لوگ خوفزدہ ہیں کیوں کہ اداکار وویک کی ویکسین لینے کے فوراً بعد موت ہو گئی تھی۔ میں تو ویکسین لوں گا۔ لیکن چونکہ میں کہیں بھی نہیں جاتا اور گھر پر ہی رہتا ہوں اس لیے میں نے سوچا کہ میں بعد میں لے سکتا ہوں۔‘

ضلعے میں ہیلتھ سروسز کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اجیتھا نے ویکسینیشن کی کم شرح کی وضاحت دیتے ہوئے ضلعے کی وسیع آبادی کی جانب اشارہ کیا۔

انھوں نے کہا: ’ہمارے یہان انتخابات سے پہلے بھی کم ہی لوگ آ رہے تھے اور لوگوں بطور خاص دیہی لوگوں میں ویکسین لینے کے متعلق ہچکچاہٹ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔’

انفراسٹرکچر کا جال

لیکن ملک کے دارالحکومت کا منظر اس کے برعکس ہے، خاص طور پر جنوبی دہلی میں، جو شہر کے 11 اضلاع میں امیر ترین علاقوں میں سے ایک اور سب سے کم آبادی والا علاقہ ہے۔ اور اس نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے اپنے 11 لاکھ رہائشیوں میں سے 43 فیصد کو پہلی ویکسین لگا دی ہے۔

ویکسین کی فراہمی میں کمی کے سبب یہاں شہریوں کو شکایت بھی تھی کہ ویکسین کے لیے آن لائن سلاٹ بک کروانا تو جوئے شیر لانا ہے۔ ان کے مطابق یہ کسی ’فاسٹسٹ فنگر فرسٹ‘ جیسے کھیل کے مترادف ہے۔ لیکن جنوبی دہلی میں رہنے والی 27 سالہ مہیما گلاٹی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں جن کا نمبر آ گیا۔

انھوں نے کہا: ’اس میں صرف چند منٹ لگے۔ میں نے اپنے لیے، اپنے بھائی اور کچھ دوستوں کے لیے سلاٹ بک کیا اور ہم اپنے گھر سے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر ایک سرکاری سکول میں ویکسین لگوانے گئے۔

‘وہاں بھیڑ نہیں تھی، سب بہت منظم اور ترتیب میں تھا۔’

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جنوبی دہلی میں دوسرے زیادہ آبادی والے اضلاع کے مقابلے میں زیادہ ویکسینیشن مراکز ہیں۔ اور جتنی ویکسین آپ دیتے ہیں اتنا ہی آپ کو وفاقی حکومت سے ملتا ہے۔ کم از کم یکم مئی سے پہلے تک تو یہی معاملہ تھا جب ریاستیں آزادانہ طور پر ٹیکے کی خوراک نہیں خرید رہی تھیں۔

دہلی میں چار جون کو دی جانے والی ویکسین کی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

دہلی جیسی شہری آبادی میں سب سے زیادہ ویکسین لگائی جار رہی ہے

ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر انکیتا چکرورتی نے کہا: ‘ہم خوش قسمت ہیں کہ یہاں بڑے نجی اور سرکاری ہسپتال ہیں جو ایک سے زیادہ مقامات پر جلدی سے ٹیکے دینے کے مراکز قائم کر سکتے ہیں اور یہاں زیادہ خواندہ آبادی بھی ہے جو کہ ٹیکے لگانے کے لیے تیار بھی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’جنوبی دہلی کا سب سے بڑا فائدہ اس کا صحت کا بنیادی ڈھانچہ ہے جس کی وجہ سے ویکسین کے بنیادی ڈھانچے کو کھڑے کرنے میں مدد ملی۔!

انھوں نے کہا: ’اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آپ ایک دن میں تیار کر سکتے ہیں۔ یہ ایک سبق ہے جو وبائی مرض ہم سب کو سکھا رہا ہے۔’

اضافی رپورٹنگ: تیرونناملائی سے دساپن بالاسبرامنین اور آسام کے جنوبی سلمارا سے دلیپ شرما



Source link

Leave a Reply