انڈیا کا دورۂ انگلینڈ: تیسرے ٹیسٹ میں میزبان ٹیم کی ایک اننگز اور 76 رنز سے فتح، سوشل میڈیا پر انڈیا کی شکست پر تبصرے

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہPA Media

انڈیا کے دورۂ انگلینڈ کا تیسرا ٹیسٹ میزبان ٹیم نے ایک اننگز اور 76 رنز کے بڑے مارجن سے جیت لیا ہے اور اس طرح سیریز ایک ایک سے برابر ہوگئی ہے۔

میچ کے چوتھے روز انگلینڈ کو 134 رنز کی برتری حاصل تھی اور اسے جیت کے لیے آٹھ وکٹیں درکار تھیں۔ مگر کریز پر چیتشور پوجارا اور انڈین کپتان ویرات کوہلی موجود تھے۔

دو وکٹوں کے نقصان پر انڈیا کی باری جب 215 رنز پر دوبارہ شروع ہوئی تو انڈین شائقین کو امید تھی کہ پوجارا اپنی سنچری اور کوہلی اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد انگلینڈ کی برتری ختم کر سکیں گے۔ پہلے روز 78 پر آل آؤٹ ہونے کے بعد انڈیا کے لیے یہ واحد امید تھی۔

لیکن اولی رابنسن نے بڑی مہارت سے دوسری نئی گینڈ استعمال کرتے ہوئے صبح کے سیشن میں ہی اپنی پانچ وکٹیں مکمل کر لیں اور اس طرح انڈیا کی ٹیم کھانے کے وقفے میں 15 منٹ قبل 278 پر آل آؤٹ ہوگئی۔

اولی رابنسن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

اولی رابنسن

یہ کپتان جو روٹ کی انگلینڈ کے لیے 27ویں فتح تھی اور انھیں یہ اعزاز اپنے ہوم کراؤڈ کے سامنے حاصل ہوا۔

پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا چوتھا میچ اوول میں جمعرات کو شروع ہوگا۔ جبکہ یہ سیریز 10 ستمبر کو اختتام پذیر ہوگی۔

پہلی اننگز میں انڈیا کی مایوس کن بیٹنگ

ہیڈنگلے میں اس میچ کا آغاز انڈین کپتان ویرات کوہلی کے ٹاس جیت کر بیٹنگ کے فیصلے سے ہوا جو صحیح ثابت نہ ہوسکا جب پوری ٹیم 78 پر آؤٹ ہوگئی۔

ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر جیمز اینڈرسن کے لیے یہ باری کافی یادگار رہے گی کیونکہ ان کی تین وکٹوں کی بدولت انڈیا کی ٹیم دباؤ میں آئی تھی۔

اینڈرسن

،تصویر کا ذریعہReuters

اینڈرسن نے انڈیا کے محض 21 رنز پر اوپنر کے آر راہل، پوجارا اور کوہلی جیسی وکٹیں حاصل کیں جو انتہائی اہم ثابت ہوئیں۔ کریگ اوورٹن نے بھی تین جبکہ اولی رابنسن اور سیم کرن نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

اس طرح یہ میچ پہلے روز ہی یکطرفہ بن گیا اور انگلینڈ کی بیٹنگ میں بھی اچھی کارکردگی سے انڈیا کے واپسی کے امکانات کم ہوتے چلے گئے۔

اوپنرز روری برنز اور حسیب حمید کی نصف سنچریوں اور پھر انگلش کپتان جو روٹ کی سنچری کے بعد انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 432 رنز بنائے۔ اس میں ڈیوڈ مالان نے بھی 70 رنز کی باری کھیلی۔

محمد شامی نے چار وکٹیں حاصل کیں مگر ان سمیت تمام انڈین بولرز انگلینڈ کی برتری کو محدود کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ یوں انگلینڈ کو 354 رنز کی برتری حاصل ہوگئی جو دوسری اننگز میں انڈیا کے لیے کسی پہاڑ سے کم نہ تھی۔

جو روٹ

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشن

جو روٹ

دوسری اننگز میں انڈیا کے بلے بازوں کو جب دوسرا موقع ملا تو روہت شرما نے پہلے ایک نصف سنچری کے ساتھ مزاحمت دکھائی اور اس کے بعد چیتشور پوجارا سنچری کے قریب پہنچے۔

کپتان ویرات کوہلی 55 رنز کے ساتھ ٹیم کا سہارا بنے مگر ان تینوں کو اپنا چوتھا ٹیسٹ کھیلنے والے نوجوان اولی رابنسن نے آؤٹ کیا اور اپنی پانچ وکٹیں مکمل کیں۔

دونوں اننگز میں کل سات وکٹیں حاصل کرنے والے اولی رابنسن میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

میچ کے اختتام پر کوہلی سے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے پر سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس پر کوئی افسوس نہیں۔ ’ایسا لگ رہا تھا کہ پِچ بیٹنگ کے لیے بہت اچھی رہے گی۔ لیکن جب انگلینڈ کی بیٹنگ شروع ہوئی تو صورتحال بدل چکی تھی اور ہم نے اتنی اچھی بولنگ نہیں کی۔‘

کوہلی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

ویرات کوہلی

کوہلی نے انگلش بولرز کی تعریف کی جنھوں نے ان کے مطابق انڈین بلے بازوں پر دباؤ برقرار رکھا۔

’بہترین ٹیموں کی کارکردگی اتنی غیر متوقع نہیں ہوتی‘

انگلینڈ اور انڈیا کے درمیان یہ ٹیسٹ سیریز سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جس میں پہلا میچ ڈرا ہوا، دوسرا انڈیا نے اپنے نام کیا اور اب انگلینڈ نے اس جیت کے ساتھ سیریز میں زبردست واپسی کی ہے۔

ایسے میں صارفین کپتان کوہلی کی کارکردگی، انڈیا کی عدم مستقل مزاجی اور بعض سینیئر کرکٹرز کے بغیر انگلینڈ کی نوجوان ٹیم پر بات کر رہے ہیں۔

کوہلی

،تصویر کا ذریعہTWITTER

ساج صادق کہتے ہیں کہ ’ویرات کوہلی نے انڈیا کے لیے آخری سنچری 23 نومبر 2019 میں بنائی تھی (644 دن اور 52 اننگز قبل)۔‘

اس دوران انڈین فینز کوہلی کی 71ویں سنچری کا کافی دیر سے انتظار کر رہے ہیں۔

اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے ڈینیئل الیگزینڈر سب کو یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ کوہلی کی سنچری کو کتنا وقت گزر چکا ہے۔ وہ اس کی مثال کچھ یوں دیتے ہیں کہ ’آخری بار جب کوہلی نے بین الاقوامی کرکٹ میں سنچری بنائی تھی تو اس وقت کووڈ کا ایک کیس بھی نہیں تھا۔‘

ایاز میمن، جو ٹوئٹر پر ’کرکٹ والا‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے ایک پیغام میں انڈین ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عظیم ٹیموں کی کارکردگی اتنی غیر متوقع نہیں ہوتی اور اس میں اتنے اتار چڑھاؤ نہیں ہونے چاہیے۔

خیال رہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ کے مطابق انڈیا کی ٹیم اس وقت دوسرے نمبر پر ہے جبکہ انگلینڈ چوتھے نمبر پر ہے۔

کرکٹ والا

،تصویر کا ذریعہTWITTER

اس میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے فضل عباس نے اسے ’انگلینڈ کی بڑی فتح‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں انڈیا کے لیے ایک اہم سبق ہے۔ ’انھیں انڈیا سے باہر کھیلنے کے لیے بھی تیاری کرنی چاہیے۔‘

سابق انگلش کپتان مائیکل وون کا کہنا تھا کہ انڈیا کو یہ چند دن بھولنے ہوں گے جن میں ان کی کارکردگی ’بیکار‘ تھی۔

سرانگ بھالے راؤ سب کو یہ یاد کرانا چاہتے ہیں کہ انگلینڈ کے پاس اس میچ میں براڈ، آرچر، ووکس، ووڈ اور سٹوکس جیسے تجربہ کار کرکٹرز نہیں تھے۔

وون

،تصویر کا ذریعہTWITTER

سابق انڈین بلے باز وی وی ایس لکشمن کہتے ہیں کہ ’ انگلینڈ نے بہترین کارکردگی دکھائی اور وہ جیت کے مستحق تھے۔ انڈیا کو پہلے روز اور آج اپنی بیٹنگ پر افسوس ہوگا۔

’لیکن میں سمجھتا ہوں اگلے ٹیسٹ میں انڈیا مضبوط انداز میں واپسی کرے گا۔‘



Source link

Leave a Reply