انڈین ریاست کرناٹک میں حجاب پر پابندی کا تنازع: عدالت کے فیصلے سے قبل ہی ریاستی حکومت کا یونیفارم کو لازمی قرار دینے کا حکم نامہ جاری

  • مرزا اے بی بیگ اور عمران قریشی
  • نئی دہلی اور بنگلور سے

43 منٹ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا میں حجاب سے متعلق جاری تنازعے کے دوران جنوبی ریاست کرناٹک کی حکومت نے یونیورسٹی، کالجوں میں یونیفارم کو لازمی قرار دینے کا نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔

ریاست میں گذشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے کئی کالجوں میں حجاب پر طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان اختلاف ہے لیکن گذشتہ دنوں اس میں نئی چیز یہ دیکھنے میں آئی کہ ایک طبقے کی جانب سے حجاب کا مقابلہ زعفرانی شالوں سے کیا جا رہا ہے جو سماج کے مذہبی خطوط پر منقسم ہونے کا غماز ہے۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثہ جاری ہے یہاں تک کہ انڈیا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے گذشتہ روز ٹویٹ کیا کہ ’طالبات کے حجاب کو ان کی تعلیم کے درمیان لانے کا مطلب انڈیا کی بیٹیوں کے مستقبل پر ڈاکہ زنی ہے۔‘

ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ حجاب کی مخالفت بند کی جانی چاہیے جبکہ سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے منقسم ہے۔

دلی میں قائم معروف تعلیم ادارے جے این یو کے سابق وائس چانسلر ایم جگدیش کمار نے انڈین ایکسپریس میں آج کے دن شائع ایک انٹرویو میں کرناٹک کے حجاب کے معاملے کا براہ راست ذکر تو نہیں کیا لیکن انھوں نے کہا کہ جب وہ جے این یو میں تھے تو کبھی بھی طلبہ و طالبات کے لباس سے متعلق کوئی بھی پابندی نہیں تھی۔

دلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق پروفیسر اور مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر پروفیسر اختر الواسع نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حجاب کے معاملے کو طول دینا دراصل ایک خاص طبقے کو نشانہ بنانا ہے۔‘

کالج میں حجاب کا تنازع

،تصویر کا ذریعہUMESH MARPALLY/BBC

انھوں نے کہا کہ کھانا اور لباس انسان کی انفرادی آزادی کا حصہ ہے جو آئین ہند تمام شہریوں کو فراہم کرتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’انڈیا میں سر کا ڈھانپنا، گھونگھٹ لینا مشترکہ سماجی کلچر کا حصہ رہا ہے اور اس کے خلاف کوئی قدم نہ صرف ہندوستانی سماج کے خلاف ہے بلکہ دنیا میں انڈیا کو بدنام کرنے کی بھی کوشش ہے۔‘

بہرحال ریاست میں برسراقتدار بی جے پی حکومت کی جانب سے یہ حکم کرناٹک ہائیکورٹ میں معاملے کی سماعت سے پہلے آیا۔ اس معاملے پر سماعت تین دن بعد دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔

ریاست کے کچھ کالجوں میں مسلم طالبات کو حجاب پہننے سے روکے جانے کے بعد ہائیکورٹ میں دو درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔

ان میں کہا گیا ہے کہ انھیں حجاب پہننے سے نہیں روکا جا سکتا کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے جو انڈیا کا آئین انھیں فراہم کرتا ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@RahulGandhi

حکومتی حکم نامے میں کیا کہا گیا؟

یونیفارم کے متعلق ریاستی حکومت کی طرف سے جاری حکم نامے کے مطابق سرکاری تعلیمی اداروں کی کالج ڈیویلپمنٹ کمیٹیاں طے کر سکتی ہیں کہ یونیفارم کیسا ہو گا۔ پرائیویٹ ادارے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کالجوں میں یونیفارم ضروری ہے یا نہیں۔

کرناٹک میں انٹرمیڈیٹ تعلیم کے وزیر بی سی ناگیش نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’ہم نے اس معاملے پر ایک میٹنگ کی تھی۔ ہمارے مؤقف کو ایڈوکیٹ جنرل ہائیکورٹ میں پیش کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سب سے پہلے، کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ کے قاعدہ نمبر 11 میں یہ واضح ہے کہ ہر ادارے کو طلبا کے لیے یونیفارم طے کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ دوسرے ممبئی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں میں پہلے ہی یہ کہا گیا ہے کہ سکول یونیفارم کے ساتھ کیا پہنا جا سکتا ہے اور کیا نہیں پہنا جا سکتا ہے۔‘

اس فیصلے میں کیرالہ ہائیکورٹ کے جسٹس اے محمد مشتاق کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے۔

’سپریم کورٹ نے، آشا رنجن وغیرہ بمقابلہ بہار حکومت میں بیلنس ٹیسٹ کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ جب حقوق کے درمیان مقابلہ ہو تو عوامی مفاد کو نجی مفاد پر ترجیح دی جانی چاہیے۔‘

کالج میں زعفرانی شال اور سٹالز

،تصویر کا ذریعہUMESH MARPALLY/BBC

فیصلے میں کہا گیا کہ ’طلبا اور اداروں کے درمیان ایسے معاملات کو ذاتی مفاد پر عوامی مفاد کو رکھ کر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔‘

ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے میں یونیفارم سے متعلق ایک کیس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں سکول کے پرنسپل نے ایک طالبہ (فاطمہ حسین سید) کو حجاب پہن کر سکول آنے سے روک دیا تھا۔

بہرحال قانونی جنگ سے علیحدہ حجاب کے خلاف طلبہ و طالبات کا ایک طبقہ سرگرم ہے اور اس کا اظہار گذشتہ دنوں نظر آیا جب طلبہ کے بعد طالبات نے بھی زعفرانی شالیں اور دوپٹے ڈال کر حجاب کے خلاف پیغام دینے کی کوشش کی۔

حال ہی میں کرناٹک کے اوڈوپی ضلع کے ایک کالج میں لڑکیوں کے حجاب کے جواب میں کچھ طالبات زعفرانی شالیں پہن کر آئیں۔ اس کے بعد سنیچر کو لڑکوں نے بھی جلوس کی شکل میں زعفرانی شالیں پہن کر ایک پرائیویٹ کالج میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اوڈوپی ضلع کے کنڈاپور میں واقع بھنڈارکر آرٹس اینڈ سائنس کالج کے طالبات سب سے پہلے ایک بڑے گروپ میں کالج کے گیٹ کے سامنے پہنچیں۔ اس کے بعد وہ ایک جلوس کی شکل میں زعفرانی شال پہنے اس پرائیویٹ کالج میں داخل ہوئیں۔

لیکن ایک اور پرائیویٹ کالج آر این شیٹی کالج میں انتظامی اہلکاروں نے طلبا کو روک کر ان کے بیگ چیک کیے۔ بہت سے طلبا کے پاس زعفرانی شالیں تھیں، جنھیں انھوں نے اتارا۔ عہدیداروں نے طالبات کو، جو حجاب پہننے پر بضد تھیں کالج کیمپس سے نکل جانے کو کہا۔

تنازعے کے بعد کالجوں میں چھٹی کا اعلان

اس تنازعے کے بعد کنڈاپور گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج جیسے کچھ کالجوں نے ہفتہ کو چھٹی کا اعلان کر دیا۔

ویسے تو کچھ پرائیویٹ کالجوں نے پہلے ہی چھٹی کا اعلان کر رکھا تھا۔ یہ کالج ہفتے کے روز بند تھے۔ بعض نے منگل تک کالج بند رکھنے کا اعلان کیا۔

کنڈاپور سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہلادی سری نواس شیٹی نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’ہمارے تعلق میں، اس حساس معاملے کی وجہ سے چار یا پانچ کالج بند کر دیے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ (ارگا جینیندر) اور ثانوی تعلیم کے وزیر (ناگیش بی سی) نے واضح کیا کہ کالج میں نہ حجاب اور نہ ہی زعفرانی شالوں کی اجازت ہو گی۔‘

ہائیکورٹ میں حجاب کیس کی سماعت

حجاب کیس کی منگل کو کرناٹک ہائیکورٹ میں سماعت ہو گی۔ دراصل اوڈوپی کے گورنمنٹ پی یو کالج فار ویمن کی چھ طالبات نے درخواست دی تھی کہ حجاب پہننا ان کا آئینی حق ہے۔

دریں اثنا اپوزیشن لیڈر سدا رمیا اور جنتا دل (سیکولر) کے صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے حجاب کے مسئلے پر عوامی بحث میں حصہ لیا۔

کالج میں زعفرانی شال اور سٹالز

،تصویر کا ذریعہUMESH MARPALLY/BBC

سدا رمیا نے کہا کہ حکومت لڑکیوں کو حجاب پہننے سے روک کر ان کے تعلیم کے حق کی خلاف ورزی کر رہی ہے تاہم کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار نے ریمارکس دینے میں احتیاط برتی۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کرے گی۔

کمار سوامی نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس کو ’بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ‘ کے نعرے کی جگہ ’بیٹی ہٹاؤ‘ نعرہ لگانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ مسلمان لڑکیوں نے پچھلے چند برسوں سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی لیکن حجاب پر پابندی لگا کر انھیں پڑھنے سے دور کیا جا رہا ہے۔

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ کمارسوامی نے کہا کہ ’میں پہلے والی حالت کو برقرار رکھنا چاہوں گا، جن کالجوں میں گذشتہ چند برسوں کے دوران حجاب کی اجازت دی گئی اسے ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔اور جہاں اس کی اجازت نہیں وہاں اس اصول کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔‘

ریاست اترپردیش کے امروہہ سے رکن پارلیمان کنور دانش علی نے پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے کو اٹھایا۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں اپنے بیان کو پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ایک طرف ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ’ کا نعرہ تو دوسری طرف کرناٹک کے سرکاری سکول میں اقلیتی برادری کی طالبات کو صرف اس لیے تعلیم سے محروم کرنا جرم ہے؟‘



Source link