ایف سی حملہ: عارف علوی کی جانب سے ٹوئٹر پر ورڈل گیم کا سکور پوسٹ کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید

ایک گھنٹہ قبل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ویڈیو گیمز کھیلنا جسمانی صحت کے لیے بہتر ہو نہ ہو، مگر ذہنی استعداد بڑھانے اور وقت گزاری کے لیے ایک بہتر مشغلہ ضرور ہو سکتا ہے۔

مگر کیا ملک میں جاری سکیورٹی صورتحال کے دوران صدرِ پاکستان کا گیم کھیلنا اور اپنا سکور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شیئر کرنا کیا مناسب اقدام ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو پاکستانی ٹوئٹر صارفین صدر عارف علوی سے کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

جمعرات کی صبح جہاں وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کی جانب سے بتایا گیا کہ بدھ کو پنجگور اور نوشکی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کیمپس پر ہونے والے حملوں میں اب تک چار فوجی جوان ہلاک ہو چکے ہیں اور پنجگور میں اب تک آپریشن جاری ہے، تو وہیں صدر عارف علوی نے ٹوئٹر پر مقبول آن لائن گیم ’ورڈل‘ کا اپنا سکور پوسٹ کیا۔

یہ اور بات ہے کہ صارفین کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد انھوں نے اپنی یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی۔

ورڈل گیم صارفین کو چھ کوششوں میں پانچ حرفی لفظ بوجھنے کا چیلنج دیتی ہے۔ اس گیم کی سادگی اور دن میں ایک بار کھیلنے کی حد کی وجہ سے اس نے مارکیٹ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور بظاہر صدر پاکستان بھی اس گیم کو کھیلنے میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

پنجگور اور نوشکی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے دفاتر پر ہونے والے حملوں میں کم از کم چار اہلکاروں کی ہلاکت اور جاری آپریشن کے دوران جب صدر عارف علوی نے اپنا سکور شیئر کیا تو ٹوئٹر صارفین کو یہ بات نہیں بھائی اور لوگ امن و امان کی صورتحال سے لے کر مہنگائی تک پر بات کرتے نظر آئے۔

عارف علوی، ورڈل، نوشکی، بلوچستان، ایف سی

،تصویر کا ذریعہTwitter

شانزے نامی صارف نے صدرِ پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’گیم کھیلنے کے بعد بلوچستان کے حالات پر ایک ٹویٹ کر دیجیے گا پلیز۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’سب کو جینے کا اور انجوائے کرنے کا حق ہے، اس لیے میں نے کہا کہ گیم کھیلنے کے بعد۔‘

عارف علوی، ورڈل، نوشکی، بلوچستان، ایف سی

،تصویر کا ذریعہTwitter

صحافی عبدالجبار ناصر نے لکھا کہ ’صدر مملکت صاحب، گیم سے فرصت ملے تو سربراہِ مملکت کی حیثیت سے ذرا بلوچستان کا جائزہ لیجیے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ وزیرِ داخلہ کہتے ہیں کہ دہشتگردوں کے ساتھ مقابلہ ابھی جاری ہے اور آپ گیم میں مصروف (ہیں)، یعنی روم جل رہا تھا، نیرو بانسری بجا رہا تھا، یہی مطلب آپ کے ٹویٹ سے بھی لیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی آئین کے تحت صدرِ پاکستان کا عہدہ انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ ایک علامتی، سربراہی حیثیت کا عہدہ ہے تاہم ’وفاق کا نمائندہ‘ ہونے کے باعث صدرِ پاکستان تمام مسلح افواج کے آئینی سپریم کمانڈر ہیں۔

معز نامی صارف نے وہ مشہورِ زمانہ میم پوسٹ کیا جس میں ایک بچی پس منظر میں جلتے ہوئے گھر کے ساتھ ایک ذومعنی مسکراہٹ لیے ہوئے ہے۔ اُنھوں نے لکھا کہ ’صدر صاحب، بلوچستان، مہنگائی اور دیگر تمام خراب حالات کے دوران۔‘

عارف علوی، ورڈل، نوشکی، بلوچستان، ایف سی

،تصویر کا ذریعہTwitter

متعدد صارفین کی ناراضی شاید صدر عارف علوی کے گیم کھیلنے پر نہیں بلکہ اس کے لیے وقت کے انتخاب پر تھی۔ فواد مسعود نامی صارف نے لکھا کہ سر مجھے معلوم ہے کہ آپ کے پاس وقت گزاری اور ہلکے موڈ میں ہونے کا حق ہے مگر جب ریاست اور حکومت بلوچستان حملوں پر ٹویٹ کر رہی ہو، تو یہ بدذوقی کا ماحول پیدا کرتی ہے۔ بُرا محسوس ہوا۔

عارف علوی، ورڈل، نوشکی، بلوچستان، ایف سی

،تصویر کا ذریعہTwitter

ڈاکٹر وقاص شبیر نے لکھا کہ ’صدر صاحب، ورڈل کو بھولیں اور بلوچستان کی صورتحال پر اسمبلی کا اجلاس بلائیں۔ وہاں پر دہشتگردی کی بدترین لہر جاری ہے۔ ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے مگر لگتا ہے ہم نے اس سے چشم پوشی کر لی ہے۔‘

ایک صارف نے ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت اور مہنگائی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ’آپ کا اور تو کوئی کام ہوتا نہیں، کم از کم ٹویٹ کرنے میں احتیاط کر لیں۔ یا پھر موبائل کسی بچے کے ہاتھ لگ گیا ہے؟‘

غالباً اُن کا اشارہ اگست 2021 میں صدر عارف علوی کے اکاؤنٹ سے ہونے والی عجیب و غریب ٹویٹس کی جانب تھا جو صرف چند بے معنی حروف اور ایموجیز پر مبنی تھیں۔ بعد میں ان ٹویٹس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا۔

اس صورتحال پر خود عارف علوی کے بیٹے عواب علوی نے بھی ازراہِ مزاح ٹویٹ کی تھی کہ جیب میں پڑے فون سے بے معنی ٹویٹس کے باعث ایک قومی بحران پیدا ہو گیا ہے۔



Source link